اعزاز سید صاحب! محمد علی مرزا نے دعوت اسلامی سے آغاز کیا اور حافظ زبیر علی زئی اہل حدیث تک جا پہنچا۔ میں اسلئے بتارہا ہوں کہ ایک اپنی غلطی مان لیں اور دوسری اپنی حماقت کو سمجھ لیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ اصغر علی گھرال ایک صحافی تھے جو گپ شپ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ جب 1997 ء میں نواز شریف کی حکومت نے جمعہ کی چھٹی ختم کرکے اتوار کی کردی تو یہ دلیل دے سکتے تھے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے کاروبار چھوڑنے اور نماز کے بعد پھر کاروبار کی اجازت یا حکم ہے اسلئے چھٹی نہیں بنتی ہے۔ لیکن وہ اپنے وقت کا جاوید غامدی اور محمد علی مرزا تھا۔ اس نے علماء کی لاؤڈ اسپیکر سے لیکر مختلف معاملات پر زبردست کلاس لی جو بالکل درست بات تھی۔ البتہ جب ایک جاہل انسان اپنے فن سے دوسری جگہ قدم رکھتا ہے اور احتیاط نہیں کرتا ہے تو بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے۔
اصغر علی گھرال نے لکھا کہ اگر قرآن میں اللہ کا حکم ہوتا کہ جمعہ کی چھٹی کرو تب بھی ہمیں اجتہاد کرکے اتوار کی چھٹی کرنی چاہیے۔ جس پر میرا جواب اس وقت کے اکثر اخبارات نے اپنے مراسلے میں چھاپا تھا عنوان تھا اصغر علی گھرال کی گپ شپ میں ڈھینچو ڈھینچو میں نے لکھا تھا کہ "اجتہاد وہاں ہوتا ہے جہاں قرآن و حدیث میں کوئی حکم موجود نہیں ہو اگر حکم موجود ہو تو اجتہاد نہیں تحریف ہوتی ہے۔” اصغر علی گھرال نے لکھا تھا کہ اللہ نے گھوڑے پالنے کا حکم دیا تھا اور ہم نے جہاز سے حکم کو اجتہاد میں بدل دیا۔ میں نے جواب میں لکھا کہ "کم از کم اس آیت کا ترجمہ دیکھنے پر غور کے بعد بات کرتے اس میں اللہ نے پہلے قوت کے حصول کا حکم دیا ہے اور گھوڑے کو بعد میں رکھا ہے۔ قوت میں جہاز اور ایٹم بن وغیرہ جديد ترین ٹیکنالوجی شامل ہے یہ تم نے ڈھینچو ڈھینچو کیا ہے”۔ اس کے بعد اس کا ایک ہی کالم چھپا اور وہ بھی شاید پہلے سے لکھ چکے تھے اور صحافت چھوڑ دی۔ وہ بہت غیرت مند اور اچھے انسان تھے۔ دلیل سمجھ میں آگئی تو پھر ڈھیٹ پن کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔
جاوید غامدی نے مسئلہ طلاق کا ایک ضعیف روایت سے استدلال کرکے اس سے زیادہ ڈھینچو ڈھینچو کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ڈھیٹ بن کر کھڑا ہے۔ اس کو اجتہاد تو بڑی بات ہے مقدمہ کا بھی پتہ نہیں یا جان بوجھ کر ڈھیٹ بنا ہوا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ "اگر قرآن کے مطابق طلاق دی تو مسئلہ نہیں لیکن اگر قرآن کے خلاف طلاق دی تو یہ قضیہ اور مقدمہ ہے۔ جیسے نماز میں علماء سے پوچھا جائے کہ یہ غلطی ہوگئی نماز دوہرائیں یا سجدہ سہو کریں؟۔ یا لائسنس موجود نہیں تھا تو اس کا فیصلہ اب ٹریفک اہلکار نے کرنا ہے خود نہیں کرنا کہ گھر میں لائسنس بھولنے کی کیا سزا دی جائے۔ جب عبداللہ بن عمر نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کیا لیکن طلاق کو منعقد نہیں کیا اور مرحلہ وار تین طہر میں تین مرتبہ طلاق کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ وہی عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا حکم دیا ہے دوسرا معاملہ رکانہ بن عبد یزید کا ہے اس نے تین طلاق دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ نیت کیا تھی؟۔ اس نے کہا کہ ایک طلاق کی۔ پھر اس کو قسم دی۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ ایک طلاق کی نیت تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طلاق قرار دی۔ پھر حضرت عمر نے اپنے دور میں اجتہاد کیا جس کی گنجائش اس حدیث میں موجود تھی۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات قبول نہیں فرماتے تو اس کی بھی گنجائش تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا اور ایک ساتھ کی تین طلاق نافذ کردی۔ جس کو قبولیت مل گئی اور حلالہ جیسا مکروہ فعل عام ہوگیا۔”
