پختونوں کی موجودہ حالت اور اسکا حل:
جنوری 26, 2026
میں کافی عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ پختونوں کو آنے والے اور موجودہ حالات کے حل کاتفصیلی مضمون میں سمجھانے کی کوشش کروں گا ۔ پختون اگر میری تجاویز پر عمل کرتے ہیں تو اگلے دس سالوں میں حالات کافی بدل چکے ہوںگے مگر ہم نے کافی محنت کرنی ہے اور آنے والی نسلوں کو کامیاب بنانا ہے ۔
سب سے پہلے سمجھ لیں کہ پشتون دنیا کی پہلی قوم نہیں جنہیں چین نصیب نہیں ہورہا اور مختلف دشمنوں کے نشانے پر ہے ۔ پہلے ہمارے بھائیوں آل یہود کیساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔ یہود کو ہر جگہ مار پڑ ی ۔ ہٹلر نے تو نسل کشی بھی شروع کی تھی۔یہودیوں اور ہم میں ایک مشترک صفت یہ بھی ہے کہ ایک جگہ آرام نہیں آتا اور قبضہ بڑھانے کی تاک میں رہتے ہیں ۔انسانی بقا کیلئے یہ ضروری ہے ۔ دنیا میں صرف طاقتور سروائیوو کرسکتا ہے ۔ پختون کا ایک صدی پہلے تک دنیا میں ایک نام تھا، ہم طاقتور تھے ۔ مگر پھر وقت بدل گیا ۔ دنیا میں کامیابی کا دارومدار ٹیکنالوجی ، اقتصاد اور تعلیم کی بنیاد پر ہونے لگا ۔ آل یہود یہ بات سمجھ گئے تھے ۔ اسلئے انہوں نے ہر ظلم کا سامنا کیا مگر خاموشی کیساتھ اپنے اقتصاد اور عصری علوم پر توجہ دینے لگے ۔کاروباری دنیا پر یہ راج کرنے لگے ۔ اپنے لئے الگ ملک بنایا اور عصری علوم کی بنیاد پر ایٹم بم بھی بنایا ۔ آج تھوڑی سی آبادی کے باوجود بھی سارے عرب ممالک بشمول پاکستان ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔
ہمارے حریفوں کو خدشہ تھا کہ پشتون عصری علوم اور اسلحہ سازی کے میدان میں اترے تو پورے خطے کوبدل سکتے ہیں، یوں مولویوں کی صورت میں ایک فتنہ ہم پر مسلط کیا ۔ ان کا کام پختونوں کو الجھانا تھا کہ گانڈ کس ہاتھ سے دھونا ہے ، استنجاء کا صحیح طریقہ کار کیا ہے ، ہمبستری کا اسلامی طریقہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی ان مولویوں نے پشتون قوم کو یہ بھی سمجھایا کہ عصری علوم تو صرف نوکری یا ہنر کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ اصل علم تو قدوری و شروط الصلاة پڑھنا ہے اور ہم نے اگر آگے بڑھنا ہے تو صرف اسلامی علوم پر توجہ دیں ۔ عصری علوم فتنہ ہے ۔
یوں ہم سو سال پیچھے چلے گئے ۔ بدقسمتی سے جو مولوی حضرات یہ کہتے ہیں ان کی اکثریت کے بچے آج اعلی یونیورسٹیوں میں ہیں ۔ اسلامی احکامات کے مطابق ہر مسلمان پر اتنا علم فرض ہے کہ انہیں حرام و حلال کی تمیز ہو اور روزمرہ زندگی گزارنے میں کام آئے ۔ لیکن مولویوں کے مطابق آپ نے آٹھ سال تک مدرسے میں وہ کتابیں پڑھنی ہیں جن کا وجود پیغمبرۖ کے دور میں تھا ہی نہیں ۔
