وڑائچ صاحب ! جن لوگوں نے انجینئر محمد علی مرزا کے حق میں فتوی دیا ہے اس پر خوش ہونا اور جنہوں نے سزا سنائی یا اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے ان سے سخت نفرت کا اظہار آپ کا حق ہے۔ اللہ آپ کو حفظ وأمان میں رکھے۔ مجھے آپ اچھی فطرت کے انسان لگتے ہیں اور ہیں بھی۔ لیکن ماحول کا فرق ہوتا ہے۔ علی مرزا بھی مختلف مراحل سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔ دعوت اسلامی کی نفرت سے اہل حدیث کی نفرت تک پہنچنا میرے نزدیک آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کی طرح ہے۔ سعودی عرب پر جب یہ بھوت سوار تھا تو حجاز مقدس میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کیا کہ مشرک ہیں پھر جوں جوں وہ دنیادار بنتے گئے تو شدت میں کمی آئی۔ مرزا صاحب نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ داعش کے کارکن نے اس کو جدید طریقہ کار سے دہشت گردی کے معاملات بتائے۔ جب بریلوی میں شدت آتی ہے تو تحریک لبیک کا چہرہ بنتا ہے جو پنجاب میں ہیں اور پنجاب کی عوام سیالکوٹ میں کوئی بریلوی نہیں تھی، لاہور میں خاتون پولیس افسر نے کمال کر دیا ورنہ خاتون عربی ڈیزائن کے لباس پر جلادی جاتی اور وہ بریلوی نہیں تھے بلکہ عام عوام تھے۔ تحریک لبیک کے قائدین نے اچھا کردار ادا کیا تھا اس میں اور مردان پختونخواہ میں مشعال نامی نوجوان کے ساتھ بہت برا کیا گیا اور یہ واقعہ یونیورسٹی میں ہوا اور جماعت اسلامی سمیت اے این پی سب محمود وایاز ایک تشدد کی صف میں کھڑے تھے۔ دیوبندی پھر طالبان بن جاتے ہیں لیکن علماء سے زیادہ یہ عوام ہوتے ہیں۔
آپ کی محنت بہت زبردست ہے جیسے کرکٹ کے میچ پر عوام جذباتی بن جاتے ہیں ویسے مذہب پر اور سیاسی فضاؤں کو بھی دیکھ رہے ہیں کہ اٹھنے والی انگلی توڑنے کی بات ہورہی ہے۔ ابھی تو حکومت اتحاد کے سہارے کھڑی ہے۔ چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹنے سے نکل کر تحریک انصاف نے اپنے شہداء کی نمائش کی۔ پنجاب کے لوگوں میں پھر بھی تحمل ہے اور ریاست کی رٹ ہے لیکن بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے پیچھے ماشاءاللہ سی ٹی ڈی لگ گئی، لیکن جرائم کی شرح پھر بھی موجود ہے۔ مذہبی طبقے میں گنتی کے چند افراد نے حصہ لیا ہے اکثریت کو اس کوئی غرض نہیں ہے۔
آخر میں صرف یہ گزارش ہے کہ اگر شوہر بیوی کو 3 طلاق دیتا ہے تو حلالہ کی شکل میں جو گھناؤنی سزا بے گناہ عورت کو ملتی ہے قرآن حدیث اور خلافت راشدہ نے اس کا خاتمہ کیا تھا۔ یزید اور بنوامیہ نے اس جہالت کو مسلط کیا لیکن علامہ جاوید غامدی نے مسئلہ طلاق پر جس جہالت کا مظاہرہ کیا ہے آپ ان کا ویلاگ دیکھ لیں۔ مقدمہ اس وقت بنتا ہے کہ جب دو فریق اپنے حق کی بات کریں۔ سورہ بقرہ آیت 228 میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ شوہر کو باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے۔ اگر عورت رجوع کیلئے آمادہ نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہے تو عدت میں شوہر ہی کو رجوع کا حقدار قرار دیا ہے۔ کوئی ایسی حدیث نہیں ہے کہ کسی عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہو کہ میں عدت میں رجوع چاہتی ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو۔ بخاری نے ایک روایت غلط جگہ لکھ کر امت کا بیڑہ غرق کیا اور حضرت عمرفاروق نے عورت کی طرف سے رجوع نہ کرنے کی وجہ سے عورت کے تحفظ کیلئے قرآن کے مطابق فیصلہ دیا۔ اور حضرت علی نے بھی حرام کے لفظ پر مقدمہ میں قرآن کے مطابق فیصلہ دیا۔ لیکن جاوید غامدی نے اس معاملے پر جہالت کی ساری رسیاں توڑ دی ہیں۔
میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے سابقہ تین ادوار کے دونوں چیئرمین کو معاملات سمجھائے اور وہ مان بھی گئے لیکن قرآن کو بیان کرنے کیلئے جرات نہیں کرسکے۔ قبلہ ایاز نے کہا کہ مولوی شاہ دولہ کے چوہے ہیں اور میں اپنی نوکری پر ڈرتا ہوں۔
شہریار وڑائچ:
بہت شکریہ جناب کا- آپ نے بہت سی علمی اور عقلی باتیں شئیر کی ہیں- حوصلہ افزائی اور راہنمائئ دونوں کا شکریہ- آپ نے بہت سی ایسی باتیں شئیر کیں جو میرے لئے غور کرنے اور تحقیق کے لئے اہم ہیں- خوش رہیں۔