معاذ خان پہلی بات یہ ہے کہ آپ کا انداز اتنا نرم اور لہجہ اتنا پیارا ہے کہ اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ اسرائیل کے کسی ظالم نیٹ ورک کا حصہ ہیں تب بھی آپ محبت کے لائق تھے آپ کا تعلق سوات سے ہے اور پختونوں میں تہذیب وتمدن اور غیرت کے لحاظ سے میرا تجزیہ یہ ہے کہ سوات کے لوگ ایک نمبر پر ہیں پ کا بیانیہ بہت اچھا لگتا ہے میں نے 1975 ء میں غالبا مینگورہ میں کافی مہینے گزارے ہیں سوات میں میرے دوست اور کلاس فیلو بھی ہیں آپ نے جو رائے پیش کی ہے اس میں ایک خوشخبری مُجھے یہ لگتی ہے کہ اب پختون قوم نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اور اس کی بدولت اس میں بہت زیادہ قابلیت پیدا ہوگئی ہے جب 70 کی دہائی میں افغانستان کے اندر حالات خراب ہوگئے تو ہماری نانی کے خاندان والے کابل سے پاکستان آگئے پھر انہوں نے اپنی زمینیں اور گھر خرید لئے وہ اصل میں وزیرستان کے تھے مگر ان کے ساتھ دوسرے بھی مہاجرین آئے تھے 1978 ء میں مجھے پنجاب جانا پڑا تھا اور وہاں پر 1982ء تک سکول میں میٹرک تک رہا تھا پھر میں نے گھر سے بھاگ کر پہلے رائیونڈ اور پھر کراچی کا سفر کیا محنت مزدوری اور مدرسہ کی تعلیم حاصل کرنے لگا 1981 ء میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر سنی تھی جو بہت مدلل انداز میں مارشل لاء کے خلاف تھی جب مفتی تقی عثمانی کے مرشد ڈاکٹر عبدالحی کا انتقال ہوا تو جنرل ضیاء الحق بھی اس میں آنے تھے اور اگر کوئی پتھر اینٹ یا مٹی کا ڈھیلا مل جاتا تو میں اس کو مارنے میں بھی آسرا نہ کرتا جب میں بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتا تھا تو طلبہ کیساتھ ایک پروگرام بنایا کہ باہر دروازے کے قریب خواتین کو لاٹھیوں سے ماریں گے لیکن استادوں نے ناکام بنایا مدرسہ میں مردانی طلبہ کیساتھ بھی اچھی لڑائی ہوئی تھی 1987ء میں ایک مدرسہ جہاں افغان لیڈروں کو اہمیت دی جاتی تھی تو مدرسہ میں جمعرات کو چھٹی کی رات وی سی آر لایا جاتا تھا جس کو میں نے ڈنڈے کے زور سے روکا مولانا فضل الرحمان لیبیا کے دورے سے آئے تھے تو خاکی وردی پہنے بغير میں نے اکیلے سکیورٹی کی خدمت انجام دی تھی حالانکہ میں ان کی تنظیم کا حصہ بھی نہیں تھا میں نے ایک تحریک کی بنیاد 1984ء میں رکھی تھی جس کا مقصد وزیرستان میں شریعت ماڈل کا نفاذ تھا اور 1987ء میں اپنے پورے گاؤں سے ٹی وی نکال دئیے تھے پھر افغانستان کے جہاد میں گیا تو حرکت الجہاد الاسلامی والے سارے پنجابی تھے انہوں نے کہا کہ آپ پہلے قبائلی ہو جس پر ہمیں اعتماد آگیا ورنہ خوف کھاتے تھے کہ کہیں اسلحہ چھیننے کے چکر میں قتل نہ کردے پھر میں نے معاملات ایک ہفتہ میں بھانپ کر کہا کہ ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف روس ہے ہم اپنے لئے قبائل میں نظام خلافت قائم کرکے دونوں طرف جہاد شروع کرتے ہیں وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے اسپیشل پہنچا بھی دیا لیکن پھر میں کراچی میں