پروفیسر ارسلان صاحب اور معاذخان! اگر آپ اس ماحول پر بات کرتے کہ مذہبی لوگ کس طرح سے ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں جیسے نسوار سگریٹ بھنگ چرس شراب اور ہیروئن پینے والے ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں تو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ ہم نے ایسے کمیونسٹ دیکھے ہیں کہ جب وہ تبلیغی جماعت میں وقت لگاتے ہیں تو سب کچھ تبلیغ کو سمجھتے ہیں۔ بہت سارے اندازے درست ہوسکتے ہیں لیکن مذہب کی اصل طاقت سے آپ لوگ ابھی آگاہ نہیں ہیں۔ اسلام سے پہلے بہت سارے جاہلانہ رسوم تھے لیکن اسلام نے ان مذہبی رسوم کو جس انداز میں ختم کیا ہے اگر آپ لوگوں کو بھی اس کا پتہ چل جائے تو اسلام کو موجودہ دور میں بھی تبدیلی کا سب سے موثر ذریعہ قرار دیں گے۔
نمبر1: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا کرتی ہے اپنے شوہر کے بارے میں جس نے اس کو حرام قرار دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فتوی مروجہ تھا کہ آپ اپنے شوہر کیلئے حرام ہوچکی ہو، لیکن الله نے عورت کی حمایت کی کہ زبان سے بیوی ماں نہیں بن سکتی ہے۔ سورہ مجادلہ اور سورہ احزاب دیکھ لیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کو خوشی ہوگی۔
نمبر2: دور جاہلیت میں دو جہالتیں تھیں ایک یہ کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغير رجوع نہیں ہوسکتا تھا اور دوسرا یہ کہ طلاق کے بعد عورت کی رضا مندی کے بغير شوہر رجوع کرسکتا تھا۔ قرآن کی آیت 228 البقرہ میں دونوں رسموں کا خاتمہ کیا گیا۔ عدت میں رجوع کی اجازت صلح کی شرط پر دی تو دونوں جہالتوں کا خاتمہ ہوا۔ حلالہ کے بغير رجوع ہے اور صلح کے بغير رجوع نہیں ہے۔ آج پوری دنیا قرآن پر چل رہی ہے لیکن مولوی طبقہ یہود ونصاری کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ 3 سو سال پہلے تک عیسائیوں میں طلاق کا تصور نہیں تھا اور یہودی حلالہ کرتے تھے لیکن مصیبت یہ ہے کہ دنیا مسلمان ہوگئی اور ہمارے مذہبی فرقوں نے یہود ونصاری کی پیروی شروع کردی۔
نمبر3: سورہ نور میں لعان کا حکم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو رنگے ہاتھوں بھی پکڑ لے تو قتل نہیں کرسکتا ہے۔ اگر عدالت میں عورت نے جھوٹ بولا تو بھی وہ 100 کوڑے کی سزا سے بچ جائے گی۔ اگر قوم پرستی کا معاملہ ہو تو عورت قتل اور مرد کو کوئی سزا نہیں ہے۔ اگر خلع وطلاق کے حقوق کو سورہ النساء آیات 19 اور 20 میں دیکھ کر سمجھ لیا جائے جہاں عورت کو نہ صرف خلع کا حق ہے بلکہ شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں کی ملکیت بھی اسی کی ہے اور حق مہر کی بات الگ ہے کیونکہ الله نے رشتہ طے ہونے کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی آدھا حق مہر فرض قرار دیاہے۔
نمبر4: جب قرآن کو دیکھنے کے بجائے پختون دلا اور بے غیرت اپنی بیٹی اور بہن کی قیمت وصول کرے گا اور پنجابی دلا اور بے غیرت جہیز پر بھی مجبور کرے گا اور گلہ قرآن اور اسلام سے کرے گا تو غلط ہے۔
نمبر5: قرآن نے حق مہر شوہر کی مالی استطاعت کے مطابق فرض کیا ہے۔ ارب پتی کروڑ پتی لکھ پتی اپنی اپنی وسعت کے مطابق حق مہر ادا کرے گا۔ لیکن مسلمان قرآن کو دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا ہے اور اسلام نے خلع کی صورت میں عورت کو گھر چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور طلاق میں شوہر کو گھر چھوڑنا پڑے گا۔ جب 10 بچے جنوا کر بیوی کو گھر سے نکالا جائے گا تو عورت کے ساتھ کتنا ظلم ہے؟ جو حقوق قرآن اور سنت نے دیئے ان کو دنیا کے سامنے لایا جائے تو آج بھی دنیا اسلام کے معاشرتی نظام کو قبول کرے گی۔ لیکن مسلمانوں کو اسلام کا پتہ نہیں ہے۔
نمبر6: جب سود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو مزارعت پر دینا سود قرار دیا۔ آج اگر مزارعت اور سودی نظام کا خاتمہ ہوتو پوری دنیا خوشحال ہوگی اور چین روس اور یورپ سب اس بات کو قبول کریں گے۔
نمبر7: عدالتی نظام میں وکالت اور سرمایہ دارانہ نظام کو نکال دیا جائے تو جلد اور سستا انصاف ملے گا۔ قرآن کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ انصاف پر کیا کہ جانوروں کی قیمت فصل کے برابر تھی تو سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح جانور والوں کی روزی روٹی کا سہارا چھن جائے گا۔ کھیت جانور والوں کے ذمہ لگادیا کہ غفلت کی سزا کھاؤ اور جانور کھیت والے کو اس وقت تک فائدہ اٹھانے کیلئے دیدئیے جب تک فصل اپنی جگہ پر آجائے۔ اللہ نے سلیمان کی تعریف کی۔ حدیث میں ہے کہ دوعورتوں کا جھگڑا ایک بچے پر ہوا داؤد علیہ السلام نے اس کو دیا جس کا نہیں تھا اور مغالطہ کھایا۔ سلیمان علیہ السلام نے بچے کو ذبح کرکے دو ٹکڑے کرنے کا کہا اور اصل ماں کا پتہ لگایا۔ یہی عدل وانصاف کا تقاضا ہے اور اسلامی نظام کا درست تصور پیش ہو تو دنیا خود قبول کرے گی۔
معاذ خان:
We should all strive to present and understand the real Islam like you . I am thankful to you for your really insightful comment.
