پوسٹ تلاش کریں

سورہ اللیل دراصل سورہ النہار ہے (آمد رسول ۖ دن کا اجالا) صحابہ نے آسانی کیساتھ عروج اور کفار نے زوال کا سفرطے کرلیا

سورہ اللیل دراصل سورہ النہار ہے (آمد رسول ۖ دن کا اجالا) صحابہ نے آسانی کیساتھ عروج اور کفار  نے زوال کا سفرطے کرلیا اخبار: نوشتہ دیوار

جلد فتح مکہ اور قیصر وکسریٰ کو شکست اور بڑا اقتدار
غزوات میں شکست اورپھرفتح مکہ میں بڑا سرنڈر
واللیل اذا یغشٰیOوالنہار اذا تجلٰیOوما خلق الذکر والانثٰیOان سعیکم لشتٰیO(سورة اللیل:1،2،3،4)

رات کی قسم جب وہ ڈھانپ لے اوردن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے اورقسم جو نراور مادہ پیدا کیا ۔بیشک تمہاری کوششیں الگ الگ ہیں۔

فامامن اعطٰی واتقیOوصدّق بالحسنٰیOفسنیسرہ للیسریٰO (آیات:5،6،7)

پس جس نے حق دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی تصدیق کردی تو ہم اس کو عنقریب آسانی کیساتھ لے جائیں گے سہولت کیلئے۔
رسول اللہ ۖ چمکتے سورج کی طرح طلوع ہوگئے تو صحابہ کرام نے مستحقوں کو ان کے حقوق دینے شروع کردئیے اور تقویٰ اختیار کیا اور فطری شرعی احکام کی تصدیق کردی تو بہت آسانی کیساتھ آسانی کی منزل تک اللہ نے پہنچادیا۔

 

واما من بخل واستغنٰیOوکذّب بالحسنٰیOفسنیسرہ للعسریٰ (آیات:8،9،10)

اور پس جس نے بخل کیا اورحق سے لاپروا ئی برت لی اوراچھائی کو جھٹلادیا تو ہم اس کو آسانی کیساتھ لے جائیں گے مشکل کیلئے۔
اندھیری رات میں کفار نے حقوق غصب کئے ،پھر دن دھاڑے بھی بخل کیااور حق کی پرواہ نہیں اور فطری شرعی احکام کو جھٹلایا توپھر آسانی سے مشکل میں پہنچ گئے، جن پر مظالم کئے تھے انہی کے وہ دستِ نگربن گئے ۔

 

ومایغنی عنہ مالہ اذتردّ ٰ یOان علینا للھدٰیOفانذرتکم نارًاتلظیٰOلا یصلاھا الا الشقیOالذی کذّب و تولّیٰ

اور اسکا مال اسکو نہ بچا ئے جب گڑھے میںگرے۔بیشک ہمارا کام ہدایت ہے تو ہم نے بھڑکتی آگ سے تمہیں ڈرایا۔جس میں نہیں جائے گا مگر بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ موڑدیا۔ (11تا16) غیرتمند قبضہ مافیا، بھکاری ،طاقتور کے سامنے بھیگی بلی اور چڑھتے سورج کا پجاری نہیں ہوتا ۔

جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو پھر لوگ اپنے گرد وپیش سے پوری دنیا تک دو پارٹیوں میں بٹ جائیںگے۔

 

وسیجنبھا الاتقیOالذی یؤتی مالہ یتزکّیٰOومالاحد من نعمةٍ تجزٰیOالا ابتغاء وجہ ربہ الاعلٰیOولسوف یرضٰیO

اور عنقریب کفروتکذیب سے کناہ کش ہوگا جو پرہیزگار ہے جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ تزکیہ حاصل کرے اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو نعمت کا بدلہ دے سکے۔ مگر یہ کہ وہ اپنے ربّ اعلیٰ کی رضا جوئی میں مگن رہے۔ اور عنقریب وہ اس سے راضی ہوگا۔ (آیات17تا21)

 

