تبصرہ عتیق گیلانی
————-
انیق ناجی صاحب !
آپ کا ویلاگ بہت اچھا لگتا ھے جس میں صفائی کے ساتھ صحافت ھوتی ھے ۔
جب قائداعظم نے جدوجہد ھندوستان میں کی اور اس کا نتیجہ وھاں نکلا جہاں آزادی کی جدوجہد نہیں ھوئی تھی ۔
اگست 2003 ء میں جنگ فورم کے تحت ایک پروگرام ھوا تھا جس کا عنوان
” مذہبی انتہا پسندی اور پاکستان کا مستقبل” تھا ۔
جس میں جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد اور سابقہ سفیر طاھرہ شاھد خان میں سخت جملوں کا تبادلہ ھوا تھا ۔ طاہرہ شاہد نے کہا کہ جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کی B ٹیم تھی تو پروفیسر غفور نے جواب میں کہا کہ تم بھی جنرل ضیاء الحق کی ملازمہ تھیں ۔ طاھرہ شاھد نے جواب دیا کہ میں ریاست کی ملازمہ تھی جنرل ضیاء الحق کی نہیں ۔
پنجاب میں دو قسم کے لوگ ھیں ایک وہ ھیں جن کے اجداد نے پشت در پشت انگریز فوج کی ملازمت کی تھی اور دوسرے گدی نشین اور چوھدری لوگ جو ایک دوسرے پر ملازم اور ٹاؤٹ کے الزامات لگاتے ھیں ۔
جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تو احمد خان کھرل کے نام تک کو کوئی نہیں جانتا ھے اور جانتا ھے تو گوارا نہیں کرتا ۔
اسلئے کہ اجداد کی قیادت پر پھر فخر نہیں کرسکتا ھے ۔
پھر سید عطاء اللہ شاہ بخاری بھی پنجابی تھے جس نے آزادی کے لیے قربانیوں کی تاریخ رقم کردی لیکن ان پر غداری اور ریاست مخالف ھونے کی تہمت تھی ۔
نوازشریف نعرہ لگائے کہ ووٹ کو عزت دو تو جنرل ضیاء الحق کی قبر پر فاتحہ کیسے پڑھے گا؟
آزادی کے عظیم رھنماؤں غفار خان اور عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے آزادی کے بعد بھی مشکلات جھیلیں ۔
قائداعظم اور قائد ملت کی مہربانی ھوتی کہ ھندوستان میں ھی رہ جاتے تاکہ تفریق کے نام پر جلنے والے لوگوں کو تحفظ فراھم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ۔
ھمارے ھاں پشتون کہتے ھیں کہ مولوی م پر زبر لگا کر کہتا ہے کہ ما اور ساتھ کہتا ھے غنڈہ دے ما یعنی سارا میرا ۔
گورنر جنرل اور وزیراعظم کے عہدے انہوں نے سنبھال لئے اور مسلم لیگ کی قیادت نے کہا کہ جماعت کا عہدہ ھمارے لئے چھوڑ دو اور اسی پر آپس میں لڑائی تھی پھر سارے گورنر جنرل اور وزیراعظم سے صدر تک سکندر مرزا ، ایوب خان ، ذوالفقار علی بھٹو ، جنرل ضیاء الحق ، بینظیر بھٹو ، نوازشریف اینڈ برادری ، عمران خان اور موجودہ دور تک اختیارات کی ھوس کی وھی بیماری کا ایک وائرس چل رھا ھے ، جس کو تبدیل کرنے کے لیے کلچر کو بدلنے کی ضرورت ھے ۔
یزید کا ایک ھی قصور تھا کہ نا اھلی کے باوجود موروثی قیادت لے لی ، جس کو بنوامیہ ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ تک مسلمانوں نے بھگت لیا
لیکن !
پھر بھی زندہ ھے!
Zohran Mamdani | Constitutional Amendments and People of Pakistan | AniqNajiOfficial
جنوری 11, 2026
تبصرہ