Home Unity بھٹو، مفتی محمود، مودودی، نورانی، ولی خان، غوث بزنجو اگر مزارعین کو...

بھٹو، مفتی محمود، مودودی، نورانی، ولی خان، غوث بزنجو اگر مزارعین کو مفت زمین دیتے تو انقلاب آچکا ہوتا

378
0

zulfiqar-bhuto-mufti-mehmood-moulana-moudodi-molana-noorani-wali-khan-ghous-baksh-baznjo-muzaareen-ko-muft-zameen-dete-to-inqalab-aa-chuka-hota

سیاسی قائدین اور رہنما بکتے نہیں تھکتے مگر ان کو پتہ نہیں کہ نظریہ کیا ہے؟۔ کارل مارکس کی کتاب ’’کیپٹل داس‘‘ نے بڑا انقلاب برپا کردیا ۔ اس میں ’’قدر زاید‘‘ کی بات ہے۔ ایک مزدور جتنی محنت کرے اور کسی باصلاحیت ڈاکٹر، کمپیوٹر اسپشلسٹ اورکاریگر وغیرہ میں صلاحیت ہوتی ہے ، ان میں یہ شعور اجاگر کرنا کہ تمہاری محنت و صلاحیت کا فائدہ سرمایہ دار اٹھالیتاہے اور تمہارے ساتھ یہ بڑا ظلم ہے۔ مثلاًٹھیکدار بلڈنگ ٹھیکہ پر لیکر 10کروڑ لگا کر ایک کروڑ کمائے ۔ مزدور اور کاریگروں کو سمجھایا جائے کہ اس نے پیسوں سے تمہاراحق چھین لیاتو اس سے بچنے کا علاج مُلا نہیں بتاتا ہے۔وہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کی بات کرے لیکن سرمایہ دار نے جو رقم وصول کرلی، اس کو جائز کہتا ہے۔ سود صرف قرض میں نہیں بلکہ نقد میں بھی ہے۔ محنت کش و باصلاحیت عوام کو دنیا میں سرمایہ داروں نے غلام بنایا۔ آزادی کیلئے کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظام کو سمجھنا پڑیگا۔ جب سب کچھ سرکاری ہوگا تو محنت کش کو درست صلہ ملے گا، دنیا میں امن وسکون قائم ہوگا اور انسانیت کی بھلائی کے سب کام ہونگے۔ بڑے مخلص لوگ اس نظریہ کیلئے خود کو وقف کردیتے تھے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما اور ملک کی سیاست کا بڑا اثاثہ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ’’ ہمارے ہاں جب تک بڑی بڑی گاڑیوں میں نہیں جاؤگے تو سائیکل ، موٹر سائیکل اور بیل پر سوار ہوکر جاؤگے توپھر کوئی بھی ووٹ نہ دیگا‘‘۔پہلی مرتبہ بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی کے بعد آئی تھی تو لینڈ کروزر متعارف کرایا تھا، اسلئے عوام نے 1988ء کے الیکشن میں جتوا دیا تھا۔ حبیب جالب نے بھی گایا : ’’ ڈرتے ہیں بندوق والے اِک نہتی لڑکی سے ‘‘۔ پھر ISIنے نوازشریف و دیگر میں رقوم بانٹ کر1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت قائم کی۔ نوازشریف اور شہبازشریف نے ڈٹ کر پیسہ کمایا۔ کرپشن پر برطرفی ہوئی۔1993ء میں پھر پیپلزپارٹی آئی۔ لندن فلیٹ و منی لاندرنگ کی کہانی اسوقت سے چل رہی ہے۔ رحمن ملک فرشتہ کو پتہ تھا کہ مریم نواز کے نام پر سعودیہ اور دوبئی کی پراپرٹی بھیج کر فلیٹ خرید لیں گے۔ نوازشریف پارلیمنٹ کی تقریر میں کہے گا کہ 2006ءکو فلیٹ خریدے گئے اور 2011ءمیں مریم نواز جیو نیوز ثناء بچہ کے پروگرام میں کہے گی کہ’’ میری کوئی جائیداد نہیں ، اپنے والد کے پاس رہتی ہوں ، پتہ نہیں میری اور میرے بھائیوں کی کہاں سے یہ لوگ جائیداد نکال کر لائے ‘‘۔ جبکہ حسین نواز کہے گا کہ الحمدللہ لندن کے فلیٹ میرے ہیں ، اپنا کاروبار کرتاہوں، میری والدہ کے نام پر بھی بیرون ملک جائیداد ہے اور اس کا حساب میں میڈیا پر نہیں عدالت کو جاکر بتادوں گا۔ (میڈیا ریکارڈ)
