8عورت مارچ برابری کا حق
مارچ 9, 2026
شوہر اور بیوی کے مساوی حقوق کا قرآن میںتوازن مسلمانوں ، یہودو نصاریٰ اورسب کا بہت بڑاانحراف
ولھن کمثل الذی علیھن بالمعروف ”
اور ان کیلئے بھی وہی حقوق ہیںجو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیں”۔البقرہ آیت:228
شیطان کی مداخلت کا باپ بیٹے سے آغاز
حضرت عمر نے قرآن کے مطابق عورت کو حق دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے انکارکردیا
شیطان کی قرآن کے مطابق رسول اللہۖ کی نیت میں مداخلت کی بہت ہی انوکھی اور باریک واردات کی ایک ناقابل تردید مثال
وما ارسلنا من قبلک من رسولٍ ولا نبیٍ الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ
”اور ہم نے آپ سے پہلے کسی رسول اور نبی کو نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس میں اپنا القا کردیا۔ سورہ الحج آیت:52
عبداللہ بن عمرنے اپنی بیوی کو طلاق دی رسول اللہ ۖ اس پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ طہرمیں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آئے، پھرطہرآئے و حیض آئے اور طہر آئے تورجوع کرلو یا ہاتھ لگائے بغیر طلاق دو یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طلاق کا امر فرمایا۔جب حضرت عمر کے دور میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا۔عبداللہ بن عمر نے اختلاف کیا اورکہا”اگرمیں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبیۖ پھر مجھے رجو ع کا حکم نہ فرماتے”۔ (بخاری)حضرت عمر نے اس کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیا کہ طلاق میں عورت کے حق کو نہیں سمجھا۔
عبداللہ کے دل میں عورت کی رضامندی کے بغیر دو مرتبہ طلاق رجعی کا حق شیطان نے نبیۖکی تمنا سے ڈالا۔
ــــــــــ
عورت آزادی مارچ :میرا جسم میری مرضی
ایرانی نژاد امریکن عورت نے ”اسلام میں عورت کے حقوق” پر اپنی کتاب میں لکھا کہ ” ایک عورت نے40ہزار تمن میں نکاح کیا اور اسکے شوہر کو پیچھے کی طرف سے جنسی عمل کی لت پڑی تھی۔ جس سے عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی،اس نے خلع مانگا تو نہیں دیا اور پھر50ہزار تمن میں خلع دیا”۔ قرآن سورہ النساء آیت:19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا بلکہ شوہر کی دی ہوئی چیزوں منقولہ اشیاء کا مالی تحفظ بھی دیا ہے اور پھر النساء آیت:20میں شوہر کو طلاق کا حق دیا اور عورت کو منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی تمام جائیداد کا بھی حق دیا ہے۔ خلع میں عورت کی عدت بھی حدیث میں ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ ایران اور اسلامی دنیا نے عورت کے وہ حقوق غصب کررکھے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ۖ نے دئیے ہیںاسلئے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ذلت طاری ہے
جاویداحمد غامدی کے نزدیک” عبداللہ بن عمروفات74ھ ایک عالم تھے”۔طلاق رجعی کا شیطانی القا بھی عبداللہ بن عمر کی سوچ کا نتیجہ تھااور طلاق مغلظ بھی۔حالانکہ قرآن وسنت میں عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی کا کوئی تصور نہیں اور عورت کی رضامندی کے ساتھ طلاق مغلظ کا کوئی تصور نہیں ہے۔سورہ الطلا ق کی پہلی دوآیات میں عوام کیلئے مختصر خلاصہ ہے اور سورہ بقرہ آیت222سے232تک تمام تفصیلات ہیں۔ عبداللہ بن عمرنے ہی عورت کی پچھاڑی میںجنسی عمل کو شوہر کا حق قرار دیا جو امام مالک نے بھی لیااور عورت کے حقوق غصب کئے گئے!
