غامدی صاحب ! آپ مسئلہ طلاق سے متعلق بالکل محکم آیات اور احادیث صحیحہ میں بھی ناکام رہے ہیں۔ جو آپ کا اصل موضوع ہونا چاہیے تھا۔
اس بات کو سمجھیں کہ فتوی اور تصوف کے دو الگ الگ میدان ہیں۔ فتوی فقہی امور سے تعلق رکھتا ہے۔ تصوف کا تعلق روحانیت سے ہے اور فتوی کے اصول سے روحانیت کا مسئلہ جدا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے بچے کو قتل کیا تھا لیکن وہ فتوے کا میدان نہیں ہے۔ تصوف کے بارے میں مفتی کی ٹریننگ نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا دائرہ کار وہاں تک پہنچتا ہے۔ اللہ نے سورہ معارج میں جبریل اور فرشتوں کے ایک دن کی مقدار 50 ہزار سال رکھی ہے۔ اب کوئی سوال کرے کہ اس سفر میں کیا 5 نمازیں فرض ہوں گی؟۔ تو یہ سوال فقہ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ آپ طلاق کے حوالے سے ایک ایک آیت کو خود غور کرکے سمجھ لیں پھر دوسروں کو بھی سمجھائیں تو آپ کو بھی ہدایت مل جائے گی اور آپ کے ساتھیوں کو بھی۔ اسلئے کہ مغز خوری کی جگہ قرآن میں بہت صاف صاف اور سلیس احکام ہیں۔ علماء کرام نے بھی غفلت برت رکھی ہے اور آپ نے تو حد کردی ہے۔ قرآن میں بنی اسرائیل آیت 60 میں اس خواب کا ذکر ہے جو لوگوں کیلئے آزمائش ہے اور شجرہ ملعونہ بھی آزمائش میں شامل ہے۔ آپ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اللہ نے اس میں لوگوں کے گھیرنے کا ذکر کیا ہے؟۔
خواب اور شجرہ ملعونہ کے ذریعے لوگوں کو گھیرنے سے کیا مراد ہے؟۔
اللہ نے اسلام دین حق کو تمام ادیان پر غالب ہونے کی جو خوشخبری دی ہے تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نصب العین ہے۔ نصب العین بھی خواب ہی ہوتا ہے۔ جس طرح حقیقت اور مجاز کے الفاظ اصول فقہ میں معروف ہیں اس طرح خواب میں بھی حقیقت اور مجاز عربی اردو اور دنیا کی ہر زبان میں ہوتا ہے۔ شجرہ نسب بھی ہوتا ہے اور عام شجرہ بھی۔
ایک طرف آپ عربی لغات کے دور ازکار معانی لاکر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش میں خود کو مسخ کر بیٹھے
اور دوسری طرف ضد پکڑی ہوئی ہے کہ قرآن نے خواب قرار دیا ہے۔ اس کو چھوڑ دیں اور سورہ الطلاق اور سورہ بقرہ کی آیات سے لوگوں کو طلاق کا درست مسئلہ بتائیں اور اسلام کے غلبہ کیلئے بنیاد فراہم کریں۔ جس اسلام میں مرد کے الفاظ کی سزا عورت کو ملتی ہو اور بقول آپ کے اس کا اختیار بھی مذہبی طبقہ کے پاس ہو اور سزا بھی حلالہ ہو تو یہ اسلام بھارت کی سرحد بھی پار نہیں کرسکتا ہے۔
لیکن جو اسلام قرآن و سنت اور چاروں إمام اور آئمہ اہل بیت کا ہے جس کو بعد والوں نے مسخ کیا ہے تو اس کو قبول کرنے کیلئے دنیا تیار ہے۔ ایک بھارتی ہندو خاتون نے کہا کہ قرآن میں طلاق کا جو مسئلہ لکھا ہے یہ دنیا کے تمام مذاہب ہندو، سکھ، یہودی، عیسائی اور پوری دنیا کیلئے قبول ہے۔ لیکن شجرہ ملعونہ سے جان چھڑائیں گے تو اسلام کے غلبے کا خواب پورا ہوگا لیکن جن الجھنوں میں آپ لگارہے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اگر اتنا وقت مجھے میڈیا پر مل جاتا تو بڑا انقلاب آچکا ہوتا۔