لاہور میں 10لاکھ کی جگہ پر تحریک انصاف کے علیم خان اور سپیکر ایاز صادق کے درمیان الیکشن ہوا تو 50،50کروڑکی رقم لگائی گئی اور جہانگیر ترین نے ایک ارب روپیہ لگادیا۔ اب یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ تحریکِ انصاف کے عمران خان ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسوں میں جائیگا اسلئے الیکشن میں اسی کو مزہ آئیگا۔اس کو جلدی بھی اسی لئے ہے۔ جسکے پاس پیسہ خرچ کرنے والوں کی اکثریت ہوتی ہے وہی الیکشن جیت جاتی ہے۔ پیسہ خرچ کرنے والا غریب اور نظریاتی نہیں بلکہ استحصالی طبقہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سیاست کو تجارت بنالیاگیا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی پیسوں کیلئے چھوٹے بڑے پیمانے پر بک جاتی ہے۔ جہاں سے پیسہ ملتاہے انہی کو سپورٹ کیا جاتاہے۔ کاروبارِ مملکت کے بڑے حصے کو سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی کھاتی ہے اسلئے مہروں کی تلاش جاری رہتی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر جس طرح طالبان کے نام سے عالمی قوتوں نے حکومت کا لالی پاپ دیکر علماء کرام کو ورغلایا تھا ،اسی طرح پاکستان کو بھی صرف استعمال کیا گیا مگر حقیقی نظرئیے کا یہاں کوئی نام ونشان نہیں تھا۔
قائداعظم محمد علی جناح بھی پہلے کانگریس میں تھے مگر ہندو تعصب نے مسلم لیگ کی طرف دھکیل دیا۔ کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ انگریزوں کی دی ہوئی جاگیروں کو ضبط کرلیا جائیگا۔ نوابوں، خانوں اور سول بیروکریسی نے پاکستان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا تو فوج نے اس پر قبضہ کرلیا۔ بھٹو کی عوامی قیادت بھی اسکے ڈیڈی ایوب خان کی مرہون منت تھی اور نوازشریف بھی جنرل ضیاء کی پیداوار ہیں۔ تحریک انصاف کا ناطہ بھی امپائر کی انگلی سے گھومتا ہے۔ اگر منظرنامہ بدل جائے تو شیخ رشید کہے گا کہ ’’عمران خان جیسا بیکار انسان میں نے نہیں دیکھا، خیبر پختونخواہ کی عوام کو پنجاب میں داخلے پر خوب پٹھوادیا مگر بڑی دہائیاں دینے کے بعد بھی عمران خان خود بنی گالہ کے پہاڑی سے نیچے نہیں اُترا۔ پاک فوج ضرب عضب کے سب سے مشکل آپریشن میں مشغول تھی اور عمران خان بے شرم ، بے غیرت اور ذلیل آدمی ایک طرف امپائر کی انگلی اٹھنی کی بات کر رہا تھا تو دوسری طرف پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالہ کرنے کی بات سے بھی نہیں شرماتا تھا۔ عائشہ گلالئی ایک عورت ذات ہے اور اس نے عمران خان پر سنگین الزامات لگادئیے لیکن پھر بھی اسکے خلاف الیکشن کمیشن میں جارہاہے کہ اس نے شیخ رشید کو وزیراعظم کے الیکشن میں ووٹ نہیں دیا مگر خود نامزد کردیا اور پھر بھی عمران خان اور جہانگیرترین نے ووٹ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ عمران خان کا لیڈر بننا قیامت کی نشانی ہے‘‘۔
