تبصرہ عتیق گیلانی
———-
تبلیغی جماعت والے ایک دو یا تین افراد پر بھی اپنا ایک امیر مقرر کردیا کرتے تھے ۔
لیکن !
پھر تبلیغی جماعت نے عالمی امیر سے انحراف کیا اور جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئیں ۔
ایک بستی نظام الدین مرکز ہندوستان اور دوسری رائے ونڈ پاکستان ۔
اب اگر ۔ ۔ ۔
مہک ملک کی امارت میں دونوں اکٹھے ہوجائیں اور بزرگ حضرات جماعتوں میں خود بھی نکل پڑیں !
تو زبردست بات ہوگی ۔
مہک ملک نے ڈانسر کے ماحول میں بھی خود کو برائی سے بچا کے رکھا ہے !
تو یہ بہت بڑی بات ہے ۔
ویسے بھی وہ مکمل عورت یا مرد نہیں ہے جس کی وہ خواہشات نہیں ہوسکتی ہیں جو عورت اور مرد کی ہوتی ہیں ۔
پھر دنیا بھر کے خواجہ سراؤں کو عزت مل جائے گی ۔
جس کیلئے ان میں بڑی تڑپ ہے ۔
جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی میں بھی مشہور خواجہ سرا شامل ہیں ، دوسری مذہبی اور سیاسی جماعتیں بھی ویلکم کریں گی ۔
دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت کا تو طرز عمل اور دائرہ کار بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں رہا ہے ۔
تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی سے پہلے سپاہ صحابہ ، طالبان ، جمعیت علماء اسلام اور سنی تحریک ، جمعیت علماء پاکستان آباد ہوتی تھیں ۔
اب یہ محض تبلیغی مقاصد کیلئے ہیں ۔
قرآن پر اعراب لگانے والے ابواسود دویلی بھی خواجہ سرا تھے ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کی چابیاں بھی خواجہ سرا کے پاس ہوتی تھیں ۔
ان کو صحیح مقام دیا جائے تو اخلاقیات کے فوائد بھی حاصل ہوسکیں کے ۔
جب ان کے پاس اختیارات نہیں ہوتے تو گل چاہت کو بھی جبری زیادتیوں کا نشانہ بناکر دوبارہ وہاں جانے پر مجبور کر دیا گیا جہاں سے توبہ کرکے وہ آیا تھا ۔
اگر ان کی داڑھی ہے تو اس سے سینے چھپانے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے ۔
————
Activist or Agent? The Untold Story of Malala
جنوری 11, 2026
تبصرہ