آپ کے جذبات لہجہ اور ایمان پر شبہ نہیں ہے لیکن شعور اور معلومات کی کمی لگتی ہے۔ پرویز مشرف نے طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور مولانا فضل الرحمان صرف ایک ووٹ سے وزیر اعظم بن سکتے تھے لیکن مولانا اعظم طارق نے پرویز مشرف کے کہنے پر اپنا وہ تاریخی قیمتی ووٹ مولانا حق نواز جھنگوی کے قائد مولانا فضل الرحمان کے بجائے ظفر اللہ جمالی کو دیا تھا۔ وقت پر کون کہاں جاتا ہے اور کس نے علماء کی کتنی قدر کی ہے؟۔ اور کس میں کتنے تضادات ہیں جب تعصبات کی عینک اتاریں گے تو غصہ کم ازکم یکطرفہ دوسروں پر نہیں آئے گا۔ علماء نے بڑے پیمانے پر شیعہ کو کافر قرار دیا تھا لیکن پھر اتحاد تنظیمات المدارس میں شامل کردیا۔ بالکل علماء کرام لائق صد احترام ہیں۔ قرآن حدیث، عربی زبان اور اسلام کی بڑی خدمت کرتے ہیں، لیکن شیخ الہند مولانا محمود الحسن مالٹا کی جیل سے رہائی کے بعد کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے زوال کا پہلا سبب قرآن سے دوری ہے دوسرا فرقہ واریت لیکن دارالعلوم دیوبند اور علماء اور مدارس سے توقع نہیں رکھتے بلکہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ 1920 میں ان کی وفات ہوگئی پھر 1933 میں مولانا انور شاہ کشمیری نے وفات سے پہلے فرمایا کہ میں نے قرآن اور حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی ساری زندگی فقہ میں ضائع کردی۔ اس وقت ان کی تنخواہ 300 روپے تھی جبکہ 1960 کی دہائی میں پاکستان کے اندر سیکرٹری کی تنخواہ 150 روپے تھی جب پیسوں کی قدر گرچکی تھی۔
جب 1983 میں سواداعظم کی تحریک شیعہ کے خلاف چلی تو مولانا سلیم اللہ خان نے مولانا زکریا کی ڈنڈے سے پٹائی لگائی تھی اور مولانا زکریا نے اخبارات میں بیان جاری کیا تھا کہ عراق سے جو پیسہ تحریک کیلئے آتا ہے اس سے مولانا سلیم اللہ خان عیش و عشرت کررہا ہے۔ مولانا اعظم طارق کہتا تھا کہ میں مولانا زکریا کا بیٹا ہوں تو ایک دیوبندی عالم نے اس کو کہا کہ اپنے باپ کا نام لو اگر وہ مزدور ہے تو اس پر شرمانا مت۔ مولانا زکریا بڑا آدمی ہے لیکن اتنا بڑا بھی نہیں کہ باپ بنالو۔ آپ کو علماء کرام سے عقیدت و محبت بہت مبارک لیکن شعور بھی پیدا کرو اور کسی خاص طبقے کو معیار مت بناؤ۔ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ بہت ساری خواتین کو محفوظ راستہ دیا گیا تھا۔ جن طالبات نے نکلنا تھا تو مولانا عبدالعزیز کے ساتھ لائن ٹی وی پر دکھائی گئی تھیں۔ جس کو موقع ہاتھ لگتا ہے تو اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ٹاؤٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ مفتی عبدالرحیم سے مجھے کوئی اچھے کی توقعات نہیں ہیں لیکن اس نے قتل و غارتگری میں کوئی حصہ نہیں لیا ہے۔ مولانا حق نواز جھنگوی کا بیٹا گم کھاتے میں مارا گیا تھا اور مولانا محمد بنوری کو مدرسہ میں شہید کیا گیا لیکن مجھے نہیں لگتا ہے کہ مفتی عبدالرحیم نے کسی کو قتل یا شہید کیا ہو۔ اس نے اپنی معلومات کے مطابق بات کی۔ لیکن جن طالبات کی قبریں آپ نے دیکھی ہیں ان کے کیا کوئی گھر بار نہیں تھے؟۔ پھر بھی ان کی قبریں ویڈیو میں شیئر کریں۔