پاکستان کو اسلامی نظریہ دینے کی ضرورت ہے۔ زمین کی جائز ملکیت سے کمیونسٹ منع کرتے ہیں مگر اسلام منع نہیں کرتا۔ البتہ اسلام زمین کو مزارعت، بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر دینے کو منع کرتاہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’ زمین کو خود کاشت کرو، یا جس کو کاشت کیلئے دو ، پوری محنت کاصلہ بھی اسی کا ہے‘‘۔ ابوحنیفہؒ ، مالکؒ اورشافعیؒ سب متفق تھے کہ نبیﷺ نے اس کو سود قرار دیا ہے اسلئے مزارعت جائز نہیں ۔ آج نوازشریف، شہبازشریف، آصف علی زرداری، شاہ محمود قرشی، مولانا فضل الرحمن، شیخ رشید، پرویزمشرف، جنرل اشفاق کیانی، افتخارمحمد چوہدری، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن ، عمران خان، جہانگیر ترین اور دیگر تمام مذہبی وسیاسی رہنماؤں کو اپنے بال بچوں سمیت مفت میں زمین دی جائے کہ خود ہی کاشت کرو، سب محنت تمہاری ہے، پھر بھی وہ اپنے لئے جیل جانا پسند کرینگے مگر کاشتکاری کی محنت نہ کرینگے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ہوگا ۔ انشاء اللہ
اگر مزارعین کو کاشت کیلئے مفت میں زمینیں دی جائیں تو وہ اس سے زیادہ اور بڑی بادشاہی نہیں مانگیں گے۔ غلامی سے ان کو نجات مل جائے گی۔ اپنی محنت سے آزاد زندگی گزارینگے تو اپنی روٹی، کپڑا اور مکان کا بھی خود بندوبست کرلیں گے۔ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے قابل بن جائیں گے تو وہاں سے بہت صلاحیت والی قیادت بھی ہر میدان میں قوم کے پاس آئے گی۔ قابل ڈاکٹر، قابل عالمِ دین، قابل سیاسی قائدین اپنے ملک کا نام روشن کرسکیں گے۔ بلاول بھٹوزرداری ، حسین وحسن نواز اور بڑے لوگوں کی نالائق اولاد اپنے قوم کے سر نہیں لگے گی۔ جنکے اندر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے باوجود کوئی صلاحیت آئی ہے اور نہ آسکتی ہے۔ ان موٹے تازے لوگوں سے زمینوں کی کاشت کاری کا کام لیا جائے تو ان کی صحت بھی بنے گی اور کچھ نہ کچھ دماغ بھی کام کرنے کے قابل بنے گا۔
جب زمین کاشت کرنے کا اچھا معاوضہ ملے گا تو مزدور کی دھاڑی بھی مارکیٹ میں خود بخود بڑھ جائے گی۔ شہروں کا باصلاحیت طبقہ بیروزگاری کے سبب لوٹ ماراور ورادتوں میں ملوث ہونے کے بجائے دیہاتی بچوں کو پڑھانے جائیگا۔ جاہل طبقہ زمین کاشت کرنے کا رخ کریگا۔ تعلیمی اداروں کا خواب پورا کرنے کیلئے چندوں کی ضرورت نہ پڑیگی۔ لوگ خود تعلیم پر خرچہ کرینگے۔ تعلیم سب سے زیادہ باعزت اور باوقار پیشہ بن جائیگا تو ایک بہترین نصاب تعلیم اور اچھے تعلیمی اداروں کا قیام بھی عمل میں آئیگا۔ دنیا روزگار کی تلاش میں یہاں آئیگی تو امن وامان کے گہوارے پاکستان میں دنیا بھر سے لوگ یہاں سرمایہ کاری بھی کرینگے۔ پاکستان انقلاب کا تقاضہ کررہاہے۔