پھنس گیا ہمارے مرشد پر فتوے لگے تھے پھر ان کا ساتھ دیا اور کراچی کے علماء کو شکست دی پیر صاحب کے انتقال کے بعد ایک جماعت امربالمعروف و نہی عن المنکر کی بنائی ہمارے سوات والے دوست بھی بہت تھے ایک نے کراچی میں عورتوں کو ڈنڈوں سے مارنا شروع کیا پھر صوفی محمد کی تحریک سے پہلے میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور جب انہوں نے تحریک شروع کی تو بڑی پذیرائی لوگوں نے دی تھی اور باڑہ خیبر ایجنسی میں بھی ایک تحریک شروع ہوئی تھی اور حرکت الجہاد الإسلامی کے قاری سیف اللہ اختر وغیرہ نے لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو تیار کرکے خلافت پر آمادہ کیا جب روس کے خلاف جنگ تھی تو افغانی اور پنجابی لڑرہے تھے پختون قوم نے مہاجرین کے نام پر منافع بخش نوکریاں کی ہیں اور کچھ نہیں تھا جب 1991ء میں وزیرستان سے میں نے خلافت کا آغاز کرنا چاہا تھا تو وہاں ڈکیتوں کا راج ہوچکا تھا پھر مجھے جیل جانا پڑا تھا تو وہاں ازبک دہشت گرد بم دھماکوں میں قید تھے جو روسی ایجنٹ تھے بونیر کے ہمارے ایک ساتھ شاہ وزیر نے بتایا کہ جب اس نے سوات میں اپنا تعارف کرایا تو ایک شخص نے کہا کہ یہاں تم لوگوں نے آگ لگادی اور پھر گم ہوگئے؟ جب 9/11 کے بعد امریکہ آیا تو پھر اچھے لوگوں نے بھی اور بدمعاش اور غنڈوں نے بھی امریکہ سے جہاد اور وزیرستان میں اپنی ریاست قائم کرنے کیلئے خوب ظلم وستم کا بازار گرم کیا اور اس کی تپش پھر بونیر اور سوات تک پہنچ گئی میں نے داستان اسلئے سنائی ہے کہ باچا خان ہندو اور بنگالیوں کے بھی لیڈر تھے حبيب جالب غوث بخش بزنجو اور ہندوستان کئ سیاست ان سے متاثر تھی بلور خاندان ہندکو سپیکنگ تھا ان کی واحد اور پہلی خاتون اور پختون وارث ثمر ہارون بلور اور زہد خان جیسا انتہائی بہادر اور مشکلات میں کھڑا رہنما بھی مسلم لیگ ن میں گئے سوات سے وزیرستان تک کے لوگوں نے بہت اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے اور اس گمراہ کن دور میں الله تعالٰی نے مشکلات کی وجہ سے پختون قوم کو بہت سی برائیوں سے بچالیا ہے معاذخان اچھے دن آئیں گے مجھ پر 2006ء میں قاتلانہ حملہ ہوا اور پھر 2007ء میں مہمانوں سمیت 13 افراد ہمارے گھر پر حملہ کرکے شہید کردیئے ابھی آپ چھوٹے ہیں اور تصویر کا درست رخ سمجھنے میں بہت محنت لگے گی میں نے اور کوئی گناہ نہیں کیا قوم کو تشدد سے روکنے کے چکر میں تشدد کا شکار ہوا کیونکہ میرا شعور تھا البتہ تشدد پر کسی نے اکسایا نہیں بلکہ خود اس کا محور تھا ایک لطیفہ ہے کہ گھوڑے اور گدھے ساتھ جارہے تھے ایک دن گھوڑے ہنس رہے تھے اور گدھے خاموش تھے دوسرے دن گدھے ہنس رہے تھے اور گھوڑے خاموش تھے تو بعد میں پتہ چلا کہ کسی نے لطیفہ سنایا اور پہلے گھوڑے سمجھے اور پھر گدھوں نے سمجھ لیا اگر پختون قوم کو اکسایا گیا تو پھر طالب گردی کے بعد قوم پرستی کی شکل میں مار کھائیں گے آپ جیسے سمجھدار لوگوں کو انسانیت اجاگر کرنی ہوگی اور اس میں پختون قوم اور اس خطے کی بقا ہے اگر امیرمقام کی جگہ آپ جیسے لوگ مرکز کی سیاست کرتے تو پختون قوم کیلئے اچھا ہوتا تعصبات اجاگر کرنے سے قوم کامعیار تبدیل نہیں ہوتا باچا خان کی تصاویر جرمنی کی کتابوں میں بھی شائع ہورہی ہیں بڑا دل چوڑا سینہ اور میٹھی زبان سے مسائل حل ہوتے ہیں ایک خواجہ سرا مہروب جس کے آپ نے انٹرویو لئے ہیں کس طرح مدلل انداز میں اپنامقد۔