البقرہ:222،223
(1:عورت کی بدترین حق تلفی )
ویسالونک عن المحیض قل ھو اذًی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن…
ترجمہ:” اور آپ سے حیض کا پوچھتے ہیں کہہ دو کہ وہ اذیت ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہواور ان سے مقاربت نہ کرو یہاںتک کہ وہ پاک ہوں پھر جب وہ پاک ہوں تو انکے پاس آؤ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاکبازوںکو پسند کرتا ہے”۔O نساء کم حرث لکم…تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیںتم اپنے اثاثے کے پاس جیسے چاہو آؤ… البقرہ:222،223
عورت کو حیض آتا ہے مرد کو نہیں ۔ یہ ایک درجہ عورتوں پر مردوں کا ہے اور بس۔ الفاظ میں، افعال میں اورحقوق میں مردوں اور عورتوں کے حقوق بالکل مساوی ہیں۔ عورت کو اذیت پہنچانے کا شوہر کو اللہ نے حق نہیں دیا ہے بلکہ تحفظ دیا ہے۔ قرآن کے ترجمہ اور تفسیر میں بہت بڑی بڑی غلطیوں کا ازالہ مسائل کا حل ہے۔
البقرہ:224،225
(2:عورت کی بدترین حق تلفی)
ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس…
” اور اللہ کو نہ بناؤ اپنے یمین کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو اور تقویٰ کرو اور لوگوں میںصلح کراؤ…”۔لا یؤاخکم بالغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم…Oاللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے لغو یمینوں سے مگر وہ پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اور اللہ مغفرت والا رحم والا ہے۔
یہ آیات طلاق کا مقدمہ ہیں جن میں صلح کیلئے اللہ نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی ہے لیکن یہود کے نقش قدم پر گامزن علماء ومفتیان نے مختلف الفاظ وضع کرکے صلح میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جس کی وجہ سے عورتوں کو حلالہ وغیرہ کے حوالہ سے بہت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ الفاظ پر نہیں پکڑتا ہے بلکہ اس اذیت پر پکڑتا ہے جو شوہر نے اپنے دل میں چھپایا ہوتا ہے اور عورت کو اس کا شکار بنادیتا ہے جس کی وضاحت اگلی دو آیات میں روز روشن کی طرح واضح ہے۔
البقرہ:226،227
(3:عورت کی بدترین حق تلفی)
للذین یؤلون من نسائہم تربص اربعة اشھرٍ فان فآء وا فان اللہ غفور رحیمOو ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO
” اپنی عورتوں سے ناراض لوگوں کیلئے4ماہ ہیں اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا توبیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔
جب شوہر ناراض ہو اور طلاق کا اظہار نہیں کرے تو یہ ایلاء ہے۔اس کی عدت 4ماہ ہے لیکن اگر طلاق کی نیت تھی تو اس پر اللہ کی پکڑہے جو دل کا گناہ ہے اسلئے کہ طلاق کے اظہار پر عورت کی عدت3ماہ ہے۔ایک ماہ اضافی عدت کی اذیت پر اللہ کی پکڑ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے ایلاء کے ایک ماہ بعد رجوع کیا تو اللہ نے واضح کیا کہ ناراضگی شوہر کا حق ہے اور رجوع نہ کرنا عور ت کا حق ہے ۔اپنی ساری ازواج پر واضح کردو کہ اب تمہاری رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور بخاری میں واضح ہے لیکن علماء قرآن وسنت کی درست وضاحت نہیں کرتے ۔
البقرہ:228
(4:عورت کی بدترین حق تلفی)
پڑھتا جا شرماتا جا
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروء … وبولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف …
ترجمہ:” اور طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو3ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں ہے کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں رکھا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر معروف طریقے سے شوہروں کے ہیںاور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔
اس آیت میں اللہ نے صلح واصلاح کی شرط پر عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے اسلئے کہ عدت میں عورت انتظار کی پابند ہے لیکن مولوی طبقہ نے قرآن کے واضح احکام کو سبوتاژ کرتے ہوئے عدت میں بھی باہمی صلح پر یہود کے نقش قدم پر پابندی لگائی۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو نہیں چھوڑا تومفتی حلالہ کا شکار نہیں کریں گے؟۔
مولوی کی ناک کاٹتا جا
البقرہ:229
(5:عورت کی بدترین حق تلفی)
الطلاق مرتٰن… خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا
ترجمہ:” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ نا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ ان سے لو جو کچھ تم نے انکو دیا اس میں سے کوئی بھی چیز۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور جو تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف اس چیز کو فدیہ کرنے میں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو۔ جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں”۔
قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اللہ نے عورت کو ایک عدت3ادوار کا پابند بنایا اور مولوی دو مرتبہ طلاق رجعی سے9ادوار کا حق شوہر کو دیتا ہے۔ اللہ نے معروف رجوع یعنی صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی اور بصورت دیگر تیسری مرتبہ طلاق کے بعد جب ایک اجتماعی فیصلہ سے کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو تمام حدود پر قائم رہنے کی پاپندی کا حکم دیا ہے۔
البقرہ:230
(6:عورت کی بدترین حق تلفی)
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتٰی تنکح زوجًا غیرہ …
”پھر اگر اسے طلاق دی تو اس کے بعد وہ اس کیلئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے…”۔ یہی وہ آیت ہے جسکے ذریعے حلالہ کی لعنت سے عزتوں کا بٹوارہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مدارس کی کتاب ”نورالانوار” میں حنفی مؤقف بھی پڑھایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق آیت229البقرہ کی متصل دوسری صورت سے ہے جس میں کنفرم ہوجاتا ہے کہ عورت کسی صورت بھی رجوع کیلئے راضی نہیں ہے۔ اس کے برعکس جاوید احمد غامدی اپنے داماد الیاس حسن کو مسئلہ تین طلاق ایسا سمجھاتا ہے کہ گویا مارگلہ کے پہاڑ پر گاڑی چڑھاتے ہوئے شروع میں بھی اکٹھے تینوں گیر چڑھادئیے تو مسئلہ بن گیا۔ اب رپیئرنگ کیلئے مولوی کے پاس جانا پڑے گا۔ حالانکہ اللہ نے پہلے کی دونوں آیات میں سمجھادیا کہ عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا اور یہاں مزید بڑی وضاحت کردی ہے۔
البقرہ:231
(7:عورت کی بدترین حق تلفی)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا…
”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو۔اور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو۔ جو ایسا کرے گا تو اس نے خود پر ظلم کیا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ۔ اور اس نعمت (بیوی)کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے۔اور جو اللہ نے تم پر کتاب میںسے(رجوع کی آیات) نازل کی ہیں اور حکمت کو جس کے ذریعے اللہ تمہیں وعظ کرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے”۔
اگر عورت راضی ہو تو عدت کے بعد بھی رجوع کرسکتے ہیں لیکن ضرر دینے کیلئے ایسا مت کرو۔ یہ آیت229اور228البقرہ کے تناظر میں معروف رجوع کی وہ وضاحت ہے جس میں عورت کے حق کی بار بار وضاحت اور اذیت سے روکا گیا۔
البقرہ:232
(8:عورت کی بدترین حق تلفی)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازاجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلک ازکٰی…
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاندوں سے نکاح سے مت روکو جب وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں ۔یہ نصیحت تم لوگوں میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طہارت ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔
