قاری مفتاح اللہ کے وصال پردل احترام کی گہرائیوں میں کھوگیا :عتیق
جنوری 23, 2026
شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن شفقت ومحبت ،عدل و توازن، عقیدت واحترام ، شرافت و مروّت ، لطافت و مزاح ،حق گوئی و بیباکی کا حسین امتزاج اورانتہائی ذہین وفطین، عریق وعمیق، سادہ و پرکشش کرشماتی شخصیت
اناللہ وانا الیہ راجعون ،اناللہ وانا الیہ رجعون
استاذمحترم حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔ شیخ الحدیث مفتی زرولی خان ساتھ ہیں۔ قاری مفتاح اللہ درویش صفت انتہائی ذہین و فطین ، علم و عمل کے امین، قرآن و اسلام کے شہباز و شاہین تھے۔ علمی تنقید پر قاری صاحب بہت تعمیری تھے۔ علامہ زمحشری کی تفسیرکشاف انکے کہنے پر پڑھی ۔ کئی بار ا ن کا ذکر خیر تحریر میں پہلے کرچکاہوں۔ میرے علمی کمالات کا سہرا استاذ محترم کے سر پراور نقائص میرا قصور ہے۔ مچھلیوں کیلئے شفاف پانی ، پرندوں کیلئے صحت بخش فضا، ذکرو اذکار کیلئے روح پرور خانقاہیں اور علوم نبوت کیلئے مدارس میں قاری مفتاح اللہ جیسے اساتذہ کرام کمالِ علم وعرفاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری مادر علمی جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کی تمام شاخوں کو تا قیامت اعلیٰ ترین معیار کیساتھ شادآباد رکھے۔ قاری مفتاح اللہ صاحب انتہا درجہ کے خوش مزاج، شفیق و عمیق ، باوقار وبردبار اور نفیس و لطیف اور بغیر کسی مبالغے کے خدا کی صفات کے زمین پر مظہر اور تخلقواللہ باخلاق اللہ کے مصداق تھے۔ ابن تیمیہ نے لکھا کہ یہ کسی حدیث کی مستند کتاب میں نہیں لیکن کسی حدیث کا کتاب میں موجود ہوناتو ضروری بھی نہیں۔ صوفیاء کا سلسلہ صحابہ کرام ، حسن بصریتابعی سے چلتا آرہا ہے ۔ ابوذ غفاریجیسے صحابہ نے تصوف کی بنیاد رکھ دی۔ حدثنا اسماعیل ،قال حدثنی ابی ذئبٍ ، عن سعیدٍ القبری عن ابی ھریرہ قال حفظت من رسول اللہ ۖ وعاء ین فاما احدھما فبئثہ واما الآخر فلو بئثتہ قطع ھذا البلعوم ابوہریرہ نے فرمایا کہ” میں نے رسول اللہ ۖ سے دو برتن محفوظ کئے۔ایک میں نے پھیلایا اور اگردوسرے کو میں نے پھیلادیا تو یہ گلا کاٹ دیا جائے گا”۔ (صحیح بخاری )
اس حدیث سے کیا ثابت ہوا؟۔ یہی ناں کہ کچھ احادیث سینہ بہ سینہ بھی منتقل ہوئی ہیں۔ابی ذئب کون ہیں؟۔ جس نے خلیفہ ابوجعفرمنصور کے سامنے حق گوئی کی تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے سمجھا کہ جلاد ابھی گردن اتار دے گا اور اسکے خون کی چھینٹوں سے انکے کپڑے آلودہ ہو جائیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا صدیق سواتی نے بتایاتھا کہ مولانا طاہر مکی علامہ سید محمد یوسف بنوری کے شاگرد تھے۔ایک مرتبہ بخاری کی حدیث پر اشکال ظاہر کیا تو علامہ بنوری نے تھپڑوں سے خوب تواضع کی کہ مجھے بھی تم نے شک میں ڈال دیا۔مولانا محمد بنوری کو تو گھر میں شہید کرکے خود کشی کا جھوٹا الزام لگادیا۔
رسول اللہ ۖ کے بعد1500سال سے امت مسلمہ جس پل صراط پر چل رہی تھی جس میں پانچ پانچ سو سال کی وہ، وہ تثلیث کی مسافتیں ہیں کہ حق بات تو بڑی چیز ہے دین کے تحفظ کیلئے مدینہ کے سات فقہاء اور کوفہ کے فقہاء نے تشدد اور شہادت کا جام نوش کیا اور فقہ و حدیث کے ائمہ نے تشدد، جیل، شہادت اور کوڑوں کی سزائیں کھائی ہیں۔موجودہ دور میں تو پھر تبلیغی جماعت کی بھیڑیں بھی ایک دوسرے کیلئے بھڑیا بنتے پھر رہے ہیں جن کا سلسلہ مار کٹائی سے قتل وغارت تک پہنچا ہے۔
