وڑائچ صاحب! آپ سے یہی توقع ہے کہ جھوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ جب یہ واقعہ ہوا تھا تو میں لیہ پنجاب میں سکول کا طالب علم تھا اور مذہبی کتب بھی پڑھتا تھا۔ پھر 1982ء میں کراچی آیا اور ایک ایسے شخص کی صحبت اٹھائی جو اللہ والے تھے۔ آپ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ دو ہفتے ایک بڑی مدت ہے ایک محصور جگہ میں بند چند درجن دہشت گردوں کو کسی ملک کیلئے ٹھکانے لگانا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن ایک عام سویلین پاکستانی نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ پانی چھوڑ دیا جائے اور اس میں کرنٹ چھوڑ دیا جائے۔
جہاں تک پاکستانی فوج کے کردار کا تعلق ہے تو حرمین کیلئے پہلے پاکستانی فوج کی طرف سے آفیشل معاہدہ موجود ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی نہیں بلکہ اہل تشیع پاکستانی فوجی اہلکار بھی وہاں تعینات ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی شاید پاک فوج کے اہلکاروں نے حصہ لیا ہوگا اسلئے کہ دہشتگردی کا یہ پہلا انوکھا واقعہ تھا اور فرانس سے بھی زہریلی گیس منگوانے کی بات قابل فہم ہے۔ پاکستان اور دوسرے ممالک کے آنسو گیس میں اب بھی فرق ہوگا۔ یہ اس وقت لوکل قسم کا مسئلہ تھا۔ لیکن خانہ کعبہ کی حرمت کو بچانے کی تدابیر اختیار کرنے کو ترجیح دی گئی۔ دو ہفتے میں کھانے پینے کی ترسیل نہ ہو تو عاشورہ محرم کے دس دن کیسے منائے جاتے ہیں۔
اس وقت کا ایک خوشگوار اور دلچسپ واقعہ بتاتا ہوں کہ ٹانک شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں اس واقعہ کی وجہ سے لوگ جمع ہوگئے تھے تاکہ مشن ہسپتال(غریبوں کے علاج معالجہ کیلئے عیسائی مشنری کی طرف سے قائم کردہ ہسپتال) ٹانک کو لوٹ مار اور نذر آتش کرکے اپنا اسلامی اور ایمانی فرض پورا کریں۔ حکومت بھی قابو پانے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔ وہاں کے مشہور عالم نے دوسرے علماء اور عوامی نمائندوں کے برعکس تقریر کی اور کہا کہ خانہ کعبہ کے واقعہ سے غیر مسلم ممالک کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ اقلیت ہماری ذمہ داری پر یہاں رہتے ہیں۔ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو ان کو روکنا ہمارا فرض ہے۔ یہاں لندن سے خواتین ڈاکٹر تمہاری عزتوں کی رکھوالی کرتی ہیں، کیونکہ تمہاری عورتوں کیلئے تمہارے پاس اپنی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہیں۔ اس طرح مشتعل مظاہرین شرمندہ ہوکر منتشر ہوگئے اور کچھ نے برا منایا کہ ہمیں لوٹ مار نہیں کرنے دی اور کسی نے الزام لگایا کہ یہ مولوی حکومت اور مشن ہسپتال کا ایجنٹ ہے۔
اب آخر میں ایک نہایت دلچسپ بات بتاتا ہوں کہ مولانا محمد امیر بجلی گھر پشتو کے نامور خطیب تھے۔ سب سے بناکر رکھتے تھے۔ علماء میں اختلاف تھا کہ مُردوں کے پیچھے خیرات ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس نے کہا کہ میں نے سوال کرنے والے سے کہا کہ تمہاری زبان گنگ ہوجائے مُردوں کو خدا نے ویسے بھی نہیں بخشنا زندوں کا کام کیوں خراب کرتے ہو؟۔
پہلے پاک فوج نے کوئی کردار ادا کیا ہے یا نہیں لیکن ابھی جو معاہدہ ہوا ہے اس میں کچھ مفادات مل جائیں تو کیا برا ہے؟۔ حامد میر نے بتایا کہ سعودی عرب، قطر اور عرب امارات نے حال ہی میں امریکہ کو 4 کھرب ڈالر دیئے ہیں اور سیکورٹی بھی نہیں دے رہے تو پاکستان ویسے بھی سودی قرضوں اور سیلاب کی زد میں ہے۔ اگر سعودی عرب کو احساس ہو کہ اسرائیل حملہ نہیں کرے گا اور پاکستان إمام ضامن بن جائے تو اس میں تکلیف کیا ہوسکتی ہے؟۔ کچھ لوگ بہت منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں جن کا صرف سیاسی ایجنڈا ہے تو قومی خدمت کو بھی انجام دینے میں کوئی برائی نہیں ہے۔