اتنی موٹی سی بات سمجھنے میں دشواری نہیں کہ جوجاگیردار و سرمایہ دار ، سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ کے افسران اور سیاستدان یہ نہیں چاہتے کہ وہ مفت میں زمین لیکر خود اور اپنے بچوں کو اس کام پر لگادیں۔ خدارا، دوسرے لوگوں کیلئے اتنا ضرور کریں کہ وہ اپنے بچوں سمیت اس کو بادشاہی پرسمجھ کر خوش ہوجائیں۔ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ جو کمائی اپنے لئے سخت سزا لگتی ہو اور یہ سزا دوسرے کیلئے نعمت ہو،تب بھی اسکا رائج کرنا منظور نہ ہو؟۔ 2018ء کے انتخابات کیلئے حدیث اور ائمہ کے متفقہ مسلک کو بنیاد پر مزارعت کا نظام ختم کیا جائے توبڑا انقلاب آجائیگا۔ نظریاتی سیاست کی بڑی بنیاد یہی ہوسکتی ہے۔
جب پاکستان کی فضاؤں سے غلامانہ غیر اسلامی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی تو غیرمسلم بھی پکار اُٹھیں گے کہ دنیا بھر کی زمین میں تمام انسانیت کو ایسا نظامِ حکومت چاہیے۔ اسلام نے مسلمانوں پر زکوٰۃ اور غیرمسلموں پر ٹیکس کا نظام رائج کردیا تھا۔ نفع ونقصان کی بنیاد پر سود کے بغیر زبردست تجارت ہوسکتی ہے اور اب دنیا اسکی طرف آرہی ہے تو ہم نے زیادہ سے زیادہ سود کو اسلامی بینکاری کا نام دیدیا ہے۔ اگر ائمہ اجل کے مؤقف سے انحراف نہ کیا جاتا تو روس اور امریکہ دونوں اسلامی حکومت کے دروازے پر ڈھیر رہتے۔ اسلامی نظام میں تحریف کے سبب ایک طرف روس نے کمیونزم اور دوسری طرف امریکہ نے کیپٹل ازم کے اندر دنیا کو جکڑ لیا اور ہم دوسروں کے ہاتھوں میں بری طرح استعمال ہوگئے ۔ ہم نے لیفٹ رائٹ کے چکر سے نکل کر عدل واعتدال کی راہ صراط مستقیم پر چلنے کی قسم کھانی ہے۔
سیاسی نظریہ دینا فوج کا کام نہیں، اس نے اپنی ڈیوٹی کے وقت اپنی نوکری کرنی ہے۔ نظریاتی آدمی پہلے فوج میں جانہیں سکتا اور اگر جائے بھی تو فوج کیلئے شرمندگی کا باعث بنتاہے۔ البتہ قحط الرجال میں جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور پرویز مشرف بھی نظریاتی گئے۔ اگر فوج کسی جماعت، تنظیم ، پارٹی اورتحریک کی ماسٹر مائنڈ ہو تو پھر بہتر ہے کہ وہ کسی کٹھ پتلی اور جعلی قیادت کے بجائے خود ہی اقتدار پر قبضہ کرکے بیٹھ جائے۔ المیہ یہ ہے کہ کوئی نظریاتی انسان پیدا نہیں ہوا، ورنہ وہ کسی کیلئے کام کرنے کے بجائے سب کو اپنے نظریہ پر لگانے کی صلاحیت رکھتاہے۔ ہماری عوام کو یہ پتہ بھی نہیں کہ قائداعظم نے کوئی بھی نظریہ ایجاد نہیں کیا تھا بلکہ جب انگریز یہاں سے جارہاتھا تو اس سوچ کی مخلصانہ قیادت کی تھی کہ دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنا چاہیے۔ مشرقی پاکستان کی آبادی ہم سے زیادہ تھی اور اردو زبان ہندوستان سے آنیوالے مسلمانوں کی زبان تھی جس کو آج الیکٹرانک میڈیا کی بدولت پاکستان کی اکثریت سمجھ رہی ہے۔ قائداعظم کو خود بھی اردو نہیں آتی تھی۔ بنگلہ دیش نے ہم سے آزادی حاصل کرلی اور اپنے پڑوسی ممالک ایران و افغانستان سے ہمارے تعلقات کبھی شاندار نہیں رہے تو دوقومی نظریہ بھی عملی طور سے دفن ہوگیاہے۔ اسلام قوم نہیں بلکہ نظریہ ہے اور نظریہ بھی ایسا ہے جو انسانیت کیلئے بھی قبول ہوسکتاہے۔
