قرآن عدل وتوازن سے وہ انقلاب پیدا کرتاہے کہ زمین میں انصاف ، برزخ اور آخرت کی بشارت ہو۔
جنوری 26, 2026
اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے :
ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک وماکنت لدیھم اذ اجمعوا امرھم و ھم یمکرونOو ما اکثر الناس و لو حرصت بمؤمنینOو ماتسالھم علیہ من اجرٍ ان ھو الا ذکر للعالمینOوکاین من اٰیةٍ فی السماوات و الارض یمرون علیھا و ھم عنھا معرضونOومایؤمن اکثرھم باللہ الا و ھم مشرکونOافامنوا ان تأتھیم غاشة من عذاب اللہ او تأتھیم الساعة بغتةً و ھم لا یشعرونOقل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرةٍ انا ومن اتبعنی و سبحان اللہ و اما انا من المشرکینOوما ارسلنا من قبلک الا رجالًا نو حی الیھم من اھل القرٰی افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبة الذین من قبلھم ولدارالاٰخرة خیر للذین اتقوا افلا تعقلونOحتی اذا استیاس الرسل و ظنوا انھم قد کذبوا جاھم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین
O(سورہ یوسف:102تا110)
” یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم آپ کو وحی کرتے ہیں۔اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب انہوں نے میٹنگیں اپنا معاملہ نمٹانے کیلئے کررکھی تھیں اور سازش کررہے تھے۔اور اکثر لوگ مؤمن نہیں بنتے اگر چہ آپ کی چاہت ہو۔ اور آپ ان سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے ۔ یہ تو نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ۔ اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ایک نشانیاں ہیں جن سے یہ گزرتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں۔اور اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر وہ مشرک ہیں۔ کیا یہ امن پاچکے کہ ان پر کوئی گھیرنے والی آفت آئے یا اچانک انقلاب آئے اور انہیں خبر نہیں ہو۔ کہہ دو کہ یہ میرا راستہ ہے ۔اللہ کی طرف میں دعوت دیتا ہوں بصیرت کیساتھ میں اور جو میری اتباع کرے۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ اور ہم نے آپ سے پہلے کسی کو نہیں بھیجا مگر آدمیوں کو جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے بستیوں والوں میں سے ۔کیا یہ زمین میں نہیں گھومتے تو دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کا کیا حشر کیا۔ اور تقویٰ والوں کیلئے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ہو ۔یہاں تک جب رسول ناامید ہونے لگے اور گمان کیا کہ تحقیق ان سے جھوٹ کہا گیا ہماری مدد آئی تو ہم جس کو چاہیں نجات دیں اور ہماری سختی مجرموں سے ٹلنے والی نہیں ہے”۔
قرآن میں عالم انسانیت کیلئے یہ نقشہ ہے کہ اللہ اس وقت بھی تمہیں جانتا تھا کہ جب زمین سے تمہاری نشو و نما ہوئی تھی اور اس وقت بھی جب اپنی ماں کے پیٹ میں جنین تھے۔زمین سے نشو ونما کے بعد ، ماں کے پیٹ میں جنین سے پہلے عالم ارواح میں عہد الست کیا تھا؟اور کس طرح ایک خود مختار حیثیت سے اپنے لئے ایک کردار کا انتخاب کیا؟۔
یَسْــٴَـلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا(الاحزاب:63)
” آپ سے لوگ انقلاب کاوقت پوچھتے ہیں۔کہوکہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور تمہیں پتہ نہیں اورشاید کہ انقلاب کا وقت قریب ہے”۔(الاحزاب63)