عتیق گیلانی:
معاذخان! مجھے آج ہی ایک دفعہ ذہن میں بات آئی کہ آپ کے ولاگ نظر نہیں آرہے ہیں۔ اسلام کے ساتھ اتنا کھلواڑ کیا گیا ہے کہ جو لوگ جتنا اس کے قریب جاتے ہیں تو بدفطرت بن جاتے ہیں۔
ایک شخص کو اگر یہ اختیار دیا جائے کہ ہندوستان میں آپ نے بیوی سے علیحدہ ہونے کا جن الفاظ میں بھی فیصلہ کیا ہو تو آپ واپس رجوع باہمی رضا مندی سے کرسکتے ہیں اور دوسری طرف اسلامستان میں 3 طلاق پر بیوی کو حلالہ کی سزا کا پابند بنایا جائے تو ہندو اور مسلمان ہونے میں سے کس کو وہ پسند کرے گا؟۔
وہ سوال اٹھائے گا کہ غلطی میری ہے تو سزا بیوی کو کیوں دی جائے؟ پھر کہے گا کہ سزا میں سرکاٹ دو ہاتھ یا پیر کاٹ ڈالو یا کان اور ناک لیکن یہ کونسی سزا ہے کہ میری بیوی کو ریپ کیا جائے؟۔ صدیوں سے ہم نے قرآن کی طرف کبھی نہیں دیکھا۔ مولانا حضرات بھی نہیں دیکھتے اور میں بھی مولوی ہوں اور کافی عرصہ تک کبھی قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی اور کرتا بھی تھا تو معاملہ یہی نظر آتا تھا۔ حالانکہ مجھے مدرسہ میں بہت قابل سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اساتذہ مجھ سے نصاب کی اصلاح کی بھی امید رکھتے تھے۔ اب ماشاءاللہ ایک عرصہ سے قرآن پر محنت کررہا ہوں۔ علماء ومفتیان بھی کافی حد تک بدل چکے ہیں لیکن ہمت نہیں کرتے۔ تصویر کی مخالفت میں نے شروع کی تھی لیکن جب قرآن و احادیث پر غور کیا اور 2004 میں جاندار کی تصویر کے جواز پر ایک کتاب "جوہری دھماکہ” لکھی تو پھر وہ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے بھی بدل گئے جو لاؤڈ اسپیکر پر نماز اور آذان بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔
مفتی نظام الدین شامزی آپ کے سوات کے تھے۔ میری اس کتاب پر علماء نے میٹنگ میں کہا کہ دلائل بہت مضبوط ہیں اگر اعلان کرتے ہیں کہ تصویر جائز ہے تو مسئلہ بنے گا،،، اور مفتی تقی عثمانی سے مفتی شامزی نے کہا کہ اس طرح اکابر کی کھلی مخالفت ہوگی۔ عتیق الرحمن بھی اکابر کو گالیاں تو نہیں دیتا پھر ہم اور اس میں فرق نہیں رہے گا۔ جب ہم عوام میں تصاویر نکالنا شروع کریں گے تو لوگ خود بخود اس کو جائز سمجھیں گے۔ ایک مرتبہ لاہور میں اردو بازار کے اندر ایک جگہ گیا تو ایک نے پہچان لیا أن میں ایک سوات شامزی کا بھی ایک عالم تھا جس نے ہماری دعوت بھی کی۔ اس نے بتایا تھا کہ میں نے مفتی نظام الدین شامزی سے آپ کا پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ تو پاگل ہے جس کے جواب میں شامزی کو اس نے کہا تھا کہ یہی پاگل تو انقلاب لاتے ہیں اور اس وقت میں تصویر کا مخالفت تھا۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے پروگرام میں مجھے بلایا تھا تو اعلان کیا تھا کی میری تصویر نہیں اتاری جائے۔ پھر دوسرے پروگرام میں میری ویڈیو بنی تھی اس کو بھی آپ دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ واقعی مفتی نظام الدین شامزی نے اس وقت زیادہ غلط نہیں بولا تھا ہاہاہا۔ آج افغانستان کے طالبان بھی سمجھ بوجھ کی طرف آرہے ہیں۔ ہماری پختون قوم میں عملیت پسندی ہے اسلئے اگر شعور نہیں ہوتا ہے تو پاگل پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میں نے تو اپنی زندگی گزار دی آپ جیسے جوان اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہیں کریں۔ ماشاءاللہ آپ شعور والے لگتے ہیں اسلئے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں اور دل سے محبت رکھتا ہوں ۔