مہ پیش کرتی ہے؟ آپ سے امید ہے کہ پختون قوم میں انسانیت واپس لوٹانے کا مقدمہ لڑوگے کچھ غلطیاں ہماری ہوں گی لیکن جو سزا ملی ہے اس کی بدولت اچھا اجر مل جائے گا انشاء اللہ
@@voicesnvisionsآپ ماشاءاللہ بہت پڑھے لکھے اچھی خصوصیات اور اچھی فطرت کے انسان ہیں جب پی ٹی ایم سے پہلے یہ تنظیم محسود تحفظ موومنٹ تھی اور سارے محسود اسٹیج اکھاڑ کر بھاگ گئے تھے اور منظور پشتین کی بات بھی نہیں مانی کہ جن لوگوں نے تائید کی ہے ان کے سامنے اعلان کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اسلئے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ دوتہائی اکثریت والے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلٰی شہباز شریف کو بھی پکڑ لیا اور مشکلوں سے بیرون ملک جانے دیا تو دوسرے دن ایک قبیلہ سلیمان خیل کے لوگ رہ گئے تھے جو الیکشن میں کھڑے ہونے کیلئے میرا ایک انور سلیمان خیل لایا اور وہ بے خبرتھے کہ لوگ چلے گئے ہیں اسٹیج پر بھی اندھیرا تھا جب میں نے یہ جودہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی کے زبردست نعرے لگوائے تاکہ خوف دل سے نکل جائے تو بہت بڑی کھلبلی مچھ گئی تھی پھر دوسرے دن ان کو جی ایچ کیو میں بلایا اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں پھر تحریک چلنے میں عاصمہ جہانگیر نے کردار ادا کیا جس نعرے کو وزیرستان میں نہیں لگاسکتے تھے وہ پنجاب میں عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن کے زیرانتظام لگایا تھامیں نے رائے دی تھی کہ مظلوم تحفظ موومنٹ رکھو جس سے علی وزیر بھی متفق تھے کیونکہ ایم کیوایم مہاجر سے پھر متحدہ نہیں بن سکی معاذخان میں نے ڈاکٹر فاروق ستار کی جماعت پر پابندی لگانے سے پہلے کہاتھا مگر وہ الطاف حسین کی وجہ سے مجبور تھا آپ اچھے انسان ہیں اور انسانیت کی بنیاد پر کام کریں پنجابی نہیں غزہ اور اسرائیل کی بھی صلح کرانی اور اپنے اپنے حقوق کا تحفظ مشکل نہیں ہے مجھ 40 سال ہوگئے اور چند دوستوں کے علاوہ اپنے ساتھی بھی نہیں بڑھائے ہیں اور نہ ضرورت ہے آپ اپنے کھلے دماغ سے کام کریں سندھ بلوچ پنجابی مہاجر سب کے ہاں جائیں تو پختون قوم کا اسی میں فائدہ ہے والسلام
معاذ خان سلام !پرویز مشرف کے دور میں مولانا بجلی گھر کی تقاریر سن لو جس میں دو کروڑ افراد کو ذبح کرنے اور قیمہ کرنے کی بات ہوتی تھی جس نے ہمیشہ اپوزیشن کی مخالفت اور خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کی مخالفت کی
@voicesnvisions
Thank you so much for sharing your story. It reveals a lot.