تبصرہ عتیق گیلانی
———-
مولانا طاہر اشرفی صاحب !
آپ سے مفتی ولی مظفر کے فون پر دعا سلام ھوئی تھی ۔
مساجد کی اکثریت کو 25 ھزار ماھانہ تنخواہ مل جائے تو بہت اچھا ھوگا ۔ پیسوں والے کیلئے یہ رقم کچھ نہیں مگر غریب علماء اور مساجد کے آئمہ کیلئے بہت بڑا سہارا ھے ۔
آج کل مسالک اور فرقے مافیاز بنے ھوئے ھیں ۔ علماء دیوبند کا تعلق حنفی مسلک سے ھے مگر دیوبندی اور بریلوی الگ الگ فرقے بن چکے ھیں ۔
میرے استاد محترم مفتی محمد نعیم صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی کا میں نے اخبار میں طلاق اور حلالہ کے حوالہ سے بیان بھی شائع کیا تھا اور پھر انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی نے ناراضگی کا اظہار کیا اور مجھے خطرہ ھے کہ وفاق المدارس سے نکال دیں گے ۔ سارے علماء نے سودی بینکاری کے خلاف مفتی تقی عثمانی کی مخالفت کی مگر وفاق المدارس سے نہیں نکال سکے ! تو کیا اس سے بڑی کوئی حرکت ہوسکتی ھے کہ ۔ ۔ ۔ کمزور اور طاقتور میں اتنا بڑا فرق کیا جائے؟
اشرفی صاحب !
درس نظامی کے نصاب کے حوالہ سے مولانا سمیع الحق کا بیان بھی ھم نے شہہ سرخی سے شائع کیا تھا کہ اس میں تبدیلی ھونی چاہیے ، اس میں غلطیاں ھیں ۔ غلطیاں بھی کوئی چھوٹی سی نہیں بلکہ بہت بڑی بڑی غلطیاں ھیں ۔
اگر اس خطے میں جنگ چھڑ جاتی ھے تو ارشاد بھٹی نے کہا ھے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو آنا چاہیے اور امریکہ کا بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی ھوگیا ھے ۔
اگر بھارت پاکستان اور افغانستان میں جنگ چھڑ جاتی ھے تو امریکہ نے افغانستان میں اپنا اسلحہ چھوڑ دیا تھا اور وہ ڈالرز کی خطیر رقم بھی بھیج رھا ھے ۔ مولانا فضل الرحمان نے ان کو کبھی نہیں کہا کہ امریکہ کے منہ پر ڈالرز ماردو مگر مریم نواز کے منہ پر مار رھا ھے؟
جنگ کی صورت میں دارالعلوم دیوبند کے علماء بھارت کے ساتھ ھوں گے ۔ پاکستان کے دیوبندی علماء تقسیم ھوں گے ۔
لال مسجد پر مفتی عبدالرحیم کے مقابلے میں ردعمل سب نے دیکھ لیا اور افغانستان کے علماء نے اپنی حکومت کا ساتھ دینا ھے ۔
مولانا فضل الرحمان نے بارھا کہا ھے کہ وہ ریاست کے ساتھ کھڑا ھے لیکن وہ یہ بھی کہتا ھے کہ اپنے ھاں رٹ نہیں ھے اور افغانستان سے مطالبہ کرتے ھو ؟
اس نے تحریک انصاف اور حکومت دونوں کی خواھشات کے خلاف 26 ویں ترمیم میں مقتدرہ کی خواھش کو پورا کیا تھا لیکن اس وقت بہت گھناؤنا الزام بھی لگایا تھا کہ چین اور امریکہ دونوں کے پروکسی سے رقم لیکر دونوں کو بلیک میل کرتے ھو اور اپنے ملک کا دھشت گردی سے کباڑا کیا ھوا ھے۔
رات کو جنرل انعام الحق نے پشتو پروگرام میں حسن خان سے کہا کہ بنوں سے 500 فوجی فارم کی گائیں طالبان لے گئے ھیں اور پشتون قوم پرست بھی ھیں اور مذھبی بھی ھیں جس کا کوئی حل نہیں ۔
ڈیورنڈ لائن بھی مسئلہ ھے اور ایک حل یہ ھے کہ افغانستان کے پشتون کابل کی طرف دیکھا کریں اور ھمارے اسلام آباد کی طرف دیکھا کریں ۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کے وقت سے اس مسئلے پر بات چلتی رھی ھے اور خوست کے افغانی پاکستانی شناختی کارڈ کے لئے ترس رھے تھے ۔
جنرل انعام الحق نے کہا کہ TTP کو افغان طالبان کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے اور حقانی نیٹ ورک پاکستان کے قریب ھے اور TTP حقانی کے قریب ھیں ۔ اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی تو افغانستان کے طالبان کا ھندوستان کے دیوبند سے نکاح ھوگا اور پاکستان بھی اس سے متاثر ھوجائے گا ۔
ھمارے پاس دلائل کی بنیاد پر کوئی اچھا بیانیہ ھونا چاہیے اور اس کیلئے ھم یہ بات کہہ سکتے ھیں کہ ۔ ۔ ۔ پنجابی قوم پرست کیوں نہیں ھے؟ پنجاب کو انگریز نے تقسیم کیا تو اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی بلکہ متحدہ ھندوستان کی حامی جماعت کی حکومت تھی لیکن مذھب کے نام پر فسادات نے پنجابی کو پنجابی کے ھاتھ قتل کیا !
