تبصرہ عتیق گیلانی
———
اگر گہرائیوں سے سازشوں کا ادراک کیا جائے تو ممکنہ حل تک پہنچ سکتے ھیں ۔
طالبان کی طرف سے حملے اب نہیں ھورھے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کو دوام دیا جائے ۔
اور جب حملے ھوں گے تو ردعمل میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں بھی افغانستان میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور جب تک پاکستان میں امن نہیں ھوگا
تو ۔ ۔ ۔
افغانستان بدلے میں نشانہ بنتا رھے گا !
اور ۔ ۔ ۔
اگر افغانستان جوابی کاروائی کرے گا تو زیادہ نقصان اٹھائے گا ۔ ۔ ۔ اور نہیں کرے گا تو اپنا وقار کھوئے گا ۔
آج پاکستان نے بھی اگر بھارت کے خلاف دھشت گردوں کو استعمال کیا تو بھارت کی طرف سے جواب آئے گا ۔
امریکہ نے بھی اپنے مخالفین کو نشانہ بنایا ھے ۔
اگر افغانستان یہ سمجھتا ھے کہ وہ پاکستان کے مقابلے میں کوئی مضبوط ملک ھے تو اس غلط فہمی سے نکلے ۔
اسلئے کہ !
کچھ لوگ پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی حکمت عملی استعمال کرکے افغانستان کی عوام سے ان کی مصیبت ختم کرنا چاھتے ھیں اور اگر امریکہ نے کوئی خفیہ یقین دھانی کرائی ھے کہ پاکستان کے خلاف ڈٹ جاؤ ھم تمہارے ساتھ ھیں اور داعش کے نام پر پاکستان کے خلاف محاذ بھی کھول دیں گے
تو ۔ ۔ ۔
امریکہ اپنے ملک میں پریشان ھے جس میں دم نہیں ھے لیکن مروانے کا کام کرے گا !
اللہ تعالٰی خطے اور دنیا میں امن وسلامتی قائم فرمائے اور نفرتوں اور غلط فہمیوں کو ختم کرے۔
Pak Afghan talks in Istanbul; Mulla Hibatullah’s instructions put delegates in troubles
جنوری 10, 2026
تبصرہ