ڈاکٹر عمار خاں ناصر صاحب ! جاوید غامدی صاحب نے مسئلہ طلاق پر جس طرح سے اپنے تفصیلی موقف کو پیش کردیا ہے تو اس کی تمام صلاحیتوں کا اس سے پردہ چاک ہوجاتا ہے۔ اس نے قرآن کی واضح آیات سے جس طرح کا انحراف کیا تو اس کی کم ازکم میرے نزدیک تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہے۔ پہلی روایت یہ پیش کی ہے کہ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ کا بتایا کہ حیض میں طلاق دی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور رجوع کا حکم فرمایا۔ بخاری کی کتاب التفسیر سے واقعہ کو نقل کیا کہ دوطہروں اور حیض کے بعد تیسرے طہر میں رجوع کرو یا طلاق دو اور یہ وہی عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا امر کیا ہے اور اس طلاق کو نافذ نہیں کیا چونکہ اس میں ابہام تھا تو عبداللہ بھی بڑے عالم تھے اور حضرت عمر نے خود مسئلہ حل کرنے کے بجائے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرلیا۔
غامدی صاحب اس کو قضیہ اور مقدمہ قرار دیتے ہیں لیکن کیا یہ ٹریفک کے قوانین کی طرح ٹریفک مجسٹریٹ کے چالان کی بات ہے؟
اگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی راضی نہیں ہوتیں تو کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر یہ حکم دیتے؟۔ قضیہ اور مقدمہ تو اس وقت بنتا کہ جب حضرت عبداللہ کی بیوی راضی نہ ہوتیں لیکن مسئلہ یہی تھا کہ وہ پریشان ہوکر رونے دھونے بیٹھ گئی۔ محمود بن لبید کی روایت میں کرداروں کا ذکر نہیں لیکن دیگر روایات میں ہے کہ حضرت عمر نے قتل کی پیش کش کی تھی اور صحیح مسلم میں ایک روایت ہے کی عبداللہ نے تین طلاق دی تھی۔ اگر بالفرض ایک دی تھی تو رجوع کی ویسے بھی گنجائش تھی اس میں اجتہاد کی کیا بات ہے اور اگر سورہ طلاق میں عدت کے اندر طلاق دینے کا مرحلہ وار حکم ہے تو پھر کیا حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوسکتی ہے؟۔ جیسے زنا سے منع ہے لیکن کیا جائے تو ہوجائے گا۔
اگر پدو مارنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو اس طرح پھر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے البتہ جیسے وضو بنانے سے بن جاتا ہے تو طلاق سے رجوع بھی شرائط کے مطابق ہوجاتا ہے۔
آیت 228 البقرہ میں اللہ نے فرمایا کہ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر بیوی کو لوٹانے کا زیادہ حق دار ہے اگر عورت راضی نہیں تو قرآن سے واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ راضی ہے تو رجوع ہوسکتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں دو باطل مذہبی مسائل تھے ایک اکٹھی تین طلاق کے بعد حلالہ اور دوسرا عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع ان دونوں جہالتوں کا قرآن نے اس آیت میں خاتمہ کردیا۔ حضرت عمر کے دور میں پہلا مقدمہ آیا تھا اور حضرت عمر نے عورت کے حق کو تحفظ دیا اور پھر حضرت علی کے دور میں حرام کے لفظ پر تنازعہ آگیا اور حضرت علی نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
بعد میں یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ حضرت عمر نے تو ٹھیک فیصلہ دیا لیکن طلاق دینے والے کا عمل ٹھیک ہے یا غلط؟ حنفی اور مالکی مسلک نے اس کو بدعت قرار دیا اور شافعی مسلک والوں نے سنت دونوں کے پاس دلیل میں صرف ایک ایک روایت تھی ایک محمود بن لبید والی روایت اور دوسری لعان کے بعد عویمر عجلانی والا واقعہ۔
یہ صرف طلاق واقع ہونے کی بات تھی لیکن اگر رجوع سے روکنے کا مسئلہ ہو تو پھر جب اللہ نے باہمی اصلاح اور معروف کی شرط پر بابار رجوع کی اجازت دی ہے تو ان روایات کا رجوع میں رکاوٹ کیسے صحیح مانا جاسکتا ہے؟
جبکہ فإن طلقہا کا تعلق بھی احناف کے نزدیک فدیہ کی صورت سے ہے اور مجموعی آیت لی جائے تب بھی اس پر بات آتی ہے کہ طلاق کا ایسا قطعی فیصلہ ہوگیا ہے جہاں صلح کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے اور پھر اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں معروف طریقے سے باہمی رضا مندی سے رجوع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
ان ٹھوس آیات کے بعد عبدیزید کی روایت سے یہ استدلال کرنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ نیت کیا تھی ایک طلاق کی یا تین طلاق کی؟۔ اس نے کہا کہ ایک کی، پھر اس کو قسم کھلوائی اور رجوع کی اجازت دی اگر نہیں بھی دیتے تو اس کا امکان تھا اور حضرت عمر نے رجوع کی اجازت نہیں دی۔
کیا حضرت عمر نے اگر واقعی حلالہ کی گند میں امت کو ڈالا ہے تو پھر شیعہ اپنے ائمہ کو اطہار ٹھیک نہیں کہتے؟۔ طلاق دینے اور فیصلہ کرنے والے ایسی قسموں سے ذہنی مریض نہیں بن جائیں گے؟ اس کا غلط فائدہ نہیں اٹھائیں گے کہ کسی کی خوبصورت بیگم دیکھ کر رال ٹپک جائے اور جب اصل میں طلاق ہوئی نہیں تو کسی کے ہاتھ میں یہ ہتھیار دے سکتے ہیں؟۔ قرآن نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح کیا کہ عورتوں کے بارے میں اللہ خود فتوی دیتا ہے جب اللہ کے واضح احکامات موجود ہیں تو لوگوں کو الجھانا درست ہے؟۔ کیا سورہ طلاق میں کوئی ایسا اشارہ بھی ملتا ہے کہ تین سے ایک بھی مراد ہوسکتی ہے؟۔
حالانکہ رکانہ کے والد نے رکانہ کی والدہ کو طلاق دی تھی اور پھر کسی اور عورت سے نکاح کرلیا اس نے نامرد ہونے کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کا حکم فرمایا اور پھر ام رکانہ سے رجوع کا فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات پڑھ لیں جن میں مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی اور عدت کی مدت گزرنے کے عرصہ بعد بھی رجوع کی اجازت ہے۔ اب ایک ضعیف روایت کی بنیاد پر عبد یزید کا نام دیکھنے سے اتنا بڑا وجد آگیا کہ سب اصول بھول گیا؟۔ پھر تو امام جعفر صادق کے مسلک کا ببانگ دہل اظہار کرنا تھا کہ لوگ عدت کے مراحل میں تین طلاق مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے پابند ہیں۔ قرآن اور حدیث کا بھی یہی خلاصہ ہے۔ لیکن یزید کی حمایت اصل ہدف ہے۔ قرآن احادیث اور سنت کی کوئی پرواہ ہوتی تو یہ کرتے؟۔