علامہ صاحب ! اہل سنت کے صحاح ستہ سے پہلے موطا امام مالک لکھی گئی اور تیسری صدی ہجری میں صحاح ستہ لکھی گئی اور اس سے پہلے مسند احمد اور ان ائمہ کے اساتذہ کی احادیث کی کتابیں بھی تھیں لیکن اہل تشیع کی چار کتابیں چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب بنوامیہ کے بعد یا حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں حدیث لکھنے کی اجازت مل گئی تو ایک شیعہ کسی امام کی تصدیق سے کتاب لکھ سکتا تھا؟۔ امام مہدی غائب کے پہلے خلیفہ عثمان عمری اور دوسرے محمد بن عثمان عمری تھے فاطمی خلافت قائم ہوئی تب بھی آئمہ اہل بیت سنیوں کے ساتھ تھے۔
جن فاطمیوں کو اہل سنت سے زیادہ گمراہ شیعہ اور ائمہ اہل بیت سمجھتے تھے انہوں فقہ جعفری اور شیعہ مسلک کی اصل تبلیغ کی ہے۔ اور اسماعیل صفوی سنی تھے اور ان کے بیٹے بھی سنی تھے پھر پوتا اسماعیل صفوی شیعہ بن گیا۔ ائمہ اہل بیت اور سنی ایک طرح کے لوگ تھے لیکن فاطمی اور صفوی مقتدر طبقات نے نفرتوں کو ہوا دی ہے اور شیعہ محققین نے اس بات کا ادراک کرلیا تھا۔ جب دونوں طرف سے اچھے اچھے لوگ سامنے آئیں گے تو شیعہ سنی ایک جان دو قالب بن جائیں گے۔ قرآن میں جس طرح طلاق کا تصور ہے فقہ جعفریہ نے سنیوں کی وجہ سے اتنا مبالغہ کیا ہے کہ اب شیعہ حضرات اپنی عزتیں بچانے کیلئے قرآن سے رجوع کررہے ہیں۔ اسلئے کہ اہل تشیع کے نزدیک جب تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق اور اس پر گواہ بنالئے جاتے ہیں تو رجوع کی گنجائش نہیں ہوتی حالانکہ سورہ طلاق میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا معروف طریقے سے الگ کرنے کا حکم ہے اور پھر دوگواہ کی بات ہے اور پھر بھی رجوع کا راستہ قرآن نے کھلا رکھا ہے اور شیعہ کو چاہیئے کہ اس کی وضاحت کریں اسلئے کہ کچھ شیعہ پریشان ہوتے ہیں۔
اگر شیعہ سنی دونوں نے قرآن کی طرف رجوع کیا تو پھر متفقہ قیادت بھی سامنے آئے گی اور اسرائیل اور امریکہ کے شر سے بھی بچ جائیں گے۔
علامہ صاحب امید ہے کہ علامہ صداقت فریدی کے ساتھ ساتھ ان معروضی حقائق پر بھی نہ صرف غور کریں گے بلکہ بیان بھی کریں گے۔
Imam Bukhari Ki Asal Haqeeqat..!! | Allama Anwar Ali Najafi
ستمبر 24, 2025
تبصرہ