لال مسجد کے واقعہ کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے۔ اس میں دو کردار نمایاں تھے ایک غازی عبدالرشید اور دوسرے مولانا عبدالعزیز۔ ایک شہید ہوگئے اور ایک خواتین کے ساتھ نکلتے وقت گرفتار ہوگئے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دونوں بھائیوں کی طرح بچیاں بھی دو حصوں میں تقسیم ہوں۔ ایک شہداء کی فہرست میں شامل ہوں اور دوسرے صحیح سلامت گھر پہنچی ہوں۔ لیکن ابھی اسلام آباد میں تحریک انصاف کا تازہ واقعہ ہوا تھا جس میں ایڈوکیٹ لطیف کھوسہ نے تین سو افراد کی خبر دی تھی یا دو سو کی؟۔ لیکن پھر معاملہ دس بارہ تک پہنچا اور اب انہوں نے شہداء کی تصاویر نمائش کیلئے بھی لگا دیں۔ یہ بہت آسان حل ہے کہ شہداء کی فہرست جاری کی جائے۔ کیونکہ طالبات کے والدین اور گھر بار ہوتے ہیں۔ جنازے کیلئے ان کے آبائی گھروں تک پہنچانا چاہیے تھا۔ افغانستان کو بھی افغانیوں کی لاشیں سپرد کی جاتی ہیں اور ولی اللہ معروف کو بھی گم شدہ افراد کی فہرست دے سکتے ہیں۔
باقی مفتی عبدالرحیم اور جامعہ الرشید کا سائیڈ نہیں پکڑتا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ پاک فوج ان کو گرانٹ دیتی ہوگی۔ البتہ یو ایس ایڈ کی مدد سے یونیورسٹی بنائی ہوگی۔ اسلئے کہ پرویز مشرف دور میں امریکہ نے یونیورسٹیوں کیلئے پیسے دیئے تھے۔ اب بھی اپنے لگائے ہوئے پودے کی آبیاری کررہے ہوں گے۔ جب امریکہ افغان جہاد اور فرقہ پرست طاقتوں کا حامی تھا تو یہ لوگ بھی دھمال ڈال رہے تھے۔ مفتی عبدالرحیم کے اسامہ اور ملاعمر سے مراسم بلکہ سرپرستی تک کے قصے مشہور ہیں اور دوسری طرف امریکہ بے گناہ لوگوں کو بھی لے گیا اور اتنے بڑے سرپرستوں کو نہیں پکڑا تھا؟۔
جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ افغان طالبان اور افغانستان میں برسراقتدار امریکیوں کیلئے مفتی عبدالرحیم کی شخصیت یکساں طور پر قابل احترام تھی۔