تبصرہ عتیق گیلانی
———
اگر قرآن وسنت کی طرف توجہ کی جائے تو ممکن ھے بلکہ یقین وایمان ھے کہ نیچے سے اوپر تک کے حالات درست ھو جائیں گے ۔
یہ آئینی ترمیم کیا ھے؟ اور اس سے پہلے اور بعد کی ترامیم سے کیا فرق پڑا ؟ اور پڑے گا ؟
کچھ لوگ وہ ھیں جن کو ھلکی سی کھانسی آجائے تو معافی مانگ لیتے ھیں ، کچھ خراب قسم کی ڈکار پر بھی بالکل نہیں شرماتے اور کچھ ٹانگ اٹھا کر زور دار انداز سے پاد مارنے کو بھی برا نہیں سمجھتے ، اسلئے کہ سب کا اپنا اپنا ماحول ھے ۔
جیسے قرآن میں مختلف مذاھب کے لئے شرعہ و منہاج کا ذکر ھے ۔
کل حکومت کے لوگ اپوزیشن میں بیٹھے تھے اور یہ سلسلہ چلتا رھا ھے اور چلے گا
لیکن !
صحافیوں کو جاوید چوھدری کے آغاز و انجام تک کے سفر سے عبرت پکڑنے کی ضرورت ھے ۔
کام کی باتیں ھی ریٹنگ بڑھاتی ھیں ۔
افغانستان پر عسکریت ھی کا قبضہ ھے اور پاکستان میں بھی عسکریت ھے اور عسکری قوتیں جنگیں لڑ سکتی ھیں ملک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ھیں ۔
ھمارا مسئلہ یہ ھے کہ جنرل پرویز مشرف نے بہترین بلدیاتی نظام دیا تھا لیکن اس وقت پاکستان کے پاس پیسہ تھا اور اب حالات نازک ھیں ۔
جنرل یحیی خان نے ھی پاکستان کو پہلی مرتبہ بالغ رائے دھی کا حق دیا مگر قوم کے دماغ پر جنرل رانی مسلط کی گئی اور جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے بہترین وزیراعظم محمد خان جونیجو دیا
لیکن !
ہم آمروں کی اچھی خدمات کو اچھائی سے یاد نہیں کرتے اور ٹاؤٹوں کے دیوانے بن گئے ھیں ۔
اسلئے کہ آمر کچھ ذاتی طور کہیں رسائی حاصل نہیں کرتا !
بلکہ ۔ ۔ ۔
قوم کی اجتماعیت کو فائدہ پہنچاتا ھے جبکہ جمہوری حکمرانوں نے ایک دوسرے کو پچھاڑنا ھوتا ھے !
مریم نواز نے اگر بلدیاتی انتخابات کی غیر جماعتی بنیادوں پر بات کی ھے ، جنرل ضیاء الحق کا فیض سمجھ لیں ! جہاں سے شریف خاندان کی سیاسی شروعات ھوئی ھیں ۔
پاکستان بننے کے بعد انتخابات سے کھلواڑ کا سلسلہ جاری ھے ۔
جنرل ایوب خان نے بلدیاتی انتخابات سے جمہوری نظام میں روح ڈال دی تھی ۔
قرآن کہتا ھے کہ ۔ ۔ ۔
اچھائی اور تقوی میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور گناہ اور زیادتی میں تعاون مت کریں ۔
اگر صحافی حضرات نے موقع پرستی کی جگہ قرآن کے اس حکم پر عمل کیا تو حالات بہتر ھو سکتے ھیں ۔
جب پختون قوم طالبان کی بھرپور حمایت کرنے کے بعد اس مصیبت میں مبتلا ھوگئی تو فوج اور طالبان کے خلاف ذھنیت بن گئی اور اپنا کردار نہیں دیکھا !
اللہ کرے کہ ۔ ۔ ۔
1973 کے آئین کے مطابق 28 ویں ترمیم میں سورہ نور کے مطابق لعان کے قانون پر اسمبلی میں بحث ھوجائے تو دنیا میں خاص طور سے امریکہ میں یہ بات پہنچے گی کہ اسلام لوگوں کا بنایا ھوا قانون نہیں ھے
بلکہ ۔ ۔ ۔
آج جہاں مغرب کھڑا ھے وھاں 1400 سال پہلے اسلام نے غیرت کے نام اور بنیاد پر قتل اور سزا کا راستہ روکا تھا ۔
لیکن !
دوسری طرف بے غیرت مذھبی طبقے نے حلالہ کے نام پر قرآن وسنت کے خلاف لعنت مسلط کردی ھے جس سے جان چھوٹ جائے تو مسلمان اور غیر مسلم بڑے پیمانے پر اسلامی نظام کی طرف آئیں گے ، جس پر اسلامی نظریاتی کونسل نہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بحث ھونی چاھیے
اور ۔ ۔ ۔
اس پر صحافیوں کو محنت کرکے ۔ ۔ ۔ ۔
عوام کے سامنے لانے کی سخت ضرورت ھے۔
KHABAR Muhammad Malick Kay Sath || 27th Amendment || PTI in Trouble || 6th Nov 2025 || ARY News
جنوری 11, 2026
تبصرہ