ایک ہوں مسلم ہوں حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
اسلام پاکستانی قومیت کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینے کی لعنت کا نام نہیں اور نہ دوسروں کیلئے آلۂ کار کے طور پر استعمال ہونے کا نام اسلام ہے۔ ہاں ہم مختصر اسٹیبلشمنٹ سے آزاد نہ ہوسکے تو متحدہ ہندوستان میں رہ کر کونسا تیر مارتے؟۔
پاکستان کی سرزمین، پاکستان کی عوام، پاکستان کی فوج، پاکستان کی سول بیوروکریسی، پاکستان کے علماء ومفتیان بہت اچھے اور شاندار لوگ ہیں۔ یہ ان کی اچھائی کی مضبوط دلیل ہے کہ یہاں نظریات اور عقائد پر کوئی پابندی نہیں۔ جب کسی نے اچھا نظریہ پیش نہیں کیا۔ اسلام کو طلاق اور حلالہ کا پیش خیمہ بنادیا تو کون پاگل مزید اس کی تلاش اور تگ ودو میں اپنا وقت ضائع کرتا؟۔ ایوب خان نے عائلی قوانین بنائے تھے تو اس کو اسلام کے خلاف سازش کانام دیا گیا تھا۔قرآن وسنت پر کسی فرقے ، مسلک اور جماعت کا اتحاد ہی نہیں ، بس پیٹ کے جہنم کو بھرتے بھرتے مذہبی طبقے کی زندگی ایکدوسرے کی دشمنی میں گزر جاتی ہے اور عوام کہتے ہیں کہ یہ دینداری، یہ تعصب اور یہ جاہلانہ طرزِ عمل تمہی کو مبارک ہو۔ مولوی خود بھی زمینداروں اور سرمایہ داروں کے ہاں چندوں کے وصول کیلئے کمیوں کی طرح رہتے ہیں۔ مجلس عمل کی حکومت آئی تھی اور علماء سے اسمبلی بھری ہوئی تھی مگرمذہبی جماعتوں نے وزیراعلیٰ اکرم درانی بنادیا تھا۔
اسلام کا ہتھیار کے طور پرذاتی مقاصد کیلئے استعمال بہت بُرا ہے۔ مولوی نے سمجھ رکھاہے کہ دنیا میں ویسے بھی اسلام نہیں آسکتا تو مسلکی تعصب کے نام پر اپنی قسمت بنالو۔ جس طرح پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر اسلام نہ آیا۔ طالبان کی حکومت نے اسلام کیا انسانیت کا بھی بیڑہ غرق کیا اور ایران کے اسلامی انقلاب نے کوئی تاثیر نہیں دکھائی ،دوسرے ممالک میں زیادہ پیسہ خرچ کرکے دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی اور سعودیہ نے دوسروں کو اپنے حق حلال کمائی سے بھی جب چاہا، محروم کردیا اور کوئی بھی ایسا اسلامی ملک نہیں جہاں اسلامی نظام قائم ہو۔
اسلام کے نام پر اسلام آباد اور اقتدار چاہیے تو اسلام کے نام کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ اقتدار یزید کے پاس ہو لیکن اسلام کے مضبوط اقتصادی اور معاشرتی نظام سے دنیا بھر میں زبردست پذیرائی مل سکتی ہے۔ وقت کی سپر طاقتوں روم وفارس کو اسلامی افواج نے شکست اسلئے نہیں دی تھی کہ عرب اور مسلمان بڑے بہادر تھے بلکہ اسلامی نظام کی حیثیت ایسی تھی جس کو دنیا کی عوام میں پذیرائی مل رہی تھی۔
