تبصرہ عتیق گیلانی
°°°°°°°°°°°°°
وڑائچ صاحب !
آپ کی فکر !
آپ کا شعور !
اور ۔ ۔ ۔
آپ کا ضمیر !
قابل تحسین ھے ۔
آپ نے تینوں طبقات کے خلاف توازن سے بات کی ھے ۔
جب مفتی محمود اور جمعیت علماء اسلام نے امام ابوحنیفہ کے مسلک اور حدیث کے مطابق نظام کی تبدیلی کیلئے نعرہ لگایا تھا کہ ۔ ۔ ۔
اسلام میں سرمایہ دارانہ سودی نظام بھی نہیں ھے ۔ ۔ ۔ اور جاگیردارانہ نظام بھی نہیں ھے ۔
مزارعین کو مفت میں زمینیں دی جائیں تو اسلام کی تعلیم سے محنت کشوں کو پورا پورا معاوضہ ملے گا اور ملک وقوم کی تقدیر بدل جائے گی ۔
اس کی وجہ سے 1970 ء میں مفتی تقی عثمانی کے باپ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے سینکڑوں مشاھیر علماء و مفتیان نے ان پر کفر کا فتویٰ لگادیا تھا !
پھر وہ وقت آگیا کہ ۔ ۔ ۔ مفتی محمود صاحب وزیراعلٰی بن گئے اور خود بھی جاگیردار بن گئے اور مزارعین رکھ لئے ۔ ۔ ۔
پھر قومی اتحاد اور تحریک نظام مصطفی کے نام سے امریکی ڈالروں پر ساری ھی جاگیردار اور سرمایہ دار قیادت نے مفتی محمود کی قیادت میں بھٹو کے اسلامی سوشلزم کو کفر قرار دیتے ھوئے تحریک چلائی ۔
جب جنرل ضیاء نے ان سب کو استعمال کیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا ۔ ۔ ۔
تو مدارس کے لئے بینکوں کی زکوٰۃ سے ایک پیکیج نکال دیا ۔ ۔ ۔ ۔
مثلاً 10 کروڑ پر 50 لاکھ سودی رقم ملتی تھی !
اور ۔ ۔ ۔
اس میں سے 25 لاکھ زکوٰۃ کے نام سے کٹ جاتے ۔ ۔ ۔
اور ۔ ۔ ۔ ۔
25 لاکھ سود بھی مل جاتا تھا اور اصل رقم 10 کروڑ روپے بھی محفوظ ھوتے تھے ۔
مفتی محمود نے کہا کہ اس طرح زکوٰۃ ادا نہیں ھوتی اسلئے کہ ۔ ۔ ۔
اصل سرمایہ محفوظ ھے اور سود کی رقم سے زکوٰۃ کیسے کٹ سکتی ھے ؟
مفتی محمود کو پان اور دورہ قلب کی خصوصی گولی کھلا کر قتل کردیا گیا تھا ۔ اس کی تفصیل اور ثبوت الگ سے موجود ھیں جس میں مفتی تقی عثمانی کی اپنی تحریر اور تقریر شامل ھے ۔
پھر مولانا فضل الرحمان نے تقریروں میں اس زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیا ۔
پھر جب بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں مولانا فضل الرحمان حصہ دار بن گئے تو اپنے علماء کو زکوٰۃ کمیٹی کا چیئرمین بنوایا ۔
اب بھی جس تقریر کا حوالہ دیا ھے تو مولانا نے 10 ہزار کا جس انداز میں ذکر کیا جس پر اس کے بعد وضاحت دی گئی کہ 25 ہزار ھیں تو مولانا نے کہا کہ 25 ہزار بھی نہیں لیں گے لیکن پھر اس کے بعد ملتان میں جلسہ عام میں جھوٹ بول دیا کہ ھماری وجہ سے 25 ہزار کردیئے ہیں ۔ یہ جھوٹے لوگ ھیں لیکن جب مولانا فضل الرحمان نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جمہوریت کے لئیے سب سے زیادہ قربانیاں دیں تو بھی علماء نے ان پر فتوے لگائے تھے اور عوام مخالفت کرتی تھی ۔ جب مغل بادشاہوں کے اقتدار میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فوج بناکر ریاستوں کو قابو میں لیا تو کس کا قصور تھا؟۔ علماء کی اکثریت مسجد کے کمیٹی کی غلام ہوتی ہے۔ مریم نواز شریف نے اچھا کیا کہ غلامی کا لیول تھوڑا بڑھا دیا ہاہاہا۔۔۔۔
Imaan aur Moulvi – Sirf Dus Hazaar Mein |
جنوری 8, 2026
تبصرہ