افغان طالبان حکومت قائم ہوئی تو کابل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کیلئے افغان حکومت کے پاس انجینئرز ہی نہ تھے ۔ یوں قطری انجینئرز نے ائیرپورٹ کو بحال کیا ۔ ہم نے اگر دنیا میں نام کمانا ہے ۔ طاقتور بننا ہے تو مذہبی ہونے کیساتھ عصری علوم پر توجہ دینا ہے ۔ ورنہ ہم مار کھاتے رہیں گے ۔ کچھ لوگ شکوہ کریں گے کہ تعلیم کے مواقع نہیں ۔ عرض ہے کہ افغانستان میں تو پختون نمائندہ حکومت ہے۔وہ عصری علوم کو مباح کہہ رہے ہیں تو پنجابیوں سے تو گلہ کا حق ہی نہیں بنتا ، باقی تعلیم میں فی الحال کہیں پر بھی رکاوٹ نہیں، اگر آپ بہانے بازی کریں تو الگ بات ہے ۔
ہمارا تعلیمی نظام یہودی سٹینڈرڈ کا نہیں مگر فی الحال اسی سے کام چلاؤ ۔آل یہود میں ہر مرد ، عورت و بچے پر مخصوص وقت تک فوجی ٹریننگ اور فوج میں سروس قانونا لاگو ہے ۔خالصتا یہودی طرز پر بچوں کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دیں ۔ تعلیم کیساتھ ہتھیاروں کی ٹریننگ انتہائی ضروری ہے مگر ہتھیار صرف دشمن کیخلاف استعمال کرنا ہے، بھائی ، بھتیجے یا تربور کیخلاف نہیں۔
تیسرا کام آل یہود نے یہ کیا کہ پیسہ سے دنیا کو کنٹرول کیا ۔ نارکوٹکس سے پیسہ اکھٹا کریں یا کسی بھی غیر قانونی کام سے مگر کوشش کریں کہ کاروباری دنیا میں ہماری اجارہ داری قائم ہو۔ کراچی میں دو افغان لڑے۔ ایک غریب ،دوسرا امیر ۔ امیر افغان نے زیادتی بھی کی تھی مگر( رینجرز نیم فوج ادارے )نے دولتمند افغانی کی طرف داری کی، غریب افغانی کی پھینٹی لگائی ۔ مضبوط اقتصاد طاقت کی کنجی ہے۔ پشتون قوم ڈیرنگ نسل ہے یعنی جو کام دوسرے نہیں کرسکتے وہ ہم کرسکتے ہیں اسلئے کوشش کریں پیسہ بنائیں ، اپنی اقتصاد کو مضبوط بنائیں ۔ اگر کوئی آپ سے زیادہ طاقتور ہے تو ان کو پیسوں کے ذریعے خریدیں۔
چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ کم بچے پیدا کرنے ہیں مگر باصلاحیت اور صحت مند بچے ۔ دس بے روزگار بچوں کو پیدا کرنے کی جگہ دو باصلاحیت اور قابل بچے پیدا کرنا ضروری ہے پنجاب سے اگر ہماری آبادی کم بھی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ۔ باصلاحیت ، لڑاکو اور طاقتور ہونگے تو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔
پانچواں یہ کہ ملیشے یا فوج میں بھرتی نہ ہوں۔ چھوٹے موٹے کاروبار اور فیکٹریوں پر توجہ دیں ۔ پختونوں کی ایک تنظیم ہونی چاہیے جو پوری دنیا میں پختونوں کیلئے کاروبار کے مواقع فراہم کریں ۔ فوج میں صرف لیفٹنینٹ اور آفیسر بھرتی ہونگے۔ سپاہی کے طور پر بھرتی ہونے سے گریز کریں گے ۔
چھٹا کام ہم نے یہ کرنا ہے کہ پاکستان میں جتنی مسلح تنظیمیں ہیں ، انکے اوپر خاموشی اختیار کرنی ہے ۔ کسی کیساتھ پنگا نہیں لینا ہے ۔ صرف تعلیم اور اقتصاد پر توجہ دینی ہے ۔۔ اپنے بچوں کو برگر بچے ، یا بزدل بنانے کی بجائے انہیں لڑنا بھی سکھائیں مگر آل یہود کی طرح مضبوط اعصاب کے بچے پیدا کریں ۔
آپ کے گھر میں آئن سٹائن تو پیدا ہونے سے رہا ۔ اگر آپ نے دس بچے پیدا کئے ہیں اور سب کے سب مزدوری میں جھونک دئے ہیں ۔مزدور شخص کو اپنے دو وقت کی روٹی کی فکر ہوتی ہے ۔ آپ ان سے عقل و شعور کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔
آپ کے سامنے رکاوٹیں آئے گی لیکن میری ان باتوں پر عمل کرتے ہوئے انشا اللہ اگلے دس سالوں میں ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں ہم پختونوں کو بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ دیوار سے لگانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ بہتر ہے کہ ہم جذباتی فیصلوں کی بجائے عقل و شعور کا راستہ اختیار کریں ۔
وماعلینا الالبلاغ المبین احمد حسین طوری حفظہ اللہ
عبدالغفار خان کے بڑے بھائی عبدالجبار ڈاکٹر خان پیدائش1882ء ۔ اعلیٰ طبی تعلیم لندن سے۔ برطانوی ہند کی فوج میں بھرتی ۔ سبکدوش ہوکر میڈیکل کی پریکٹس شروع کی1930ء میں سیاست میں حصہ لینا1931ء سے1934ء تک جیل کاٹی۔1937ء میں صاحبزدہ عبدالقیوم کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیالیکن تحریک عدم اعتماد کے بعد ڈاکٹر خان منتخب ہوگئے۔ کانگریس کے فیصلے پر پھرمستعفی ہوگئے ۔ پھر دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت بر طرف کردی گئی ۔6سال تک ہزارہ میں نظربند رکھا گیا۔1954ء میں مرکزی کابینہ میں لیا گیا۔ وزارت مواصلات کا قلمدان دیا گیا۔ اکتوبر1955ء میں مغربی پاکستان کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔1957ء میں برطرف کیا گیا۔
خان عبدالغفار خان بڑے خان سیف اللہ خان کے بیٹے تھے جس نے بونیر پر قبضہ کیخلاف انگریز سے جنگ لڑی تھی۔ دادا کو اپنی قوم سے وفاداری کی وجہ سے افغانستان کے درانیوں نے حکومت میں ہونے کی وجہ سے پھانسی دی تھی۔ قوم کوتاریخ و حقائق اور مذہب کے اصل رنگ دکھائیں تو اعتدال آئے گا۔
رکھیو غالب اس تلخ نوائی میں مجھے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
٭٭٭
اوٹ پٹانگ
کانوں کی اک نگری دیکھی جس میں سارے کانے دیکھے
ایک طرف سے احمق سارے ایک طرف سے سیانے دیکھے
کانوں کی اس نگری کے سب ریت رواج علیحدہ تھے
روگ علیحدہ بستی میں تھے اور علاج علیحدہ بستی میں تھے
دو دو کانے مل کر پورا سپنا دیکھا کرتے تھے
گنگا کے سنگم سے کانے جمنا دیکھا کرتے تھے
چاندنی رات میں چھتری لے کر باہر جایا کرتے تھے
اوس گرے تو کہتے ہیں واں سر پھٹ جایا کرتے تھے
دریا پل پر چلتا تھا پانی میں ریلیں چلتی تھیں
لنگوروں کی دُم پر انگوروں کی بیلیں پکتی تھیں
چھوت کی ایک بیماری پھیلی ایک دفعہ ان کے کانوں میں
بھوکے کیڑے سنتے ہیں نکلے گندم کے دانوں میں
روز کئی کانے بیچارے مرتے تھے بیماری میں
کہتے تھے راجا سوتا تھا سونے کی الماری میں
گھنٹی باندھ کے چوہے جب بلی سے دوڑ لگاتے تھے
پیٹ پہ دونوں ہاتھ بجا کر سب قوالی گاتے تھے
تب کانی بھینس نے پھول پھلا کر چھیڑا بین کا باجا
اور کالا چشمہ پہن کے سنگاسن پر آیا راجا
دکھ سے چشمے کی دونوں ہی آنکھیں پانی پانی تھیں
دیکھا اس نے کانا راجا کی دونوں آنکھیں کانی تھیں
جھوٹا ہے جو اندھوں میں کانا راجا ہے کہتا ہے
جاکر دیکھو کانی نگری اندھا راجا رہتا ہے
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