فتح مکہ ہوا اور قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست ہوئی۔ حضرت عمر کے دور میں ایک بھاگا ہوا شخص اسلام لانے کیلئے واپس آیا۔ حضرت عمر نے غیر معمولی پروٹول دیا تو سب حیران تھے۔ اس نے کہا کہ میں نے نبیۖ سے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ عرب اپنے اجداد کے دین کو چھوڑ دیں اور یہ نیا دین قبول کرلیں۔اگر بالفرض یہ ہوا تو پھر دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست کیسے دیں گے؟۔ اور وہ بھی ہوگیا تو قبروں کے بعد قیا مت کے دن دوبارہ سب کا جمع ہونا کیسے ممکن ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ پہلی دو چیزیں اپنی زندگی میں دیکھ لوگے۔ آخرت میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر بتاؤں گا کہ اب یقین آگیا۔ میں نے سوچا کہ دو باتیں ٹھیک ثابت ہوئی ہیں تو تیسری بھی ہوسکتی ہے اور اسلام قبول کرلیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس موقع پر میں موجود تھا اور میں نے سوچا کہ نبیۖ نے اس کا ہاتھ پکڑنا ہے اور اگر ہم سے نبیۖ کے بعد کوئی کوتاہی ہو تو یہ سفارش کرے گا۔
حضرت عمر نے حذیفہ بن یمان سے پوچھا کہ منافقین میں میرا نام تو نہیں ہے۔ حضرت عمر بہت سخت زخمی تھے اور موت کا وقت قریب تھا۔ حذیفہ نے کہا کہ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہرگز نہیں بتاتا کیونکہ یہ راز ہے۔پھر کہا کہ آپ نہیں ہو۔ حضرت عائشہ سے قبر کیلئے حجرے میں اجازت کیلئے عبداللہ بن عمر گئے۔حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے اپنا سوچا تھا لیکن عمر کیلئے اجازت ہے۔ حضرت عمر نے عبداللہ سے کہا کہ حذیفہ میرے جنازے میں شریک نہ ہو تو مجھے نبیۖ کے پاس دفن نہ کرنا اور شریک ہو تو حضرت عائشہ سے دوبارہ اجازت لینا، ممکن ہے کہ زندگی میں رعایت کرکے اجازت دی ہو پھر عبداللہ نے حذیفہ کی جنازے میں شرکت دیکھی اور حضرت عائشہ سے دوبارہ اجازت لی اور وہاں دفن کردیا گیا۔اسلام کی قربانی دینے والے یہ صحابہ کرام تھے۔ماشاء اللہ
اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے :
ان اللہ لعن الکافرین واعدلھم سعیرًاOخالدین فیھا ابدًا لایجدون ولیًا و لانصیرًاO…
” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے سختیاں تیار کرکھی ہیں ۔جس میں وہ ہمیشہ رہیںگے اور کوئی دوست اور مدد گار نہیں پائیں گے۔ جس دن ان کے چہرے ہم الٹیں گے آگ میں تو کہیںگے کہ اے کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے۔اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور بڑوں کی تو انہوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کیا۔ اے ہمارے رب ان کو ڈبل عذاب دے اور ان پر لعنت کر بڑی لعنت۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی تو پھر اللہ نے اس کو بری کردیا جو وہ کہتے تھے اور اللہ کے نزدیک اس کا بڑا مقام تھا۔اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور بات کرو بات سیدھی۔ تو تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کئے جائیں گے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ الاحزاب:64تا71)
انا عرضنا الامانة علی اسماوات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا و حملھا الانسان انہ کان ظلومًا جھولًاOلیعذب المنافقین و المنافقات و المشرکین و المشرکات و یتوب اللہ علی المؤمنین و المؤمنات و کان اللہ غفورًا رحیمًا
” بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کیا کہ اس کو اٹھائیں اور اس سے انہوں نے احتیاط بھرتی اور انسان نے اسے اٹھایا۔ بیشک وہ بڑا اندھیرے میں اور لاعلمی میں تھا۔ تاکہ عذاب دے منافقین اور منافقات کو اور مشرکین اور مشرکات کو اور توجہ دے مؤمنیں اور مؤمنات پر اور اللہ تو ہے ہی غفور رحیم”۔(سورة الاحزاب:73،74)
بالفرض ایک آدمی ایک فلم یا ڈرامہ تیار کرتا ہے ۔اداکار اور ادا کارائیں اپنی مرضی سے ہیرو یا ولن اور جس طرح کردار بھی چن لیں تو کون کتنی کامیابی سے کردار ادا کرتا ہے؟۔ اس میں انسان کے دل ودماغ کی کیفیات اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ نیک اور بد خواہشات اس کی ذاتی پراپرٹی ہوتی ہیں۔جس پر اس کو خدا کی طرف سے معاوضہ یا عتاب ملتا ہے۔ ایک شہید، ایک عالم اور ایک سخی کو اسلئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ اس نے اچھے کردار کی اداکاری کیلئے انتخاب کیا مگر اللہ کیلئے کچھ نہیں کمایا۔