پھر عورت کو اذیت سے بچانے کیلئے رجوع میں رکاوٹوں کو منع کیا گیا۔ پاک فوج نے اگر سمجھ لیا اور امام مہدی کا لشکر ہے توقرآن کے باغی علماء ومفتیان ہی ہیں جنہوں نے عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے ۔ کوئی اس کو حلالہ پر مجبور کرتا ہے اور کوئی خلع اور طلاق رجعی کے نام پر حق تلفی کرتا ہے۔پہلے جہاد انکے ساتھ ہے ۔
ــــــــــ
چارفقہاء امام اور احادیث میں مسئلہ طلاق
امام ابوحنیفہ80ھ، امام مالک93ھ، امام شافعی150ھ، امام احمد بن حنبل164ھ میں پیداہوئے۔ بنوامیہ کا دور133ھ میں ختم اور بنوعباس کا شروع ہوا۔7فقہاء مدینہ،7فقہاء کوفہ اور7فقہاء بصرہ مشہور تھے۔سعید بن مسیب فقہاء مدینہ کے سرخیل تھے جس نے اس پر مار کھائی کہ ہشام نے چوتھی بیوی کو طلاق دی تو عدت پوری ہونے سے پہلے کسی اور عورت سے شادی کرلی۔ جبکہ عورت عدت پر مجبوراور شوہر کیلئے رجوع کا دروازہ کھلا ہے تو کسی اور عورت سے نکاح چار کی جگہ پانچ سے نکاح ہوگا اور امام ابوحنیفہ نے نزدیک ”عدت میں عورت سے نکاح باقی رہتا ہے”۔فقہاء کوفہ کے سرخیل سعید بن جبیر نے کہا کہ ”قرآن میں حلالہ کیلئے جماع نہیں نکاح کافی ہے” توحجاج بن یوسف نے95ھ میں مکالمے کے بعد انتہائی سفاکی سے شہید کردیا۔99ھ سے101ھ تک عمر بن عبدالعزیز نے آزادی دی تو بصرہ کے فقیہ اعظم حسن بصری نے واضح کیا کہ عبداللہ بن عمر نے بیوی کو تین طلاق دی تھی۔جسکے بعد تو حلالہ کی لعنت کا تصور بھی نہیں رہ سکتا تھالیکن پھر عیاش یزید ثانی بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک نے اقتدار سنبھالا تو حسن بصری نے مؤقف بدل دیاکہ20سال بعد ایک زیاد مستند نے کہا کہ عبداللہ نے ایک طلاق دی (صحیح مسلم) بلکہ مزید کہا کہ بعض علماء کا اجتہادہے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کرناہو گا(بخاری)۔
حسن بصری کی پیدائش21ھ اور وفات110ھ میں ہوئی ۔ حضرت علی کے شاگرد اور مرید تھے لیکن کوفی سعید بن جبیر نے شہادت قبول کی مگر مؤقف سے وفا کی جو عبداللہ بن عباس وفات68ھ کے شاگرد تھے۔عبداللہ بن عمروفات74ھ سے بھی حسن بصری کی ملاقاتیں ہوئی تھیں لیکن مستند اور پھر20سال زیادہ مستند کیلئے نامعلوم اور حرام کے لفظ کیلئے بھی نامعلوم کا حوالہ دینا پڑگیا۔ بخاری ومسلم نے پھر بھی ان روایات کو قبول کیا ۔ چشم بد دُور۔
محمود بن لبید وفات97ھ نے کہا کہ ایک شخص نے خبردی کہ فلاں نے بیوی کوتین طلاق دی تو رسول اللہۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا کہ تم اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل رہے ہو جبکہ میں تمہارے درمیان میں ہوں۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں۔(نسائی ) امام ابوحنیفہ وامام مالک کی دلیل یہی ایک حدیث ہے۔ جس میں اکٹھی تین طلاق بدعت، ناجائزاور گناہ ہے اسلئے رسول اللہۖ کی ناراضگی سے پتہ چلا کہ واقع ہوسکتی ہے اور یہ عبداللہ بن عمر نے دی تھی جس سے رجوع کا حکم دیا گیا اسلئے یہ بدعت ہے۔ امام شافعیکے ہاں اکٹھی تین طلاق سنت، مباح اور جائز ہے۔ دلیل صرف عویمر عجلانی کی لعان کے بعد3طلاق کی روایت ہے۔ امام احمد بن حنبل دونوں مؤقف میں مذبذب ہیں۔ ایک قول ابوحنیفہ ومالک اور دوسرا شافعی کے مطابق ہے۔ ان دونوں احادیث میں حلالہ کی لعنت کو لازم قرار دینے کا شائبہ تک بھی نہیں اسلئے کہ رجوع کی کوئی ممانعت کا حکم نہیں ہے۔
سارا گند صحیح بخاری نے کیااکٹھی تین طلاق کے حوالے سے آیت بھی غلط درج کی اور شہد چٹو کرنے والی روایت بھی حلالہ کی لعنت جاری کرنے کیلئے غلط درج کردی۔ اسلئے بخاری کا درست پوسٹ مارٹم کرنا پڑے گا۔ حلالہ ہی کی وجہ سے علماء ومفتیان کے بے غیرت طبقات اور دلوں نے اس کوعلم حدیث کا سب سے بڑا ہیرو بنادیا ہے۔
ــــــــــ
ترجمان ماضی شان جان استقبال کا مسئلہ
