پروفیسر صاحب نے سنت کا معنی سمجھا دیا ہے کہ کردار کا نام سنت ہے۔ ایک شخص کا قرض تھا اور وہ تذلیل کی حد تک جاتا تھا۔ پروفیسر صاحب کا خاندانی بیک گراؤنڈ مضبوط تھا اور ان کو طیش بھی آیا۔ حضرت عمر نے یہودی کے رویہ پر گردن اڑانے کی بات تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہیں دی اس یہودی کی بدتمیزی برداشت کی اور پروفیسر صاحب نے اسی سنت پر عمل کرنے کیلئے خود کو تیار کیا اور جب اس نے مہلت دی تو پروفیسر صاحب نے اس کو سنت کا کمال قرار دیا، سنت کردار کا نام ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچ اور پشتون کے اپنے لباس ہیں اور مکہ مکرمہ کے مشرکین تہبند پہنتے تھے اور مدینہ منورہ میں یہودی شلوار پہنتے تھے۔
اگر کسی بھی نبی کی زبان تہذیب وتمدن اور لباس واطوار اپنی قوم سے مختلف ہو تو یہ ممکن نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلئے کہ 40 سال بعد نبوت کی بعثت ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی لباس نہیں بدلتا ہے۔
مثال کے طور پر چین میں کسی نبی کی بعثت ہوتی تو ان کا لباس بھی قومی ہوتا اور داڑھی بھی نہیں ہوتی لیکن کیا پھر سنت یہ ہوتی کہ داڑھی نہیں رکھنا سنت ہے؟۔
یہ بات مذہبی لوگ اس وقت سمجھ لیں گے کہ جب تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی اور جماعت اسلامی وغیرہ چین میں اپنی دعوت سے اتنا اثر پیدا کریں کہ جس طرح انجیکشن کے ذریعے بھی بعض ٹرانسجنڈروں نے داڑھی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اس طرح یہ لوگ ویڈیوز بنائیں کہ چوتڑوں پر داڑھی نکالنے کیلئے انجیکشن لگوائیں۔
ہم نے قرآن کی واضح آیات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ إمام ابوحنیفہ کی تقلید کے باوجود بھی إمام صاحب کا مسلک نہیں سمجھا ورنہ حلالوں کی لعنت سے بہت لوگوں کی عزتیں خراب نہیں ہوتیں۔ کردار سنت ہے لیکن یہود کے نقش قدم پر حلالہ کی لعنت پر چلنے والے خود کو سنتی سمجھتے ہیں۔