دین کی راہ میں کون رکاوٹ ہے؟ تاریخی حقائق کیا ہیں؟ اس پر افہام وتفہیم کے ذریعے ایک وسیع مکالمہ بہت ضروری ہے۔ اگر ہمارے دوست مولانا محمد امیر صاحب اپنے نام اور تعارف کے ساتھ سوشل میڈیا پر آجائیں تو بہت بہتر ہوتا۔ ایک موجودہ دور ہے ایک ماضی ہے۔ موجودہ دور میں طالبان کی حکومت کو بھی امریکہ کی طرف سے اچھی خاصی مدد مل رہی ہے اور امریکہ سے رابطے کی خواہش مند بھی ہے اور پاکستان میں جمہوریت کی وجہ سے نظام کمزور ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی وجہ سے جمہوری حکومت 17 سیٹوں پر کھڑی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی ہمدردیاں ریاستی اداروں عدالت پارلیمنٹ اور سب سے اٹھتی جارہی ہیں۔ انگریز کے خلاف جب 1857ء کی جنگ آزادی لڑی گئی تو اس میں ہندو مسلمان سب شریک تھے۔ پھر مجاہدین کو کالے پانی کی سزا اور توپوں سے اڑانے کی سزائیں دی گئی تھیں۔ پھر 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی اور 1874ء میں علی گڑھ کی اور دونوں نے جہاد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ علی گڑھ نے پاکستان کی بنیاد رکھی اور دارالعلوم دیوبند نے متحدہ ہندوستان میں لا مذہب حکومت کی حمایت کی تھی۔ حدیث میں طاقت کے زور پر مسلط ہونے کی وعید آئی ہے۔ جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں روس کے خلاف جہاد تھا تو میں خود بھی حرکت الجہاد الاسلامی کے ساتھ گیا تھا اور چند دن میں بھانپ لیا تھا کہ ایک طرف روس اور دوسری طرف امریکہ ہے اور انہوں نے تسلیم کیا تھا لیکن پھر میں ایک پھڈے میں پڑگیا اور جو تجویز پیش کی تھی انہوں نے دوسری طرح سے اس پر عمل کیا تھا کہ جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور اس کے ساتھیوں کے ذریعے حکومت پر قبضے کی کوشش کی تھی۔ لکل فن الرجال ہر فن کے اپنے آدمی ہوتے ہیں۔ حضرت خالد بن ولید اور حضرت علی بڑے بہترین جرنیل تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اعلی ترین سیاسی، اخلاقی تربيت بھی کی تھی اور حکمت بھی سکھائی تھی۔ لیکن ہماری فوج اور مجاہدین کے أحوال بالکل مختلف ہیں۔ جنگ اور دفاع کی تربيت والا ایک اچھا محافظ اور دفاعی ماہر ہوسکتا ہے۔ آپ نے کہا کہ بیرون ملک سے دفاع ہم پر فرض ہے لیکن جنگجو سیاسی قیادت اور حکمت عملی میں کمزور ہوتا ہے۔ جمہوریت ایک بہترین سیاسی قیادت فراہم کرتی ہے۔ پاکستان فوج، مجاہدین اور علماء کرام نےحاصل نہیں کیا بلکہ سیاسی جماعتوں نے قوم کو شعور دیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد جیسے سیاسی شخصیات پیش پیش تھیں۔ عبدالصمد خان اچکزئی شہید اور عبدالغفار خان نے قربانیاں دیں۔ طالبان نے سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا اور مولانا فضل الرحمان، قاضی حسین احمد پر حملے کئے۔ اے این پی کی بہادر قیادت کے خلاف لڑے۔ بڑی تعداد میں علماء کرام اور قوم کی قیادت کرنے والوں کو شہید کیا۔ افغانستان میں خدانخواستہ پھر امریکہ آگیا تو مسائل ہوں گے۔ عالمی خلافت قائم ہوگی اور پاکستان مرکز بنے گا۔ جب روس کے دور میں ولی خان بابا کہتا تھا کہ جہاد میں مانتا ہوں لیکن توپ، جہاز، ٹینک، میزائل، جنگی تربيت تمہارے پاس ہے اور لڑیں ہم؟۔ تو لوگ نہیں سمجھتے تھے لیکن اب قوم پرست اور صحافی مکالمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت مولانا ہیبت اللہ جہاد کا اعلان کیوں نہیں کرتا؟۔
