تبصرہ عتیق گیلانی
———-
بلال غوری صاحب !
آپ نے طفلان انقلاب پر بہت اچھی ضرب لگائی ۔
کراچی کے میئر اور پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کی بجا طور پر زبردست خبر لی ، کوئی ایک آدھ جملہ طفیلی وزیراعظم کیلئے بھی بول دیتے کہ ۔ ۔ ۔
ٹرمپ اور یہودی لابی امریکہ میں ایک پردیسی اور اجنبی ظہران ہمدانی کو نہیں ھراسکے
لیکن !
تم نے 17 سیٹوں پر حکومت ھاتھ میں لیکر اسلام ، مشرقی اقدار اور پاکستانیت کا جنازہ نکال دیا ۔
الفاظ وھی تاریخی جو عمران خان کے دھرنے سے واپسی پر قومی اسمبلی میں خواجہ آصف نے بولے تھے کہ ۔ ۔ ۔
کوئی شرم بھی ھوتی ھے !
کوئی حیا بھی ھوتی ھے !
کوئی غیرت بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب تحریک انصاف کے لونڈے لپاڑوں سے الیکشن کا انتخابی نشان چھین لیا گیا ، ٹی وی پر پابندی لگائی گئی ، رھنماؤں سے وڈیوز بنوائی گئیں اور تحریک انصاف کے بخرے بنائے گئے تو پھر اس کے بعد ھمدردی کا ووٹ بہت بھاری تعداد میں ان کو مل گیا !
ھوسکتا ھے کہ جس چیز نے لوگوں کے دماغ کو پاکستان میں بدل دیا تھا اسی طاقت کے نشے میں ڈوبے ھوئے لوگوں کو امریکہ کی عوام نے بھی سبق سیکھا دیا ھو کہ ۔ ۔ ۔
جہاں اپنی پارٹی کے پرویز خٹک ، محمود خان ، عثمان بزدار ، علیم خان اور جہانگیر ترین بھی مخالفت میں کھڑے تھے اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی موروثیت بھی تھی اور عوامی نیشنل پارٹی اور مولانا فضل الرحمان بھی تھے لیکن سب کے باوجود بھی تحریک انصاف کی جیت ھوئی تھی !
تو اس پر ذرا سوچیں!
Unbelievable story of New York Mayor Zohran Mamdani | Bilal Ghauri | Outline News
جنوری 10, 2026
تبصرہ