صلح حدیبیہ سے قبل سیدنا ولید بن ولید اور بعدمیںسیدنا خالد بن ولید اور فتح مکہ کے بعدسیدنا ابوسفیان و سیدہ ہند اور پھرسیدنا عکرمہ بن ابوجہل کفر سے کنارہ کرکے دامن رسالتۖ میں پناہ گزیں ہوگئے۔یہ بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کسی نعمت کا بدلہ کوئی ایک بھی نہیں دے سکتا مگر یہ کہ اسکے بدلے اپنے رب اعلیٰ کی رضا میں مگن رہے توعنقریب وہ راضی ہوگا۔حضرت ابوبکر وعمر ، عثمان، علی ،حسن اور معاویہ خلافت کے بھوکے نہیں تھے، ذمہ داری کا بوجھ اٹھالیااور صحابہ کرام نے آزمائش اور مشکلات میں اللہ کی رضا جوئی کیلئے ہمیشہ کیلئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔

یہ نری بکواس ہے کہ ایک ابوبکر نے نعمت کا بدلہ دیا۔ نعمت کا بدلہ ممکن نہیں ۔کسی کو منصب خلافت ملا یا نہیں ؟مگر اللہ سے راضی تھا اور اللہ اس سے راضی تھا اور ہر ایک کا معاملہ اپنا اپنا ہی تھا۔ لڑائی میں بھی خلوص تھا اور صلح میں بھی ایمان کا تقاضہ۔ جیسے رسول اللہ ۖ نے غزوہ بدر، اُحد، خندق، صلح حدیبیہ، فتح مکہ ، حنین اور یرموک غزوات میں تزکیہ فرمایا،تعلیم وتربیت دی اور حکمت سکھائی تھی۔ ماکان لنبی اں یکون لہ اسرٰ ی حتی یثخن فی الارض اور عصٰی اٰدم ربہ فغوٰی کی آڑمیںگندی ذہنیت کی گنجائش نہیں ۔ابوجہل وابولہب کی اولادخلوص کی پیکر بن گئی ۔اسلام کی سچائی کی تصدیق کی اور قبل اسلام کے کفر کو اللہ نے معاف کردیا مگر حقوق العباد انہوں نے پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے واپس لوٹادئیے۔

یزید اور حسین ، فاطمہ وہندہ اور حسن ومعاویہ پر بحث حقائق سے منہ چھپانا ہے۔اپنے دور کے یزید و حسین کی بات کرو۔ عربی مقولہ ہے کہ ہر فرعون کیلئے موسیٰ ہے۔ عمران خان کے نکاح خواہ مفتی سعید خان کی جنید جمشید سے فون پر بات ہوئی تو اس آیت سے حضرت ابوبکر مراد لیا۔ میں نے کہا کہ آیت میں کسی ایک کا استثناء نہیں،اگر ہوتا تو بات بنتی؟۔ کہنے لگے کہ سارے مفسرین نے یہی مراد لیا۔ میں نے کہا کہ مفسرین نے متن کیخلاف تفسیریں کرکے اسلام کا بیڑہ غرق کیا اس نے پشتو میں مفتی ابراہیم سے میرا کہا کہ یہ تو بڑا انقلابی انسان ہے۔

البقرہ:230کی اصل تفسیر یہ ہے کہ جب عورت کو کسی بھی طلاق کے بعد پہلاشوہر کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو پہلے کیلئے رجوع حرام ہے۔ سعد بن عبادہ کی بیگمات سے لیڈی دیانا تک بہت مثالیں ہیںمگر مولوی حلالہ کیلئے تشنہ تھا۔ قرآن کو بازیچہ اطفال اور مذاق بنادیا گیا اسلئے متروک ہوا۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہو ا، یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا۔ پس خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے”۔ آج اسلام مذہبی طبقات کے ہاتھوں اجنبی بن چکا ہے۔ جب کوئی جماعت اس کو اجنبیت سے نکالے گی تو پھر حق اور باطل کے دو گروہ بنیں گے!

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذتِ کردار نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
جھوٹے غامدی کے بک بک پہ نہ جا
علیکم بالعلم و علیکم بالعتیق
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے
ایک دن خلافت بھی قائم ہوگی۔ گل احمد مروت
رسول ۖ پر وحی نازل ہونے کی وہ دلیل جس کو مشرق اور مغرب والے سب قبول کرلیں گے انشاء اللہ تعالیٰ