شہریار وڑائچ صاحب ! آپ کی جرات کو سلام۔ اللہ آپ کو اپنی حفظ وأمان میں رکھے۔ آپ اپنے لئے مشکلات پیدا نہیں کریں۔ اپنی بات میں وزن پیدا کریں مگر تنقید کا یہ انداز جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ پھر لوگ کہیں گے کہ وڑائچ صاحب کو پنگے کا شوق تھا یہ تو آخر ہونا تھا۔ جب گورنر سلمان تاثیر کا واقعہ ہوا تھا تو جماعت اسلامی کا فرید پراچہ علم کے نام پر جہالت بک رہا تھا۔ سنی تحریک کے ایک رہنما نے کہا کہ إمام ابوحنیفہ کے شاگرد إمام ابویوسف کے سامنے دسترخوان پر کسی نے کہا کہ مجھے کدو پسند نہیں تو ابو یوسف نے تلوار سے اس کے سر کو تن سے جدا کرنے کا کہا لیکن جس کو حوالہ بناکر پیش کیا گیا تو جب اس کو یہ پتہ چلا کہ إمام ابویوسف نے معاوضہ لیکر وقت کے بادشاہ کے لئیے اس کے باپ کی لونڈی کو جائز قرار دیا تھا۔۔۔۔۔۔
مفتی تقی عثمانی کے بہنوئی مفتی عبدالرؤف سکھروی کے مواعظ چھپ چکے ہیں کہ شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین سود ہے اور سود کے 73 گناہ اور 73 وبال میں کم ازکم گناہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کے برابر ہے۔ اس کے باپ مفتی محمد شفیع کی تفسیر معارف القرآن کا حوالہ دارالعلوم دیوبند نے بھی دیا ہے لیکن جب ہم نے یہ بات اٹھائی کہ اب عالمی سودی بینکاری کو معاوضہ لینے کے بعد جائز قرار دیا تو اس کا کیا گناہ ہوگا؟۔ تو آف دی ریکارڈ کہہ رہے ہیں کہ نیوتہ شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین دین ہم جائز سمجھتے ہیں اور خود بھی کرتے ہیں۔ پہلے سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا پھر ہم نے اخبار میں سرخی لگائی تو اپنی کتابوں سے نکالنے کاباقاعدہ روزنامہ اسلام کراچی میں اعلان کردیا۔ پھر کتاب کو مارکیٹ سے اٹھایا اور دوبارہ روزنامہ اسلام کراچی میں اعلان کردیا کہ ہم پر بہتان لگانے والے خدا کا خوف کریں۔ پھر ہفت روزہ ضرب مومن کراچی میں دونوں مضامین ایک ساتھ ایک شمارے میں شائع کردیئے ایک طرف شکریہ کے ساتھ نکالنے کا مضمون تھا اور دوسری طرف بہتان لگانے والا اعلان تھا۔ پھر سیکرٹری اطلاعات ونشریات سندھ مہتاب راشدی نے مجھے طلب کیا جب صورتحال بتائی تو حفاظتی اسکواڈ کیلئے وزارت داخلہ سے کہنے کی پیشکش کردی۔ لیکن میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر مجھ پر کرائے کے قاتلوں نے قاتلانہ حملہ کیا لیکن بچت ہوئی۔ پھر گھر پر حملہ کردیا کرائے کے قاتل مل جاتے ہیں۔ میں آدھا گھنٹہ پہلے گھر سے نکلا تو وہ بھی حملے کیلئے پہنچ گئے تھے۔ گھر پر 13 افراد کی شہادت ہوئی تھی۔ اب خود بھی احتیاط کرتا ہوں اور آپ جیسے لوگوں سے بھی کہتا ہوں۔
شہریار وڑائچ:
سر بہت بہت شکریہ آپ کی شفقت کا- مجھے بہت افسوس ہے جو کچھ آپ نے بیان فرمایا ہے یعنی جو کچھ آپ کے ساتھ بیتی ہے- اور اس بات کا شکریہ کہ آپ بہت ہی قیمتی معلومات شئیر کرتے ہیں- میرے جیسے طالبعلم کے لئے آپ کی تحریروں میں سیکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے- اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی امان میں رکھے- شکریہ