علامہ یوسف بنوری کی لحد پر سلام کیساتھ دل بھی جھکتا ہے اور اس احترام میں کوئی تصنع نہیں بلکہ بے پناہ عقیدت و محبت کا رشتہ ہے۔ قاری مفتاح اللہ صاحب اس گلستان بنوریہی کے فیضان کی ایک کرشماتی شخصیت تھے۔ والدین کی طرح اساتذہ کرام اور علماء ومشائخ عظام میں نرم ، سخت، غصہ والے، گالیاں دینے والے اور مارپیٹ کرنے والے آدمی کے بچے ہی ہوتے ہیں لیکن قاری مفتاح اللہ صاحب کی شخصیت عجیب و غریب تھی اور پاکستان اور بیرون ممالک میں انسانوں میں جو بڑی بڑی خوبیاں ہوسکتی تھیں وہ سب قاری صاحب میں موجود تھیں اور جتنی خامیاں ہوسکتی ہیں وہ ایک خامی بھی نظر نہیں آئی ہے۔
انسان کو اللہ نے اپنی خلافت کیلئے پیدا کیا ہے اور قرآن کی آیت میں رسول اللہ ۖ کو مؤمنوں پر رؤف و رحیم قرار دیا ہے لیکن جس کو توحید کی حقیقت کا پتہ نہیں بلکہ عقیدے کا محض ہیضہ لگاہو تو وہ اس کو بھی جہالت کی بنیاد پر شرک قرار دے گا۔
قاری مفتاح اللہ صاحب کی ویڈیو خود سن لیں۔ یہاں پر مختلف جگہوں سے چند جملے یا عبارتیں درج کرتا ہوں۔ فرمایا:
زندگی بس بندگی کا نام ہے زندگی بے بندگی ناکام ہے
اللہ ہم سب کو بندگی والی زندگی عطا فرمائے۔ امام بخاری نے شروع کے اندر نیت، اخیر میں تسبیحات اور ترازو ذکر کیا۔ اگر نیت صحیح ہوگی تو ترازو کے اندر اعمال بھاری ہوں گے اور اگر نیت صحیح نہیں تو جتنا بھی بڑا عمل ہوگا ترازو کے اندر صفر ہوگا۔
تمام علوم کی انتہا یہ ہے کہ قیامت کے دن میرا کیا بنے گا؟ اللہ کے سامنے سرخرو ہوں گا یا نہیں؟ ۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا عشق مراد ہے۔ علم نہیں ہے سوائے عاشقی کے یہ عاشقی علم ہے اور کوئی علم نہیں ہے، اِسکے علاوہ سارا تلبیس ہے ابلیسِ شقی کا۔
کہتے ہیں سینکڑوں کتابوں کو آگ لگاؤ اور اپنے سینے کو اللہ کے عشق سے روشناس کراؤ۔شیخ بیٹھے ہیں ان کی حالت کی مناسبت سے یہ شعر۔ کہتے ہیں قال کو چھوڑو حال کو اپنا۔ کسی شیخ مردِ کامل کے پاؤں کے اندر اپنے آپ کو روند لو۔
نہ گھبراؤ مسلمانو! خدا کی شان باقی ہے
ابھی اسلام باقی ہے ابھی قرآن باقی ہے
حضور علیہ السلام نے فرمایا بخاری سیاسیہ میں روایت ہے ”اہل حق کی ایک جماعت ہوگی جو قیامت تک غالب ہوگی”۔ یہ غلبہ کبھی طاقت سے ہوگا اور غلبہ کبھی دلائل کے اعتبار سے۔ صحابہ ، تابعین اور سلاطین اسلام کے دور میں طاقت کا غلبہ ہوا اور دلیل کا غلبہ ہر زمانے میں ہوگا ۔یہ الگ ہے کہ ہم کو دلائل سمجھنے کا سمجھانے کا طریقہ آ جائے۔ رات کے وقت اللہ سے تعلق رکھیں گے تو دن کے وقت مخلوق کو سمجھانا بہت آسان ہوگا وتبتل الیہ تبتیلا رب المشرق والمغرب لا الہ الا ہو فاتخذہ وکیلا و اصبر علی ما یقولون و اہجر ہجرا جمیلا سورہ مزمل میں بتا دیا اے کمبل اوڑھنے والے قم اللیل رات کے وقت کھڑے ہو و تبتل الیہ تبتیلا اور سب سے کٹ کے اسکے در پہ ڈٹ جا سب سے تعلقات توڑ اور اس سے تعلقات جوڑ اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے چلے جا تو رات کے وقت اللہ سے تعلق جوڑنا اللہ سے لینا اور پھر دن کے وقت اس کو تقسیم کرنا آپ نے فرمایا انا ما انا قاسم واللہ یعطی فرمایا میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اصل