آج دنیا سے مزارعت اور سودی نظام کا خاتمہ کرنے کیلئے پاکستان سے ابتداء ہوجاتی ہے تو روس، چین ، یورپ، امریکہ، چاپان، آسٹریلیا اور دنیا بھر کے مسلم وغیرمسلم ممالک ہمارا نظام اپنے ہاں بھی رائج کردینگے۔ کارل مارکس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ’’ قومی حکومت ہو اور محنت و صلاحیت کی بنیاد پر سب اپنا اپنا کمائیں اور کھائیں۔ دوسرا یہ کہ لوگ کمائیں اپنی محنت اور صلاحیت کے مطابق لیکن پیسے اپنی ضرورت کے مطابق لیں‘‘۔ اسلام نے مذہبی روح کے مطابق ایمان، انسانیت اور آخرت کا جذبہ اجاگر کرکے اعلیٰ ترین حکومت کی مثال قائم کردی۔ ابوبکرؓ نے خلافت کا منصب سنبھالا تو تجارت کیلئے نکلے، ساتھیوں نے کہا کہ معقول معاوضہ مقرر کردیتے ہیں اسلئے کہ حکومت پر مکمل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب کافی عرصہ ہوا، اور گزارے کے قابل وظیفہ پر عمل ہورہاتھا تو بیگم صاحبہؓ نے ایک دن کچھ میٹھا سامنے رکھ دیا اور کہا کہ روزانہ تھوڑی تھوڑی بچت سے اس کی گنجائش نکلی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ وہ مٹھائی لیکر گئے اور اتنا وظیفہ بھی کم کیا جتنی بچت کرکے میٹھا بنایا تھا۔ عمرؓکا دور آیا تو حضرت عمرؓ نے اپنے لئے درمیانہ درجے کا وظیفہ مقرر فرمایا۔
جدید ریاستی نظام اور اقوام متحدہ کی سربراہی نے اقوام عالم اور انسانیت کے مسائل کا کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکالا ہے۔ قرآن نے ایک قائدہ بتایا ہے کہ ’’ جوچیزانسانیت کیلئے نفع بخش ہوتو وہ زمین میں ٹھکانہ بنالیتی ہے اور باقی جھاگ کی طرح خشک ہوجاتی ہے‘‘۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’ بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کو نفع پہنچائیں‘‘۔ جدید علوم قرآن وسنت ہی کا تقاضہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں پر انسان کو علم کی وجہ سے بلند درجہ دیا اور اس کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ اللہ نے فرمایا:’’ اللہ کے پاس ساعۃ کا علم ہے، وہ بارش برساتاہے، اور جانتا ہے جو کچھ ارحام میں ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا حاصل کریگا اور کس زمین پر وہ مریگا‘‘۔ حدیث میں ہے کہ ’’یہ پانچ غیب کی چابیاں ہیں‘‘۔
ان پانچ چیزوں میں پہلی 3چیزوں کی اللہ نے دوسروں کی نفی نہیں کی ۔ پہلی چیز ساعۃ کا علم ہے۔ عربی میں وقت اور اس کی اکائی کو بھی ساعۃ کہتے ہیں اور قیامت کے دن کو بھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس سے قیامت مراد لی جائے تو پھر اس کا تعلق قرآن میں بیان کردہ چوتھی چیز سے ہوگا۔ کل کے علم کی اللہ نے نفی کردی ۔ عربی میں گھنٹہ،لمحہ کو بھی ساعۃ کہتے ہیں مگراس کا اطلاق کل پر نہیں ہوتا ۔ گویا دونوں باتیں بھی الگ الگ ہیں اور نبیﷺ نے ساعہ کو غیب کی چابی کیوں قرار دیا؟۔معراج کا سفر جس ساعہ(لمحہ) میں طے ہوا، اور اللہ نے سورۂ معارج میں فرشتوں اور جبریل کے چڑھنے کے سفر کی مقدارایک دن کے مقابلے میں 50ہزار سال قرار دی ہے تو غیب کی چابی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ ایک عرصہ تک علماء کے اندر بھی اختلاف رہا کہ سفر روحانی تھا یا جسمانی؟۔ اب بھی پڑھے لکھے جاہل سفر معراج کو خواب قرار دیتے ہیں۔