مجاہد ملت حضرت سعید بن جبیر نے بنوامیہ کے دلوں اور دلالوں کو شکست دینے کیلئے واضح کردیا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے جماع کی ضرورت نہیں محض نکاح بھی کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ اسی کوفہ کے رہنے والے تھے۔ شاگردوں نے جتنی بھی گڑبڑ کی ہو لیکن حقائق نہیں چھپایا جاسکتا۔ چنانچہ علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ”زاد المعاد” میں عبداللہ بن عباس کے مؤقف کو نقل کیا ہے کہ آیت230البقرہ میں حلالہ کا تعلق آیت229میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق اور پھر فدیہ کی صورت سے ہے اسلئے کہ قرآن کے حکم کا استنباط بغیر سیاق وسباق کے نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی مؤقف امام ابوحنیفہ کا اصول فقہ کی کتابوں نورالانوار میں پڑھایا جاتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے استاذمولانا سلیم اللہ خان اور مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے حلالہ کیلئے آیت230البقرہ سے متضاد دلائل پیش کئے ہیں۔ ایک نے لکھا کہ فان طلقہا کی ف کی وجہ سے اکٹھی3واقع ہوتی ہیں اور دوسرے نے لکھا کہ احناف حدیث سے نہیں بلکہ حتی تنکح کے لفظ میں نکاح سے مراد جماع لیتے ہیں۔
دونوں دیوبندی بریلوی انتہائی قابل اساتذہ کرام کے انتہائی نالائق شاگرد ہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے یہ نری جہالت سے بڑی ٹھوکر کھائی ہے یا پھرٹھوکر کھاکر بھی بہت بڑاکمال کر دکھایا ہے؟۔ لیکن سر دست حلالہ کی جس لعنت میں لوگوں کو جھونک دیا ہے اس میں احادیث و روایات کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی وضاحتیں بھی کافی ہیں۔
لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ بچیاں بالغ ہوجائیں تو اسلام نے نکاح کی اجازت دی ہے اور بیرون ممالک میں بچیاں بچے جن رہی ہیں تو ہم کیا ان کو اس حد تک مجبور کریں کہ وہ گھر سے بھاگ جائیں؟۔ جبکہ فقہ کی کتابوں میں بچیوں کی بلوغت کا معاملہ بھی نہیں ہے بلکہ بلوغت تک پہنچنے سے پہلے جس طرح کے جبری نکاح کا تصور ہے تو اس کو قومی اسمبلی اور میڈیا میں زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ بلوغت سے پہلے بھی کسی کے ذوق کو تسکین ملتی ہو تو مسئلہ نہیں لیکن فقہ کی کتابوں میں تو نابالغ بچیوں کو جس طرح جبر سے مجبور کرنے کی بات ہے جو شاید یہودیت میں بھی جائز نہیں ہے اس کی تعلیم وتبلیغ اور فقہ و فتویٰ کو قرآن و حدیث کی رشنی میں پرکھا جائے شاید گمراہ مفتی جو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کے درجے پر فائز ہیں کچھ ہدایت پاسکیں۔
بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت علی نے کہا کہ رسول اللہۖ نے دو گتوں کے درمیان کتاب کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا ۔ مولانا سلیم اللہ خان نے کشف الباری میں لکھا کہ بخاری نے شیعہ کے رد میں یہ روایت نقل کی کہ تمہارا تحریف کا عقیدہ تمہارے علی کے خلاف ہے مگر قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ شکر ہے کہ ایک روایت جس مقصد کیلئے بھی نقل کی لیکن تحریف کا تدارک تو ہوگیا۔ بخاری نے حلالہ کی لعنت کا حوالہ سے روایت بھی حنفی مسلک کے خلاف نقل کی ہے لیکن بخاری اس کا خود بھی قائل نہیں ہے۔ قرآن کے مقابلے میں یہ بات زیادہ قابل توجہ ہے تاکہ حنفی اور دیگر حلالہ کی لعنت سے چھٹکارا پالیں۔حضرت عائشہ کی کم عمری میں شادی اور دخول کی روایت بھی بنوامیہ اور بنوعباس کی غلط حرکتوں کا شاخسانہ ہے ۔ ابن خلدون نے مقدمہ میں ٹھیک لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہصرف17احادیث مانتے تھے اسلئے کہ امام ابوحنیفہ نے من گھڑت احادیث بنتے ہوئے دیکھے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی،8عورت آزادی مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