تبصرہ عتیق گیلانی
————-
كلمتان ثقيلتان في المعدتان خفيفتان على اللسان ۔۔۔ خبثة الحلالة و حلوة الضلالة
دو کلمات معدے پر بھاری اور زبان پر ہلکے حلالہ کی خباثت اور گمراہی کی میٹھاس ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ۔ ۔ ۔
مدارس کا نظام برصغیر پاک وہند میں ہے اور دارالعلوم دیوبند کی وجہ سے شروع ہوا ہے ۔
ہمارے وزیرستان کانیگرم گورنمنٹ ہائی سکول سام میں ایک دارالعلوم دیوبند کے فاضل استاذ تھے جس کا نام ناظم استاذ تھا ، وہ نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھتے تھے اور نہ نماز پڑھاتے تھے ، اس وقت وہ بوڑھے تھے لیکن پتہ نہیں شناختی کارڈ بعد میں بنا ہوگا اسلئے کہ 60 سال میں بندہ ریٹائرڈ ہوجاتا ہے ۔
جبکہ ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان بھی دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے ، اور ان سے پہلے پیرمبارک شاہ بھی دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے جو مدرسہ نور اسلام کے بانی تھے ۔
جو بعد میں گورنمنٹ ہائی سکول اپر کانیگرم بنا اور اب کالج میں غالبا تبدیل ہوا ہوگا ۔
جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ کیا بننے کا پروگرام ہے؟
میں نے دل کے راز کی بات بتائی کہ دارالعلوم دیوبند کا فاضل ، تو مجھے ان کے چہرے کے تاثرات اچھے نہیں لگے ۔
مجھے ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ درود شریف پڑھنے کا فرمایا ، جس کی وجہ سے میرے دل میں دارالعلوم دیوبند پر ایک سوالیہ نشان آیا کہ کیوں؟
پھر مولانا فضل الرحمن سے جس شخصیت کے ذریعے پہلی ملاقات 1980 میں ہوئی تھی وہ فیض محمد شاہین تھے ۔
انہوں نے کہا کہ ۔ ۔ ۔
مولوی مت بنو مدینہ یونیورسٹی میں پڑھنے کیلئے کراچی کی جامعہ ابی بکر میں داخلہ لے لو ۔
مگر میں نے پہلے دارالعلوم کراچی میں داخلہ لیا پھر وہاں سے نکال دیا ، جس کی الگ کہانی ہے ، پھر مختلف دیوبندی مدارس میں پڑھا اور اب ختم بخاری شریف ایک بہت بڑا ٹرینڈ بنتا جارہا ہے ۔
لیکن !
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حنفی مسلک والے بخاری کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں ؟
حالانکہ ۔ ۔ ۔
پنج وقتہ نماز میں صحیح بخاری کی ڈھیر ساری احادیث کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے؟
اب سمجھ میں بات آگئی ہے ۔
صحیح بخاری میں حلالہ کی لعنت کو انتہائی بھونڈے طریقے سے جواز بخش دیا گیا ہے ۔
پیار ان کو بخاری سے نہیں ، حلالہ سے ہے ۔
اسلئے ختم بخاری کے بعد دستار بندی کردی جاتی ہے کہ ۔ ۔ ۔
قرآن اور مسلک حنفی کے خلاف لوگوں کی عزتیں پامال کرکے جیو اور اپنا اقتدار مضبوط کرو ۔
پہلے مولانا فضل الرحمان اور مولانا محمد امیر بجلی گھر وغیرہ یہ کہتے تھے کہ ۔ ۔ ۔
جب تک مولوی نہیں کہے گا تم اپنی بیوی کے پاس بھی نہیں جاسکتے ۔
اور کہانیاں بنائی ہوئی تھیں کہ إمام ابوحنیفہ نے بادشاہ کو حیلہ کرکے بغیر حلالہ کے بیوی واپس کردی اور طلاق پڑنے سے بچا دی ۔
اور لوگوں کی عزتیں پامال کرکے اپنا اقتدار قائم رکھتے تھے ۔
اب عوام میں شعور کی بیداری سے امام ابوحنیفہ کے صحیح مسلک کی طرف توجہ جائے گی کہ ۔ ۔ ۔
حلالہ کا تعلق فدیہ کی صورت سے ھے ۔
بخاری نے قرآن اور حدیث کے نام پر حلالہ کی لعنت جاری کرنے کیلئے جو باب باندھ دیا ہے ، اس میں آیت اور حدیث کے حوالے غلط ہیں ۔ جو قرآن حدیث اور مسلک حنفی کے خلاف ہیں ۔
مولانا فضل الرحمان سیاسی آدمی ہے دارالعلوم تعلیم القرآن میں توحید اور عقیدے کی بات کرتا ہے ۔
پیر مفتی مختار الدین اور پیر ذوالفقار اور پیر عبدالرحیم کا نام بھی نہیں لیتا اور خانقاہ والے مدارس میں ختم بخاری کو تعزیت میں بدل دیتا ہے ۔
مولانا حق نواز جھنگوی شہید سے کہتا تھا کہ ۔ ۔ ۔
شیعہ کے خلاف جذبات سے پنجابی مسلمانوں کو اپنے گرد جمع کرو ۔
جذبات کے بغیر پنجاب میں جماعت نہیں چلے گی ۔
اسلئے کہ ۔ ۔ ۔
مولانا عبداللہ درخواستی ، مولانا سرفراز خان صفدر ، خیرالمدارس ملتان قاری حنیف جالندھری جو اس وقت چھوکرا تھا ، سب مخالف ہیں ۔
اور ۔ ۔ ۔
شیعہ سے ووٹ لیتا تھا جب شیعہ کہتے تھے کہ آپ مولانا جھنگوی کو منع کرو تو کہتا تھا کہ میں کافر نہیں کہتا اسلئے کہ میرے پاس دلیل نہیں اور جھنگوی کافر کہتا ہے تو اس کے پاس دلیل ہوگی ۔
اگر کوئی کہے کہ ۔ ۔ ۔
مفتی تقی عثمانی کو عتیق الرحمان گیلانی برا کہتا ہے تو کہے گا کہ ۔ ۔ ۔
اس کے پاس دلیل ہوگی اور اس پر فتوے لگائے گئے ہیں ۔
تو جس پر ظلم ہوا ہو وہ قرآن کے مطابق برائی بھی کرسکتا ہے ۔
اس طرح مفتی تقی عثمانی بھی اس کے پروں کے نیچے خود کو محفوظ سمجھتا ہے ۔
مگر ۔ ۔ ۔
بکروں کی ماں کب تک خیر منائے گی ؟
————
Maulana Fazl ur Rehman Addressing Students at Darul Uloom Taleem-ul-Quran, Raja Bazaar | Rawalpindi
جنوری 11, 2026
تبصرہ