سرسید احمد خان، غلام پرویز اور جاوید غامدی جیسے لوگوں کو چاہیے تھا کہ معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کا دریافت کردہ نظریۂ اضافیت ہی دیکھ لیتے، جس میں تیزرفتاری کے بعد وقت کی پیمائش کا پیمانہ ریاضی کے طے شدہ اصول کے تحت بدل جاتاہے۔ قرآن وسنت کی تفسیر زمانہ نے بقول ابن عباسؓ کردی ہے۔ نظریۂ اضافیت کی سمجھ تک رسائی مشکل ہے تو دن رات کی مثال دیکھ لو جس سے زمین کا محور کے گرد گھومنے کا علم حاصل ہوا اور ماہ وسال کی مثال سمجھ لو، جس سے موسموں، سردی گرمی اور زمین کا سورج کے گرد گھومنے کا علم حاصل ہوا۔ ساعہ کا علم غیب کی چابی وقت نے ثابت کردی ۔ قرآن وسنت واضح تھے۔
قرآن میں دوسری چیز بارش کا برسنا ہے۔ اللہ نے بادلوں کو بھی مسخرات کہا ۔ کائنات کی ہر چیز سورج اور چاند انسان کیلئے مسخر ہیں۔ بارش سے آسمانی بجلی اور برفانی اولے کا تصور تھا تو انسان نے بجلی کو مسخر کرکے اس غیب کی چابی سے نئی دنیا آباد کرلی۔ قرآن میں تیسری چیز ارحام کا علم غیب کی تیسری چابی ہے، اسکی بھی قرآن میں نفی نہیں۔ ارحام کاتصور صرف انسان ، حیوان اور نباتات تک محدود نہیں بلکہ جمادات کے ایٹم بھی اس میں داخل ہیں۔ غیب کی اس چابی نے فارمی حیوان اور نباتات میں بڑا کمال کے علاوہ ایٹمی توانائی اور الیکٹرانک کی دنیاکو بھی آباد کردیاہے۔ اسلام دیگر مذاہب کی طرح سائنسدانوں کیلئے رکاوٹ پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کابہترین معاون ہے۔
آنیوالاکل ترقی وعروج کی نئی خبرلیکر آئے تویہ حقیقت ہے کہ علم وتبدیلی کے کمالات کی کوئی انتہاء نہیں اور آدمی فانی ہے۔
زمین پر محنت کرنیوالے کاشتکار کو محنت کا پورا پورا صلہ ملے تومزدور کی کم زکم دھاڑی بھی دگنی ہوجائیگی۔ پانی کی موٹر کے بارے میں ہارس پاور کا جوتصور ہوتا ہے اگر مزدوری کی ایک ویلو بنائی جائے۔ ترقیاتی دور میں حکومت مزدور کی بنیادی ویلو زیادہ سے زیادہ بڑھاسکتی ہے۔پھر محنت، تجربے و صلاحیت سے کئی گنا زیادہ دھاڑی حاصل کرنے کی مسابقت ہوتی ،جس کی بنیاد پر محنت و صلاحیت میں نکھار پیدا ہوتااور دنیا میں ایکدوسرے سے آگے بڑھنے، انسانیت کی خدمت اور نفع بخش چیزیں بنانے میں ایک مثبت کرداربھی ہوتا ۔ دنیا کی ترقی کیساتھ ساتھ انسانیت بھی ترقی کرتی۔ ایک طرف اشتراکیت کا غیرفطر ی نظام چاروں شانوں چت ہواتو دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام اپنے انجام کو پہنچ رہاہے،اللہ کا نور اسلام فطری ہے۔
