شہریار وڑائچ صاحب! آپ کی باتوں میں ایک حد تک درشت اور درست حقائق ہیں۔ میرا علاقہ، بچپن اور جوانی اساتذہ کرام اور مطالعے کے مرکزی کردار دیوبندی مسلک کے علماء کرام ہی ہیں لیکن ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی تقسیم ایک طرف حقیقت ہے اور دوسری طرف ایک فطرت بھی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معمولات میں تبدیلی نہیں لائی اسلئے بریلوی امام کہلانے کے مستحق تھے اور حضرت عمر فاروق نے سارا نظام بدل ڈالا اسلئے دیوبندی إمام کہلانے کے مستحق ہیں۔ انگریز کی آمد سے پہلے شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی مروجہ رسوم کے سخت خلاف تھے اسلئے دیوبندی بنیاد تھے اور ان کے ہم عصر شیخ عبدالحق محدث دہلوی بریلوی کی طرح ان کے سخت خلاف تھے۔
1857ء سے پہلے دیوبندی اکابرین انگریزی کالج کے پروفیسر مولانا مملوک علی کے شاگرد اور فاضل تھے اور بعض اکابرین سکول کے محکمہ تعلیم کے انسپیکٹر تھے جب بغاوت میں پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو 1860ء کے بعد بریلوی مکتبہ فکر کے مولانا فضل حق خیر آبادی کو کالے پانی کی سزا 1864ء میں مقامی جیلوں میں گھمانے کے بعد دی گئی اور دارالعلوم دیوبند کا افتتاح 1864ء میں ہوگیا۔ جبکہ علی گڑھ کا افتتاح 1874ء میں ہوا تھا۔ پھر جب فرقہ واریت کا معاملہ تھا تو دیوبندی اکابرین کے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے دونوں فرقوں کے اختلافات کو ختم کرنے کیلئے ایک کتاب فیصلہ ہفت مسئلہ لکھا تاکہ فرقہ واریت نہیں پھیلے لیکن علماء دیوبند نے اپنے مرشد کی بات بھی نہیں مانی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھ اہل حدیث اور شیعہ بھی تھے لیکن وہ خود گولڑہ شریف کے پیر مہرعلی شاہ کے مرید تھے جن کا تعلق بریلوی مکتب سے تھا۔ پنجاب میں 12 ربیع الاول کا جلوس بریلوی نکالتے تھے تو ڈیرہ اسماعیل خان پشاور اور کوہاٹ میں دیوبندی نکالنے تھے۔ دیوبندی علماء نے فروعی مسائل پر فرقہ واریت کو زیادہ ہوا دی ہے۔ 1980ء میں پنجاب کے اندر لوگ بازاروں کو سجاتے تھے اور کچھ پیسوں والے انعامات تقسیم کرتے تھے جن کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پنجاب میں دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگوں نے کوے بھی محض اسلئے کھائے ہیں کہ انہوں نے حلال قرار دیا تھا۔ غلام احمد پرویز دیوبندی بنتا تھا اس نے لکھ دیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان نہیں لگا اگر کوئی لگاتا تو قتل کردیا جاتا۔ حالانکہ قرآن میں ام المؤمنين اور ایک عام عورت پر بہتان کی یکساں سزا سے دنیا میں اسلام کا نام روشن ہوجاتا اور تحریک نظام مصطفی سے غلام غوث ہزاروی پہلے الگ ہوگئے اور شاہ احمد نورانی مارشل لاء لگنے کے بعد الگ ہوگئے اور مفتی محمود ذو الفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر چڑھانے کے بعد الگ ہوگئے اور جماعت اسلامی آخر تک ساتھ رہی۔ میرا مقصد صرف جناب کو اعتدال پر لانے کیلئے کچھ معلومات فراہم کرنا تھا اسلئے کہ آپ ایک قیمتی صحافی اور قیمتی انسان ہیں۔
شہریار وڑائچ:
بہت شکریہ سر- انتہائی قیمتی معلومات ہیں