جس کی وجہ سے اسلام کی روح تو نہیں آئی مگر مذھبی تعصبات نے جنم لیا تھا ۔
فوجی چھاؤنیوں کے ساتھ لال کرتیاں انگریز دور میں غریب طبقے کے لئے بنی تھیں جس میں فوجی ملازمین کی ضروریات پوری ھوتی تھیں ۔
راولپنڈی میں اس کا نام طارق آباد رکھ دیا گیا ھے ، جہاں پر فحاشی کے اڈے جنرل ضیاء الحق نے ختم کئے اور طارق آباد غریب طبقات کا رھائشی علاقہ ھے ۔ سکول کے اساتذہ کرام سے زیادہ شریف طبقے کے لوگ پنجاب میں کوئی دوسرا طبقہ نہیں ھے ۔
جاوید چوہدری نے آرتھر پاؤل کے حوالے سے افغانستان کے اندر استاذ کی قدر کا ذکر کیا ھے لیکن پنجاب میں سب سے زیادہ عزت اساتذہ کی ھے ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے والدین کی شرافت کا ثبوت اس کا حافظ ھونا اور ارشد شریف شہید کی تعریف ھے ۔ بدقسمتی یہ ھے کہ جب PDM نے فوج پر یلغار کی اس وقت تحریک انصاف فوج کی واحد حامی جماعت تھی اور اب وہ بھی خلاف ہوگئی ھے ۔
جن قبائلی عمائدین کو فیلڈ مارشل دھشتگردی کے خلاف کھڑا کرنے کی بات کرتے ھیں تو وہ بھی دوغلے ھوتے ھیں یا پھر طالبان کے ھاتھوں مارے جاتے ھیں ۔ اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ جہادی تنظیموں اور فوج کو لڑنے کے سوا کچھ نہیں آتا اور لڑائی میں خسارہ ھے تو دلائل کے ساتھ بات کرنی ھوگی ۔
نمبر 1۔
افغانستان کے پشتون ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے ھیں تو پھر مفتی نورولی محسود اور حافظ گل بہادر کو افغانستان میں پاکستانی مہمان اور مہاجر کیوں سمجھتے ھیں؟
اعلان کر دیں کہ یہ سب ھمارے شہری ھیں اور جتنی مدت تک افغان مہاجرین پاکستان کے شہری بنے ان کو موقع ملے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا خاندان ھندوستان سے آیا ھے اور اپنے گاؤں کا نام جاتی امرہ بھی اسی بنیاد پر رکھ دیا ھے ۔
اگر حافظ عاصم منیر بھی طارق آباد کے رہائشی نہیں ھوتے تو اپنے گاؤں کے نام کو ھندوستان کے آبائی گاؤں کے نام پر رکھتے ، انہوں نے ڈیورنڈ لائن سے زیادہ پنجاب کی سرحد کو پکا تسلیم کرلیا ھے ۔ ۔ ۔ تو پھر حافظ گل بہادر اور مفتی نور ولی محسود کو بدرجہ اولیٰ افغانی شہری تسلیم کرلیا جائے ، پھر افغانستان میں ایک ایسی حکومت قائم کی جائے کہ پاکستان کے لوگ بھی مطالبہ کریں کہ ہمارے ھاں بھی یہی نظام نافذ ھو ۔ ابھی تو افغانستان کے لوگ مطمئن نہیں ھیں ۔
نمبر 2 ۔
درس نظامی کے نصاب میں تبدیلی لائی جائے جو بریلوی دیوبندی حنفی کو ایک نہیں کرسکتے ھیں تو برصغیر پاک و ھند ھی نہیں پوری دنیا میں اس کے مثبت اثرات مرتب ھوں گے اور افغانستان کے طالبان بھی بدل جائیں گے ۔
تصویر کے معاملے میں علماء بدل گئے تو حلالہ پر بھی بدل جائیں گے اور حرمت مصاھرت پر بھی ۔
نمبر 3 ۔
لاھوری تڑکا لگانے سے پرھیز کیا جائے ۔
اب تہمینہ شیخ نے لاھور کا تازہ معاملہ بتایا ھے کہ دو بہنوں نے الیکٹریشن سے تعلقات قائم کئے اور ایک کو حمل ھوگیا اور پھر اپنے باپ پر الزام لگایا کہ اس نے جنسی زیادتی کرکے حاملہ بنادیا ھے لیکن پھر پولیس نے حقائق کا پتہ لگایا ھے ۔
کام خود خراب کریں اور الزام ٹرمپ پر لگادیا !
کام خود بگاڑ دیا اور الزام پاکستان پر لگادیا اور ۔ ۔
کام خود خراب کیا اور الزام ھندوستان پر لگادیا !
یہ تڑکا نہ لگائیں !
Hafiz Tahir Ashrafi Big Message To Maulana Fazal ur Rehman | Pakistan Updates News | GTV News
جنوری 7, 2026
تبصرہ