تبصرہ عتیق گیلانی
————-
وڑائچ صاحب !
آپ ایک صحافی اور ولاگر ھیں اور جتنا واضح الفاظ میں مذھبی جماعتوں کے خلاف بولتے ھیں لیکن ۔ ۔ ۔ ۔
برے کیوں نہیں لگتے؟
اسلئے کہ آپ ایک لٹھ مار کی طرح بات کرتے ھیں اور اپنی معلومات کے مطابق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ھیں !
مبارک صاحب کی شخصیت کو آپ نے تحقیق اور دانش کی انوکھی شکل میں پیش کیا ھے ، جب اس نے کہا کہ بھارت نے پاکستان میں امریکہ کو نشانہ بنایا اور امریکہ نے بھارت کو مزہ چکھا دیا تو اس بات کا اظہار بھارت اور پاکستان میں سے کوئی بھی نہیں کررھا ھے ۔ ۔ ۔ پھر میں نے لکھا کہ اگر بچہ یہ سمجھ رھا ھے کہ چاند اس کے پیچھے چل رھا ھے تو اس خوش فہمی کا نقصان نہیں ھے ۔
لیکن ۔ ۔ ۔ جب اس نے قرآن کی آیات کے غلط حوالے شروع کئے اور بدتمیزی کی انتہا کردی تو سخت لہجے کی ھی ضرورت تھی ۔
سورہ معارج میں ایک دن کی مقدار حضرت جبریل اور فرشتوں کے چڑھنے کی 50 ہزار سال کے برابر ھے یہ ایک معمہ تھا کہ ۔ ۔ ۔ وقت کے اندر یہ پیمانہ کیسے ھوسکتا ھے کہ ایک دن کی مقدار کو 50 ھزار سال قرار دیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج سے اس کی تصدیق ھوتی تھی لیکن اہل عقل ودانش علماء نے شروعات سے اس کو خواب وخیال قرار دیا !
لیکن ۔ ۔ ۔ اہل ایمان اس پر غیبی ایمان رکھتے تھے۔
پھر البرٹ آئن سٹائن نے 1930 میں جب نظریہ اضافیت ثابت کیا تو اس میں تیز رفتاری کے باعث وقت کی بدلتی ھوئی مقدار ثابت ھوگئی جس کے بعد علم غیب پر جن کا ایمان تھا تو اس پر غیر مسلم یہودی سائنسدان کی گواہی بھی آگئی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وقت کو علم غیب کی چابی قرار دیا تھا ۔
زمین اپنے مدار پر گھومتی ھے جس سے دن رات کا پتہ چلتا ھے اور سورج کے گرد گھومتی ھے جس سے ماہ و سال کا پتہ چلتا ھے اور کہکشاں میں بھی رواں دواں ھے جس سے ستاروں اور کہکشاؤں کی وسعت کا پتہ چلتا ھے ۔
اللہ نے مواقع نجوم کی قسم کھا کر قرآن میں فرمایا
یہ بہت عظیم قسم ھے اگر تم جان لو۔
حضرت ابن عباس نے کہا کہ
قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا۔
سائنس کا علم ھو ۔ ۔ ۔
اور
قرآن کی آیات کا علم ھو ۔ ۔
اور
حدیث کا علم ھو ۔ ۔ ۔
تو پھر اس پر بات کریں ! ! !
مبارک صاحب ہوسکتا ھے کہ امریکہ اور یورپ میں گھوم آیا ھو لیکن وہاں کے تھڑوں پر بیٹھنے والے بھی یہاں والوں سے زیادہ ھوشیار نہیں ھیں۔
ایک ذمہ دار شخص کے روپ میں غیر ذمہ دارانہ حرکتیں بہت خطرناک ھیں۔
ارشد محمود صاحب کے دو ولاگ آپ کے پروگرام سے اپنے اخبار نوشتہ دیوار میں بھی شائع کئے اور ان کی گفتگو میں مکاری اور عیاری دکھائی نہیں دیتی ھے۔
مبارک صاحب بھی اپنی حدود میں بات کریں تو اچھی بات ھے ۔ ۔ ۔ لیکن الٹے سیدھے حوالے دیکر بے تکی بات کریں گے تو عزت نہیں رھے گی۔
کسی ایک آیت کا صحیح حوالہ نہیں دیا زمین کو ساکن کہنا تو بہت دور کی بات ھے ۔ ۔ ۔ قرآن نے تو ھر چیز کو اپنے فلک میں تیرنے سے تشبیہ دی ھے اور سائنس نے بہت بعد میں یہ چیز دریافت کی ھے۔ زمین کو جھولا قرار دیا ھے۔ آج ایسے جھولے بن گئے ھیں کہ اپنے محور کے ساتھ ساتھ ایک اور محور پر بھی گھومتے ھیں۔
جس موضوع پر بات کرنی ھو تو دوسروں کو جھٹلانے سے پہلے اپنا وضو اور استنجاء کرنا چاھیے جب دوسروں کے چہروں پر غلط طریقے سے گند ملو اور ۔ ۔ اپنی لتھڑی ھوئی کی بدبو سے فضا متعفن بنائیں گے ۔ ۔ ۔
تو تنبیہ ہوگی۔
————-
Mukhalif ko Gaali Do – Moulvi Culture
اکتوبر 31, 2025
تبصرہ