چلو وہ تو جنرل ضیاء الحق تھا لیکن یہ تو امیر المومنین ہے؟۔ ان کا پروگرام یہ ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی لڑائی ہو اور طالبان کی حکومت ختم ہوجائے۔ میں نے تجویز رکھی تھی کہ امریکہ کے جانے کے بعد پاکستانیوں کو واپس بلایا جائے اور اس پر عمل بھی ہوا لیکن پھر ماحول بگڑ گیا۔ آپ لوگوں کی ساری زندگی جہاد میں گزری ہے۔ اور بہت قربانیاں دیں ہیں لیکن امریکی بہت کم مرے ہیں اور افغانی اور پاکستانی زیادہ شہید ہونے ہیں۔
اگر جنگ بندی ہو اسلام کی آفاقی تعلیمات کو پہلے سمجھا جائے۔ عام بینکاری کی بہ نسبت نام نہاد اسلامی بینکاری میں سود کی شرح زیادہ ہے۔ پاکستان میں بیروزگاری گاری ہے۔ بیرون ملک کشتیوں میں لوگ مرتے ہیں۔ ملک میں بھوک اور بے روزگاری کی وجہ سے غریب کے بچے مرتے ہیں۔ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے والد بھی غریب ہیڈماسٹر تھے۔ طارق آباد کچی آبادیوں کی طرح غریب غرباء کا علاقہ ہے۔ سعودی عرب نے خطرہ بھانپ لیا کہ قطر کے بعد اسرائیل حرم کو بھی نشانہ بناسکتا ہے تو پاکستان سے دفاعی معاہدہ کیا۔ جیسے پاکستان کا دفاع ہے ویسے حرم کا دفاع کرنا فرض ہے۔ اگر مجاہدین نہیں ہوتے تو امریکہ بگرام کو پکڑ لیتا اسلئے مجاہدین کی بہت اہمیت ہے۔ اور پاکستان کی فوج نہیں ہوتی تو گریٹر اسرائیل تک معاملہ پہنچ جاتا۔ اسلئے اللہ کرے کہ دونوں کی صلح ہوجائے اور امن و سکون کی زندگی سب کو نصیب ہوجائے اور ایک دوسرے کے شر سے بھی اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔
جہاں تک اسلامی نظام کا تعلق ہے تو مدارس کے نصاب سے معاملات شروع کرنے ہوں گے۔ افغانی طالبان پختون خاتون کو کابل اور جلال آباد میں حجاب اور دوپٹہ کیساتھ صحافت کرنے دیتے ہیں لیکن وزیرستان کے مولانا عبدالرشید نے رضیہ محسود کی سخت مخالفت کی ہے۔ یہ لوگ پھر بعد میں طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اگر افغانی طالبان سے بھی آگے مسئلہ ہوگا تو پھر لوگوں کی حمایت نہیں ملے گی۔ میرا تو مشورہ ہے کہ قرآن کے مطابق اہل لوگوں کو ذمہ داریاں سونپنے کیلئے بلدیاتی انتخابات افغانستان میں کرائے جائیں اور عوام کو مشاورت اور حکومت میں شریک کیا جائے تو پھر بیرون ملک سے افغانی بھی اپنا سرمایہ لیکر آجائیں گے اور امریکی امداد کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ اب بھی افغانستان کا بہت سرمایہ امریکہ نے ہڑپ کررکھا ہے اور وہ امداد سے زیادہ وہی پیسہ ہے جس پر امریکہ سود کمارہا ہے۔ افغانستان میں سیاحت کو فروغ ملنا چاہیے۔ امن قائم ہوگا تو لوگوں کے روز گار کھل جائیں گے۔ بدامنی سے سب کا نقصان ہے۔ فوج سے زیادہ عوام کو اپنا غم کھاتا ہے کیونکہ فوج کے شہید کو مراعات ملتی ہیں کیونکہ وہ وطن کے دفاع کا جذبہ رکھنے ہیں اور بھرتی ہونے کے بعد ذہنی طور پر تیار رہنے ہیں۔ لیکن وہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ طالبان اپنے بچے ہیں زیادہ تر دفاعی پوزیشن لیتے ہیں۔ ایک فوجی افسر نے اپنے سپاہی کو بچانے کیلئے قربانی دی اس کے بچے کی ویڈیو دیکھ لو۔ بچہ پہلے ہمت کرکے کہتا ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے کو نہیں مارے اور پھر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔ اسلئے قرآن نے ایک بے گناہ انسان کی موت کو انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنی شوری میں اس پر غور کروگے کہ کچھ اصلاحات کی ضرورت ہے اور انشاء اللہ اسلامی نظام لڑے بغير پرامن طریقے سے آئے گا۔