بالکل صحیح پہچانا ہے لیکن ابن الوقت کے الفاظ سے اتنی صحیح ترجمانی نہیں ہوتی ہے۔ إبن الوقت کی بہت بڑی تعداد ہے اس حد تک یہ إبن الوقت ضرور ہیں کہ جب فوج کا مورال خراب ہوتا ہے تو یہ بھی عوامی رحجان کی طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ مضبوط نظر آتے ہیں تو پھر سلیم صافی کے پروگرام میں کہتا ہے کہ جمہوریت سے مجھے دلچسپی نہیں کوئی آمریت ہونی چاہئے۔ یہ تو بہت سارے لوگ ہیں اور ایسے کم افراد ہوتے ہیں جو حالات کی جگہ اپنے اصولوں کے ساتھ مظلوم کی طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مقاصد بہت خطرناک لگتے ہیں اسلئے کہ قرآن کی تعلیمات پر بالکل بھی ایمان نہیں رکھتے۔ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا سے کہا کہ آپ زندہ کیسے کرتے ہو؟۔ اللہ نے فرمایا کہ کیا تمہارا ایمان نہیں تو انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں مگر دل کے اطمینان کیلئے۔ پھر اللہ نے چار پرندوں والا معاملہ کیا کہ سب کے چار ٹکڑے کردیئے پھر الگ الگ ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جمع کیا پھر چاروں الگ الگ ٹکڑے والے پرندے زندہ ہوکر آگئے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کا ایمان تھا کہ فرشتوں کی مدد بھی قبول نہیں کی اور اللہ نے براہ راست آگ کو سلامتی والی ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا۔ قرآن میں اعراب سے کہا گیا ہے کہ تم یہ مت کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے اسلئے کہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں نہیں اترا ہے۔ ایک سورہ اخلاص والا ایمان ہے کہ اللہ ایک ہے نہ اس نے کسی نے جنا ہے اور نہ اس کو کسی نے جنا ہے اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ دوسرا ابراہیم علیہ السلام اور انبیاء کرام، اور صحابہ کرام، علماء حق اور صوفیاء عظام کا ایمان ہے۔
جاوید غامدی کا قرآن کی آیات پر ایمان نہیں لگتا ہے کیونکہ ایک دن اس نے کہا کہ اگر آخرت نہیں ہوئی تو سب برابر ہیں لیکن اگر ہوئی تو پھر ہم نے ایمان لایا ہوگا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس کو کہنا چاہیے کہ اگر آخرت نہیں بھی ہو تو یہاں مذہب کے نام پر تم نے جو دکان لگائی ہے دنیاوی کام کرتے ہوئے وہ دنیا بھی نہیں ملے گی جو مذہب کے نام پر مل رہی پے۔ جس طرح اس نے فراڈ خانقاہ کا افتتاح کیا اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ قرآن اور حدیث کے نام پر فراڈ کرتا ہے۔
اگر کوئی نہیں مانتا ہے تو اس کو پوچھ لو کہ اگر تمہارا داماد کہے کہ اس نے بیوی کو تین طلاق دی ہے اور نیت بھی تین کی ہو لیکن زبان سے کہے کہ ایک کی نیت تھی تو کیا حکم ہوگا اور اگر کہے کہ تین کی تھی تو کیا ہوگا؟؟۔ دوسری طرف قرآن سورہ بقرہ آیت 228 میں فرمایا ہے کہ عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے، تو کیا اس نے مسئلہ طلاق قرآن کے خلاف بیان نہیں کیا ہے؟۔
قرآن میں پہلی چیز واضح ہے کہ باہمی اصلاح سے رجوع ہوسکتا ہے اور جاوید غامدی ضعیف روایت کی بنیاد پر قسم کی بات کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور یہ قرآن کے حکم کے خلاف اجتہاد کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ شوہر ہی رجوع کا زیادہ حق دار ہے اور یہ کسی اور کو اختیار دیتا ہے۔ بہرحال قرآن اور حدیث کے ساتھ بہت بڑا فراڈ کررہا ہے۔
ابن الوقت
اکتوبر 6, 2025
تبصرہ