اسلام کو اشتراکیت کے خلاف دنیا نے ہتھیار کے طور پر استعمال کرلیا اور اب جب سرمایہ دارانہ نظام کو شدید خطرات کا سامنا ہے تو سودی نظام کو مشرف بہ اسلام کردیا ہے۔ کچھ لوگ نظریاتی بنیاد اور کچھ اپنا ذریعہ معاش سمجھ کر کسی نہ کسی کی پراکسی لڑ رہے ہیں۔جس طرح پاکستان بنانے میں اسلام کا جذبہ کارفرما تھا اور طالبان اسلامی جذبے سے بنے اور ایرانی انقلاب بھی اسلامی جذبے سے بن گیا مگر خود اسلام اجنبیت کا شکار تھا توان لوگوں کے جذبوں کا قصور نہیں تھا بلکہ مولوی، مذہبی طبقے اور عوام کا قصور تھا کہ قرآن کا ترجمہ دیکھ کر اسلامی معاشرت قائم نہ کی۔
پاکستان میں پانی کے بہاؤ سے فائدہ اٹھایا جاتا تو پینے اور زرعی مقاصد کے علاوہ سستی بجلی اور صحت کی حالت بہتر ہوتی ۔ اسٹیبلشمنٹ نے لوہے کے بٹے سے شریف فیملی کو اٹھاکر اقتدار سپرد کردیا جو ساہیوال جیسی زرخیز زمین میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگارہے ہیں ۔محمود خان اچکزئی ایک الیکٹریکل انجنئیر ہیں۔وہ بتاتے کہ آلودگی کے بغیر سستی بجلی پیدا کرنے کا طریقہ کیاہے۔ وزیرصنعت و پیداوار، وزیر پانی وبجلی اور وزیرماحولیات خود اپنے شعبے میں ماہر ہوتے، ایکدوسرے سے ان کا کنکشن ہوتا اور ایک چھوٹی سی سرزمین پاکستان کو ایک گھر کی طرح سمجھا جاتا تو پاکستان اور قوم کی حالت بہتر ہوتی۔
صنعتوں کیلئے کراچی سے گوادر اور بلوچستان کے غیر آباد بنجر علاقوں کو آباد کرنے کی ضرورت تھی اور تیز رفتار ٹرینوں سے آبادیوں کو صنعتی علاقوں سے ملانے میں دشواری نہ تھی۔ پنجاب وسندھ اور پختونخواہ و بلوچستان کے زرخیز علاقوں کو وسیع ڈیموں اور نہری نظام سے آباد کیا جاسکتاہے۔ علماء ومفتیان نے اسلام اور مسلمان کیساتھ بہت برا سلوک روا رکھا اور حکمرانوں اور سیاستدانوں نے نظام اور پاکستان کا برا حال کردیا۔دونوں کو درست راستے پر لایا جائے تو بات بنے گی۔ نام نہاد شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری و نام نہاد مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے اپنی اپنی کتابوں میں رسول ﷺ کی احادیث اور آنیوالے بارہ اماموں کے بارے موجود وضاحتوں میں بدترین خیانت کا ارتکاب کیا۔ حالانکہ اس نقشہ کی وجہ سے اُمت کاعظیم اتحاد عمل میں آسکتاہے۔ جس سے شیعہ گزشتہ لوگوں پر طعن تشنیع بالکل بند کردینگے۔ جب بارہ امام کی احادیث کا کوئی درست جواب نہیں ملتا تو انکے لہجے کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ یہ نقشہ ، قرآن وسنت کے احکام اور مدارس کے نصاب کی درستگی کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک زبردست اسلامی انقلاب برپا ہوگا۔ مزارعت کے جوازاور سود ی نظام کا فتویٰ ہی واپس لینا ہوگا۔علماء ومفتیان کی طرف سے قرآنی و سنت کے مطابق رہنمائی سے مدارس اور مساجد کی قدرومنزلت بڑھ جائے گی اور معاشرے میں اسلامی انقلاب سے پوری دنیا بھی خلافت کا نظام قبول کریگی۔ گیلانی