تبصرہ عتیق گیلانی
مبارک صاحب !
دل کھول کر مذھب کی مخالفت کریں لیکن ۔ ۔ ۔
کس نے کہا ھے کہ علم حاصل نہ کرو !
جب ایک دفعہ صحابہ کرام نے کھجور کے پھول مادہ کھجور کے درخت پر ڈالے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کیا ضرورت ھے پھر صحابہ کرام نے اس عمل کو چھوڑ دیا اور کھجور کا پھل کم لگا ۔ ۔ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دنیا کے معاملے کو خود بہتر سمجھتے ھو ۔ ۔ ۔اور
اس سے یہ رھنمائی ملتی ھے کہ دنیا کی ترقی کا تعلق لوگوں کے تجربات اور تحقیق سے ھے ۔
جہاں تک کی بات ھے تو اس کے بارے میں سَقْفًا مَّحْفُوظًا سورہ الانبیاء میں سات اوزون ھیں ۔
اگر تھوڑی سی تحقیق کرلیتے تو سائنس سے ان حفاظتی اوزون کا بھی پتہ چلتا ۔
آسمانوں میں پانی کے بڑے ذخائر دریافت ھوئے ھیں ۔
قرآن کہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔
جو چیز نفع بخش ھے وہ زمین میں ٹھہرتی ھے
اگر مبارک صاحب کو اتنا پتہ ھوتا کہ کھربوں ستارے ایک کہکشاں میں ھیں اور پھر کھربوں کہکشائیں ھیں ۔
سورہ رحمان میں اللہ نے فرمایا کہ
تمہارے لئے آسمانوں اور زمین کے اقطار سے نکلنا ممکن نہیں ھے مگر سلطان کے ذریعے سے۔
آج خلائی شٹل کے ذریعے سے سورہ رحمان کی عملی تفسیر ھورھی ھے اور ۔ ۔ ۔ اس میں ثقلان کا ذکر ھے جو ثقل اور کشش ثقل پر دلالت کرتا ھے ۔
سائنس میں ترقی کالج یونیورسٹی سے سائنس حاصل ھوتی ھے۔ ڈاکٹر قدیر کی کسی مولوی نے مخالفت کی ھے؟ جہاں سے سائنس میں ترقی ھوسکتی ھے تو ذمہ دار مولوی کیوں ھے؟
جیسے کوئی ڈاکٹر قدیر اور مبارک مند کو برا بھلا کہے کہ تم قرآن کے تلفظ اور ترجمہ کو ٹھیک طریقے سے نہیں پہنچاتے ھو !
بات قیمض کی ھو اعتراض شلوار پر کیا جائے۔
حدیث میں یہاں تک موجود ہے کہ۔ ۔ ۔
دنیا ایسی ترقی کرے گی کہ دور سے انسان اپنے گھر کے حالات کو دیکھے گا اور قرآن اور سائنس میں تضاد اس وقت ھوگا کہ جب سائنسدان اتنی ترقی کرے گی اور ثابت کرے گی کہ قرآن کی فلاں بات غلط ھے۔
مبارک صاحب نے قرآن اور سائنس دونوں کو شاید ٹھیک طریقے پڑھا نہیں ھے !
یا پھر سمجھا نہیں ھے ۔
قرآن نے تسخیر کائنات کی جب دعوت دی تو مسلمان اس پر عمل کرتے۔
مسلمان مذھبی طبقات نے سائنس تو دور کی بات بہترین معاشرتی مسائل کو بھی مسخ کردیا ھے ۔ ۔ ۔
مذہبی طبقات کی میں حمایت نہیں کرتا۔
ساحل عدیم کو تو میں مذھبی بھی نہیں سمجھتا ھوں۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے سود کو جائز قرار دیا ھے ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ مبارک صاحب کی مخالفت سے یہ زیادہ خطرناک ھے۔
سائنس کی توجیہات سے زیادہ
معاشرتی معاملات کے بگاڑ کا مسئلہ ھے۔
Bachon ko itna Jahil Kiun Bana Rahay Ho |
جنوری 6, 2026
تبصرہ