تبصرہ عتیق گیلانی
———–
حسن خان صاحب !
اس جنگ سے چند دن پہلے فرزانہ علی کے پروگرام میں سمیع یوسفزئی نے واضح کیا تھا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کی پشت پر ھیں ۔
ھیبت اللہ اور افغان طالبان نے کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا کہ ۔ ۔ ۔
پاکستان میں جہاد جائز نہیں ھے اور مجاہدین کیلئے جہاد کے بغیر رھنا ایسا ھے جیسے مچھلی کا پانی کے بغیر رھنا مشکل ھے اور افغان طالبان سے افغان عوام اتنے تنگ ھیں کہ اگر اسرائیل بھی طالبان سے جان چھڑا دے تو وہ خوش جوں گے ۔
افغان طالبان کی طرف یہ بیان بھی منسوب کیا گیا تھا کہ ۔ ۔ ۔
اسرائیل سے ان کی کوئی دشمنی نہیں ھے ۔
افغان کو بنی اسرائیل کا بارھواں گمشدہ قبیلہ بھی قرار دیا جارھا ھے ۔
افغانستان میں چین نے بھی سرمایہ کاری کی ھے ، اسرائیل اور چین کے تعلقات میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ھے ۔
کیا معاملہ اس طرف تو نہیں جارھا ھے کہ ۔ ۔ ۔
اسرائیل بھی چین کی طرح افغانستان میں اترے ؟
اور پھر امریکی یہودی کمپنیاں معدنیات کیلئے سرمایہ کاری کریں؟
تعصبات کو جس طرح سے پنجابی اور افغان کے درمیان میں اچانک ھوا دی جارھی ھے تو اس کے پیچھے تھیلی میں کوئی اور بلی نہیں ھو !
جس دن طالبان اور پاک فوج کی بڑے پیمانے پر لڑائی ھوجائے تو مجبوری میں پاک فوج کے مزاج میں طاقتور دشمن کے خلاف کھڑے ہونے کی کوئی سکت نہیں ھے اور افغان بھی ہر بیرونی طاقت کے ساتھ کھڑے ھونے کا وسیع تجربہ رکھتے ھیں ۔
اللہ تعالٰی دونوں قوتوں کی کمزویوں اور شر سے خطے کی عوام کو محفوظ رکھے اور ان کو خیر کیلئے استعمال کرلے۔
کیونکہ اگر یہ قوتیں تباہ ھوگئیں تو ھماری عوام بھی اخلاقیات پر نہیں کھڑے ھیں ۔
بدمعاش تو بدمعاش شریف کو بھی اگر بدمعاشی کے مواقع ملتے ھیں تو اپنا رنگ دکھاتے ھیں ۔
استحکام کیلئے مقتدر قوتوں کو بدمعاشی کی جگہ شرافت اور اخلاقیات کو رواج دینا پڑے گا ۔
DG ISPR comes strong on Af Taliban Spox Mujahid’s statement; no talks except TTP
جنوری 9, 2026
تبصرہ