صاحبزادہ اشرف اصمعی صاحب ! آپ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سنا کر بہت اچھا کیا ہے۔ کیا ہم اس سلسلے میں قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں؟۔
قرآن نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں آدھا حق مہر اور امیر غریب پر وسعت کے مطابق فرض کردیا ہے۔ ایک عورت کے ساتھ اگر چند سال، چند ماہ یا چند دن یا چند لمحے جنسی تعلقات قائم کرنے کے بعد علیحدگی ہوجائے تو کیا عورت کو اللہ نے کوئی تحفظ نہیں دیا ہے؟۔ سورہ النساء آیت 19 میں عورت کو نہ صرف خلع کا حق دیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے دی ہوئی چیزوں میں سے بعض واپس لینے کو بھی منع کیا ہے اور حسن سلوک سے رخصت کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ دلاسہ دیا ہے کہ اگر وہ تمہیں بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تمہارے لئے اس میں بہت سارا خیر بنادے۔ آیت حق مہر کے حوالے سے نہیں بلکہ حق مہر کے علاوہ دی ہوئی چیزوں کے بارے میں ہے جو لے جانے والی ہیں جن میں زیورات، گاڑی اور سب چیزیں شامل ہیں۔ لیکن گھر اور غیر منقولہ جائیداد، پلاٹ، زمین، باغ وغیرہ اس میں شامل نہیں ہے کیونکہ یہ خلع ہے۔ اور اگلی آیات 20 اور 21 سورہ النساء میں طلاق کے احکام ہیں جن میں گھر اور غیر منقولہ جائیداد بھی شامل ہے۔ آپ خود آیات پر تدبر کریں اور پھر یہ بھی دیکھ لیں کہ آیت 229 البقرہ میں تیسری طلاق کے بعد عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے مگر مجبوری میں کوئی ایسی چیز ہو جو رابطے اور جنسی تعلق کا ذریعہ بنتی ہو تو صرف اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیا کرنے میں حرج نہیں ہے۔ لیکن اس کو الٹا عورت کے استحصال کا ذریعہ بنادیا گیا ہے کہ منہ مانگا خلع مراد ہے۔
Supreme Court of Pakistan Landmark Judgment on Mehr & Khula
ستمبر 28, 2025
تبصرہ