اعزاز سید صاحب ! علامہ اقبال نے کہا کہ پنجابی مسلمان تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا۔ آپ نے کافی عرصہ بعد کہا کہ غفار خان قائداعظم سے بڑے لیڈر تھے ایسا نہ ہو کہ جب آپ 100 سال کے ہوجائیں تو کہیں کہ سید عتیق الرحمن جاوید غامدی سے بڑا اسکالر تھا۔
مقدمہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب شوہر نے طلاق دی ہو اور عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو۔ احادیث کے ذخائر میں کوئی ایک بھی ایسا مقدمہ نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور اس کی بیوی نے رونا دھونا مچایا ہوا تھا کہ میں تباہ ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کے مطابق طلاق دو اور اگر اس کی بیوی کہتی کہ مجھے رجوع نہیں کرنا ہے تو پھر یہ مقدمہ اور قضیہ بنتا۔ پھر اگر عبداللہ بن عمر کہتے کہ میں نے غصہ یا مذاق میں طلاق دی ہے تو بھی قرآن کا واضح حکم اور فیصلہ یہی تھا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
حضرت عمر نے عورت کے حق کو تحفظ دیا اسلئے کہ عورت رجوع پر راضی نہیں تھی۔ سورہ بقرہ آیت 228 اور طلاق سے متعلق تمام آیات میں یہ واضح ہے کہ اصلاح معروف اور باہمی رضا مندی کی شرط کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر اس طرح قرآن و حدیث اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کو غلط کوڈ کیا جائے اور لوگوں کی بیگمات کی عزتوں کو دوسروں کے رحم وکرم اور مفادات کے تحت چھوڑ دیا جائے تو اس کا انجام کیا ہوگا؟۔ حالانکہ قرآن نے بہت واضح الفاظ میں شوہر ہی کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا ہے۔ اس طرح تو فتوی دینے والے اور لینے والے سب ذہنی مریض بن جائیں گے کہ اصل میں ایک طلاق ہوئی یا تین طلاق؟۔ حرام کاری یا جائز؟۔ حالانکہ یہ حدیث رکانہ کے والدین کے بارے میں ہے۔ رکانہ کے والد نے رکانہ کی والدہ کو مرحلہ وار سورہ طلاق کے مطابق طلاق دی۔ پھر عدت کے بعد رجوع کے بجائے چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور عادل گواہ بنائے۔ پھر کسی اور خاتون سے شادی کی اس نے نامرد ہونے کی شکایت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اس کے بچے اس سے کتنے مشابہ ہیں” پھر دوسری کو طلاق کا حکم دیا اور فرمایا کہ رکانہ کی والدہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے اور سورہ طلاق کی پہلی دو آیات تلاوت فرمائیں۔
یہ سورہ طلاق کی آیات کی تفسیر ہے آپ خود بھی میچ کرکے دیکھ لیں۔ اسلئے کہ اللہ نے عدت کے بعد بھی فرمایا ہے کہ جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے مخرج ۔۔۔ Exit نکال دے گا۔ اگر ایک پدو مارنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو تین سے کیسے نہیں ٹوٹے گا؟۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں نے تین ٹیٹ مارے مگر نیت ایک کی تھی؟۔ جیسے پدو مارنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور پھر وضو بنانے سے بنتا بھی ہے اسی طرح طلاق سے طلاق ہوجاتی ہے لیکن رجوع بھی ہوسکتا ہے اور رجوع کیلئے عورت کا راضی ہونا شرط ہے۔
اگلی آیت میں دو مرتبہ طلاق کے بعد بھی معروف رجوع کی وضاحت ہے جس سے صلح واصلاح مراد ہے۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں لیکن انہوں نے حماقت سے تضادات کی کتاب بنادیا ہے۔ قرآن فطرت کی کتاب ہے انہوں نے بدفطرت قوانین کا آئینہ بنادیا ہے۔