قیصر راجہ صاحب ! آپ کی محنت اپنی جگہ۔ جب معراج کے سفر کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا سفر سبب کے ذریعے کیا ایک سراقہ والا معجزہ ہوا تھا اگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کرامات دیکھی ہیں لیکن سپر طاقتوں کو شکست کرامات کے بھروسہ پر نہیں دی۔ سائنس کا تعلق دماغ کے ساتھ ہے اور ایمان کا تعلق غیب اور دل کے ساتھ ہے۔ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ دماغ سے آللہ کو سمجھنا ممکن نہیں اور غیب پر ایمان کا مطلب ہی وہ ہے جو عقل میں نہیں آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑا ایمان کیا ہوگا لیکن اطمینان کیلئے آللہ نے پرندوں کو کس طرح ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بعد زندہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ممکن تھا یا نہیں؟ بالکل ممکن تھا اور جو ممکن نہ ہو وہ معجزہ نہیں ہوسکتا ہے اور جو معجزہ سے ممکن ہو وہ سائنس سے بھی ممکن ہے۔ جس چیز کو عقل کی وجہ سے نہیں مانتے تھے آج سائنس کی ترقی کی وجہ سے عقل میں یہ بات آتی ہے کہ معقول بات ہے۔ اب معراج کا نا ممکن سفر بھی نظریہ اضافیت کی وجہ سے دنیا میں ممکن نظر آتا ہے۔ تسخیر کائنات کا تصور قرآن نے دیا ہے اور معجزات اور کرامات دماغ بند کرنے کیلئے نہیں کھولنے کیلئے ہیں۔ جب قرآن نے سمندروں میں پہاڑ جیسے جہازوں کا ذکر کیا تو اس وقت کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ حدیث میں ایسے چپ لگانے کے تصورات ہیں جس کی بنیاد پر لائیو گھر کے مناظر دیکھنے کا ذکر ہے۔ بخاری میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل نافرمانی نہیں کرتے تو گوشت کبھی خراب نہیں ہوتا، یہ سائنسی ترقی کی نشاندہی ہے۔ قرآن نے استطاعت کے مطابق قوت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے جس کا تعلق سائنس کے ساتھ ہے۔ اگر کبھی کوئی چیز خواب میں یا جاگتے میں خواب جیسا مشاہدہ نظر آئے تو نبوات غیب کی خبر کو کہتے ہیں اور وہ درست یا غلط ہوسکتی ہے اگر درست ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نبوات میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا مگر مبشرات اور وہ رویائے صالحہ یعنی سلامت خواب ہیں۔ اگر غلط ہوں گے تو پھر وہ نبوات یعنی غیبی اخبار کا حصّہ نہیں ہیں۔ علامہ اقبال کے اشعار میں بھی بعض اوقات نبوات کا اثر نظر آتا ہے۔
Probably The Last Video On Sister Uzma Rumi | Ad Hominem Ought Not to Be Entertained 🙂
ستمبر 23, 2025
تبصرہ