دینے والی ذات وہ اللہ ہے اللہ کہتا ہے قل قل قل قل پورا قرآن بھرا ہوا ہے قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا قل یا ایہا الکافرون قل ہو اللہ احد قل اعوذ برب الفلق قل اعوذ برب الناس اللہ کہتے ہیں کہو کہو کہو کہو اللہ کہتا ہے تو پیغمبر کہتا ہے وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی علمہ شدید القوی ذو مرة فاستوی و ہو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی فااوحی الی عبدہ ما اوحی معراج کا ذکر ہے اور اسرا ء کا ذکر ہے سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی پھر معراج کی رات سارے نبیوں کا امام بنایا آپ نے امامت فرمائی اور سارے نبیوں نے آپ کی اقتدا کے اندر نماز ادا کی آپ کو امام الانبیا بنایا اور دو قبلوں کی طرف آپ کی نماز ہوئی آپ امام الحرمین نبی القبلتین وسیلتنا فی الدارین بیت المقدس کے بھی امام بنے اور اس کی طرف بھی آپ نے رخ کیا بیت اللہ شریف کے بھی امام بنے اس کی طرف بھی آپ نے رخ کیا آسمانوں پر بھی آپ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی انبیاء سے ملاقات ہوئی ۔آدم علیہ السلام سے یوسف علیہ السلام سے عیسی علیہ السلام سے ادریس علیہ السلام سے اور حضرت ابراہیم علیہ الصلو والسلام سے ابراہیم علیہ الصلو والسلام کے ساتھ آپ کی خاص مناسبت تھی آپ نے اپنے بیٹے کا نام بھی ابراہیم رکھا اور آپ نے فرمایا :” میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت کا نتیجہ ہوں اور میں اپنی والدہ کے خواب کا نتیجہ ہوں ”ماں کا بڑا کردار ہے اولاد کے بنانے میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی ماں نے ان کو رخصت کیا علم کیلئے اور معین الدین چشتی نے فرمایا کہ میرے ہاتھ پر اتنے70ہزار کافروں نے کلمہ پڑھا اور70ہزار فاسقوں کو میں نے توبہ کرائی والدہ کے سامنے کہا تو والدہ نے کہا یہ تیرا کمال نہیں یہ میرا کمال ہے میں ہمیشہ با وضو تجھ کو دودھ پلاتی تھی اور تیری لیے دعائیں کرتی تھی میری وہ دعا آپکے حق میں قبول ہو گئی ۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی ماں بھی بڑی کاملہ فاضلہ تھی۔
الم نشرح لک صدرک و وضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک و رفعنا لک ذکرک یہ شان ہے ہمارے پیغمبر کی صاحب مشکوٰة نے اخیر کے اندر مشکوٰة شریف کے اخیر میں باب ثواب ھذہ الامہ قائم کیا ہے اس امت کا ثواب اور اس امت کی شان کہا اس امت کا کیا کہنا جس کے شروع میں میں ہوں جس کی بیچ میں مہدی ہیں اور جس کے اخیر کے اندر حضرت عیسی علیہ السلام ہیں عیسی علیہ السلام بھی آئیں گے تو وہ قرآن کریم کی تعلیم دیں گے وہ انجیل کی تعلیم نہیں دینگے اور علامہ اقبال کہتا ہے اگر میرا حساب لینا ہی ہے اللہ تو حضور علیہ السلام سے میرے نامہ اعمال کو چھپا کے رکھیے تاکہ میں آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
حضرت الاستاذ قاری مفتاح اللہ صاحب نے اصول فقہ کی کتاب ”نورالانوار” کے دلائل کی کمزوری دیکھی تو ملا جیون کے لطیفے سنائے کہ سادہ بندے تھے۔ مقصد توہین نہیں تھا مگر اسلام کا تحفظ مقصد ہونا چاہیے۔ طلاق کے مسئلے پر جاوید غامدی نے کتنی ھڈ حرامی دکھائی؟۔ علماء حق کو ماحول میسر نہیں ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