جب لڑکی کسی لڑکے سے اس حد تک عشق کرتی ہو تو اس کا نکاح کردینا چاہیے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن میں فرمایا کہ و لا تکرھوا فتتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آیت کا صحيح ترجمہ اور تفسیر عوام کو سمجھادی جاتی اور معاشرے میں اس پر عمل ہوتا تو بہت سارے ناخوشگوار واقعات اور حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ محترمہ آپ نے کراچی سعود آباد کا بھی اس طرح کا ایک واقعہ اپنے ایک ویلاگ میں بتایا تھا۔ جس لڑکی کا دل کہیں اور ہو تو اس کی دوسرے سے شادی کرانا نہ صرف لڑکی بلکہ جس سے اس کی شادی کرائی جائے اس کے ساتھ بھی ظلم ہے۔ بہت ساری لڑکیوں کی زبردستی شادی کرائی جاتی ہے اور ناخوشگوار واقعات ہوتے ہیں یہ دین اور انسانی فطرت کے خلاف اعمال کے نتائج ہمارا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ مجرم تو آخر مجرم ہے اس کو ضرور سزا مل جائے لیکن جس نے وہاں تک پہنچایا اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے.
ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا
ستمبر 20, 2025
تبصرہ