بلکہ اس کی زیادہ اچھی مثال حکومت اور ریاست میں اپنی ذمہ داریوں کیلئے حلف اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیںجن کے ساتھ اگر درست عدالت میں انصاف ہوجائے تو پھر ان کی دنیا میں ہی پکڑ بھی ہوگی۔ جب کچھ لوگوں کو کڑی سزائیں ملیں گی تو احتساب کیلئے قوانین ایسے بنائے جائیں گے کہ جتنی بڑی سے بڑی ذمہ داری ہو تو اس طرح گرفت کا شکنجہ بھی اس پر بہت ہی مضبوط اور فوری ہو تاکہ ایسی جگہ گھیرے میں نہیں آئے کہ اس کی پھر واپسی ممکن نہیں ہو۔ جب تمام جہانوں کا ایک منصوبہ تشکیل دیا جارہاتھا تو اللہ کی کائنات میں زمین کی مٹی سے کچھ بے چین روحوں نے کہا کہ ہم اس میں اپنا کردار ادا کرینگے جبکہ مٹی کی اس جرأت پر آسمانوں وزمین اور پہاڑوں کو حیرت بھی ہوئی اور حسرت بھی ۔چھوئی موئی کا پودا اور پھول قارئین نے دیکھا ہوگا یا نہیں؟۔جب اسکے پتوں کو ہاتھ لگایا جاتا ہے تو فوراً اپنی دفاعی نظام کے تحت بند ہوجاتے ہیں۔ پارکوں میں بچوں کے جھولے وغیرہ کیساتھ کہیں پر بیل بھی ہوتا ہے جس پر بیٹھا جائے اور نہیں گرا جائے تو انعام بھی ملتا ہے۔پشاور میں میرا بیٹا حمزہ چھوٹا تھا اور اس پر بیٹھنے کا چیلنج قبول کیا تو سب حیران تھے کہ کراچی کا بچہ بہت بہادر ہے لیکن لمحہ بھر میں اس کو گرا دیا تھا۔ پھر کراچی میں میرے چھوٹے بچے مقیم نے بڑی ضد کی اور بہر صورت بیٹھنا چاہتا تھا۔ بڑے بھائی ابوبکر نے بہت سمجھایا اور آخر میں جب پارک والے نے کہا کہ بڑے بھی نہیں بیٹھتے اور اتنے چھوٹے بچوں کی اجازت ہی نہیں تو بادل نخواستہ مان گیا۔
پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدے چلانے کیلئے پوڈری تک بھی تیار رہتے ہیں ۔ انسان کی فطرت میں امانت اٹھانے کا وہ جرثومہ ڈال دیا گیا ہے کہ مقناطیس کی طرح کشش رکھتا ہے۔
اذا الشعب یوما اراد الحیاة
فلا بد أن یستجیب القدر
جب ایک قوم زندگی کا ارادہ کرتی ہے تو پھر اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے کہ تقدیر بھی اس کی بات کو قبول کرلیتی ہے۔
جاوید غامدی کے استاذ امین اصلاحی، دادا استاذ حمید الدین فراہی ، پردادا استاذ شمس العلماء شبلی نعمانی، لکڑدادا شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد۔ جس نے انگریز کو پہلی مرتبہ قرآن کی تفسیر میں ”اولی الامر” قرار دیا ۔ سرسید احمد خان نے مخالفت کی تھی۔
شبلی نعمانی پہلے وکیل تھا، جب ناکام ہوا تو علیگڑھ میں ایک فارسی کا استاذ بھرتی ہوگیا۔ حمیدالدین فراہی کو خلافت عثمانیہ کو گرانے اور عرب اور انگریز کے درمیان ترجمانی کیلئے بھرتی کیا اور اس راز کو ہمیشہ پوشیدہ رکھا جو عرب اور انگریز میں مذاکرات اور معاہدات ہوئے تھے۔ فراہی کی نسبت جعل سازی تھی اور غامدی کی نسبت بھی جعل سازی ہے۔ البتہ اپنے شجرہ نسب کے ساتھ کس درجہ کا لگاؤ ہے؟۔ قرآن کی آیت سے خود ساختہ معنی نکال کر مسلمانوں پر قیامت تک مسلط کرنے کا مشن اپنا لیا۔
اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جاویداحمد غامدی کا کیا قصور ہے؟،وہ تو تقدیر کے آئینہ قرطاس میں لکھا جا چکا؟۔
اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل قصور ہے اسلئے کہ پہلے بھی یہ انتخاب اس کا اپنا ہی تھا اور آج بھی اس کا یہ انتخاب اپنا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ عورت کی ایک عدت ہے اور اس عدت میں باہمی اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع ہے اور امام ابوحنیفہ کے مسلک میں اس آیت سے کوئی حدیث بھی متصادم ہو تو اس کو نہیں مانا جائے گا۔ آیت228البقرہ۔ جس میں رجوع کی گنجائش بھی ہے اور صلح نہیں ہو تو نہیں بھی ہے۔ جب عورت راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق اورحضرت علی نے حرام کے لفظ پر رجوع کا فیصلہ نہیں کیا۔ جبکہ اگلی آیت229میں بھی یہی دو صورتیں ہیں ۔ معروف کی شرط پر رجوع یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا۔ اگر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو پھر تفصیل ہے جس میں فدیہ کی صورت تک معاملہ پہنچتا ہے اور فدیہ تک معاملہ پہنچنے کے بعد یہ کنفرم ہوجاتا ہے کہ عورت اب کسی صورت رجوع نہیں چاہتی اور اس وضاحت کے بعد اللہ نے آیت230البقرہ میں حلالہ کا حکم واضح کیا ہے لیکن عورت راضی ہو تو آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔ حنفی مسلک میں آیت230کا تعلق آیت229کے خلع سے ہے۔ حنفی کے علاوہ کوئی دوسرا طبقہ اس لعنت میں ملوث بھی نہیں ہے۔
ایک پیر صاحب کو مرید نے چیک کرنے کیلئے پلیٹ میں گوشت چاول میں چھپا کر دیا تو وہ غصہ ہوا کہ میری توہین کی۔ مرید نے کہا کہ تم دور ازکار غیب کی باتیں بتاتے ہو اور پلیٹ کا پتہ نہیں چلا؟۔ بہت کھلایا پلایا مگر تم دلے، بے غیرت، بے حیا، بے شرم اور بے ضمیر آئندہ اپنی روزی روٹی کیلئے محنت مزدوری کرو۔اور یہاں نظر نہیں آؤ۔ لیکن پیر منتیں ترلے پر اتر آیا۔
جاویداحمد غامدی قرآن سے حضرت نوح علیہ اسلام کا بیٹا یافث تلاش کرسکتا ہے جس کی اولاد قیامت تک مسلمانوں پرہی حکومت کرے گی تو اس کو تھوڑا چیک کیا جائے کہ بقول حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن مفتی اعظم پاکستان صدر تنظیم المدارس العربیہ پاکستان” جس کا کھاؤ اس کا گاؤ” پر عمل کرتا ہے یا پھر کھاتا مسلمانوں سے ہے اور کام ان کیلئے کرتا ہے؟۔ ہاہاہا
واذقلنا لک ان ربک احاط بالناس و ما جعللنا الرویا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القرآن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO
”اور جب ہم نے آپ سے کہہ دیا کہ کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور شجرہ ملعونہ کو قرآن میں اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو وہ نہیں بڑھتے مگر بہت بڑی سرکشی میں”۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت:60) اللہ نے معراج میں پوری دنیا پر خلافت علی منہاج النبوت کے قیام کا خواب دکھایا جہاں تمام انبیاء کرام کو نماز کی امامت کرائی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ معراج بیداری میں ہوا یا خواب میں؟۔ خواب نصب العین کو بھی کہتے ہیں جو واضح ہے لیظہرہ علی الدین کلہ ”تاکہ تمام ادیان پر غالب آجائے”۔ جاویداحمد غامدی اپنے لکڑدادا کے مشن کا خواب آگے بڑھارہاہے۔ شمس العلماء اور امام مجتہد جو تمغہ مل جائے ،ناکامی ہی مقدر میں ہے۔انشاء اللہ
جب جاوید احمد غامدی نے قرآن سے تلک الایام نداولھا بین الناس کو اپنا خود ساختہ معنیٰ پہناکر حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد کو قیامت تک اقتدار سونپنے کا فلسفہ گھڑدیا ہے تو اس کو غامدی کے بجائے یافثی کی طرف جانا چاہئے تھا۔ حمید الدین کا فراہی ہونا بھی عربوںکو دھوکہ تھا۔ حالانکہ قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ مشرک اور مسلمانوں کے درمیان تھا۔ مشرکوں نے پہلے کوئی حکومت نہیں کی تھی لیکن ان کاظلم و ستم مسلمان سہہ چکے تھے۔ سورہ حدید کی آخری آیت میں بنی اسرائیل کے طاقتور ہونے کے بعد اورمسلمانوں پر مظالم کے بعد آیت کے ٹھوس مفہو م سے یہ اخذ کرنا چاہیے تھا کہ مسلمانوں پر بہت مظالم ہوچکے ہیں ان کی خلافت توڑ ی گئی اور مظالم کئے اب پھر اللہ حکومت دے گا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