اگر آپ آواران کے کچھ لوگوں کو ایک جگہ سکول کھولنے پر آمادہ کریں تو لوگ ٹیچروں کو تنخواہیں بھی دینا شروع کریں گے۔ پھر دیکھتے دیکھتے 5 لاکھ کی آبادی میں اچھے خاصے سکول کھل جائیں۔ تعلیم کی ریل پیل سے کچھ لوگ اپنے ضلع میں سرکاری نوکری اور کچھ باہر سے اچھا پیشہ کمائیں گے۔ اگر اس کام کیلئے لوگوں کو بلایا جائے تو پھر عوام کو ان کی حفاظت کیلئے بھی کچھ کرنا ہوگا۔ اپنے لوگوں میں ترقی کا غم اور درد آپ میں بھی کچھ تعلیم کی وجہ سے پیدا ہے۔ 1874 میں سرسید احمد خان نے تین بچوں سے سکول کی بنیاد رکھی لیکن پھر دیکھتے دیکھتے پورا ہندوستان پڑھے لکھے لوگوں سے بھر گیا۔ جب ایک آدمی ہمت کرتا ہے تو قدرت مدد کرتی ہے۔ ہمارے ہاں وزیرستان میں ایک عالم دین نے سکول کی بنیاد رکھی اب ان کا گومل یونیورسٹی میں دن منایا جاتا ہے۔ میں نے خود ایک سکول کی بنیاد رکھ دی تھی تو آج پورے علاقہ میں بہت سارے سکول کھل گئے ہیں اور پڑھے لکھے جوانوں کی اکثریت ہوگئی ہے۔گورنمنٹ میں بااثر طبقات کی بھرتی سے نالائق اور بے کار قسم کے لوگ ملازم بن جاتے ہیں اور کوئی پڑھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور کوئی پڑھاتا نہیں ہے۔ اگر اپنی مدد آپ کے تحت سیاست تنظیم اور مختلف گروپ چل سکتے ہیں تو بچوں کو تعلیم کیوں نہیں دی جاسکتی ہے؟۔ پھر ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی طرح کئی لیڈی ڈاکٹر ہوں گی، ڈاکٹر آللہ نذر کی طرح بھی بہت ہوں گے۔ قوم کی خدمت ان کو پسماندگی سے نکالنا ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلابی کام کرتے تو آج بلوچستان اور بلوچ قوم کے حالات مختلف ہوتے۔ افغانستان نے نیٹو سے آزادی حاصل کرلی لیکن اپنے لوگوں کو خوش کرنا مشکل کام ہے۔
Problems of the Awaran| ضلع آواران کے مساٸل| #Hindi/Urdu
ستمبر 22, 2025
تبصرہ