ڈاکٹر عرفان شہزاد کی وکالت کو سمجھنے کیلئے جاوید غامدی کا فلسفہ اور حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جاوید غامدی کا تعلق بچپن میں جماعت اسلامی سے تھا۔ جب مولانا مودودی نے خلافت و ملوکیت کتاب لکھی جس میں خلفاء راشدین اور امارت و بادشاہت کے فرق کو واضح کیا اس سے اہل تشیع کو تقویت مل رہی تھی اسلئے علماء کرام نے سخت مخالف کی۔ مولانا امین اصلاحی نے اس موقع پر داغ مفارقت دیا اور جاوید غامدی نے اپنی جوانی میں خلافت و ملوکیت کے خلاف محمود احمد عباسی کے فکر کی وکالت شروع کردی۔ مودودی بنو ہاشم اور خلافت راشدہ کے مقابلے میں بنی امیہ کے اس کردار کو نمایاں کررہے تھے جو احادیث کی کتب تاریخ اور نسل در نسل چلنے والی روایات کے مطابق تھے۔ لیکن شیعہ کی شدت نے علماء کرام کو بہت نالاں کررکھا تھا۔ اسلئے محمود عباسی کو بھی بہت لوگوں کی طرف سے بڑی تقویت مل گئی۔ جب بندہ ایک طرف کا وکیل بن جاتا ہے تو راہ اعتدال سے ہٹ جاتا ہے اور ایک فریق کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور دوسرے فریق کو دوسری نظر سے پھر اس کو طرفداروں کی طرف سے سپورٹ اور رعایت بھی مل جاتی ہے اور تمام حدود کو پھلانگ دیتا ہے۔
اس کی چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ جاوید احمد غامدی نے اس بات کی وکالت شروع کردی کہ اب قیامت تک مسلمان محکوم رہیں گے اور مغرب دنیا پر غالب رہے گا۔ اس کیلئے دلیل یہ نکال دی کہ دنیا کی اقوام حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں کی اولاد ہیں۔ دو بیٹوں کی اولاد اپنا دور گزار چکے ہیں۔ جن میں مسلمان اور ہندو وغیرہ کی اقوام شامل ہیں۔ ایک بیٹے کی اولاد گورے نے حکومت نہیں کی۔ اب قیامت تک ان کی باری ہے۔ غامدی صاحب نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام دراصل حضرت نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کی اولاد تھے اور بنی اسرائیل اور قریش دونوں نے حکومت کی تھی۔ کافی عرصہ پہلے میں نے یہی سوال اٹھایا تو غامدی صاحب کو اعلانیہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ اب وہ شاید پہلے منصوبے کی طرف واپس لوٹ گئے ہیں اور بنوہاشم کے مقابلے میں بنوامیہ کو خدائی منصوبے قرار دیتے ہیں۔
جب شیعہ شد و مد سے صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے خلاف انتہائی بیہودہ زبان استعمال کررہے ہیں تو پھر ان کے مخالفین کو پذیرائی ملنا کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ پہلے شیعہ صحابہ کرام کے خلاف یکطرفہ غلاظت بکتے تھے اور اب محمود عباسی نے جو درخت کاشت کیا تھا تو اس کا پھل کھانے کیلئے جاوید غامدی اور اس کے شاگرد میدان میں ہیں۔ اسی تناظر میں یزید، مروان اور اس کی اولاد کو خدائی منصوبے کا حصہ قرار دینے کی اچھی وکالت ہے۔ جس پر فیس بھی تگڑی مل سکتی ہے۔ کیونکہ ایک طرف شیعہ اقلیت اور دوسری طرف اس کی مخالفین کی اکثریت ہے۔ اگلی منزل میں پھر آل فرعون اور نمرود بھی خدائی منصوبہ ہوگا۔
اگر گریٹ اسرائیل نے مدینہ پر قبضہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، خاندان اور تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی ناپاک کوشش کی تو غامدی کی ذریت کہے گی "یہ خدائی منصوبہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حادثے کے نتیجے میں منصب حاصل کیا پھر ابوبکر صدیق حادثاتی خلیفہ اور عمر اس کا نامزد کردہ تھا جب بنوامیہ امیہ کا اصل خدائی منصوبہ حضرت عثمان کی شکل میں آیا تو ان کے خلاف سازش کی گئی پھر امیرمعاویہ اور یزید کی شکل میں خدائی منصوبہ آیا تو پھر حسین اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ نے شرارت کی لیکن پھر وہی مروان بن حکم اور اس کی اولاد کو اللہ نے منصب خلافت سے سرفراز فرمایا تھا جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر بدر کیا تھا۔ اسلئے کہ آپ جانتے تھے کہ منصب خلافت کا تاج اس خاندان کے سر پر سجے گا۔ اتنی صلاحیت آپ میں تھی لیکن خدائی منصوبہ روکنے میں بنوہاشم ناکام رہے اسلئے اللہ نے نرینہ اولاد سے محروم کیا۔ علی حسن اور حسین اور ان کی اولاد خدائی منصوبے کے ضرب علیکم الذلہ کے مصداق بن گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ ذاتی خصائل تھے اسلئے اللہ نے اولاد کو زندہ نہیں رکھا۔ بدر میں بنوامیہ کے افراد کے قتل کا بدلہ کربلا میں لیا گیا اور فتح مکہ کا بدلہ طویل خلافت میں خدائی منصوبہ نے لیا اور رہی سہی کسر بنوعباس نے پوری کی جس کو بدر میں قید کیا گیا تھا”۔
یہی ہے ڈاکٹر عرفان شہزاد اور غامدی کی سوچ جس کا کھل کر اظہار اس وقت ہوگا کہ جب گریٹ اسرائیل کا منصوبہ مکمل ہوگا۔ لیکن یہ خواہش کبھی انشاءاللہ پوری نہیں ہوگی۔