– المھدی موجود علی الانترنت
جنوری 26, 2026
المھدی موجود علی الانترنت
والدلیل کلام عجیب للشیخ ابن عربی
فتی الشرق چینل: عربی کا ترجمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم، خوش آمدید۔ ان اشعار پر گفتگو کریں گے جو ابن عربی نے کہے ۔ جن میں اللہ کے خلیفہ امام مہدی کے ظہور اور خروج کے وقت پر واضح اشارے اور نشانیاں ہیں، وہ علامات بیان کی گئی ہیں جب ظاہر ہوں گے، اور وہ واقعات جو ظہور سے پہلے پیش آئیں گے۔ ان اشعار میں یہ نمایاں ہے کہ ابن عربی ہمارے اسی زمانے کا کہہ رہے ہیں، جس میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں، جو انٹرنیٹ کا دور ہے، متحرک، دکھائی دینے والی اور سنی جانے والی تصاویر کا دور جو چند لمحوں میں دنیا کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو جاتی ہیں ،جنہیں سب لوگ دیکھ لیتے ہیں۔ ہم ابن عربی کے اشعار میں موجود معانی اور تشریح کو اخذ کرتے ہیں،یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شیخ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
شیخ ابن عربی نے اشعار میں فرمایا:
یہ خلیفہ، یہ سردار، یہ علم، یہ مقام، یہ رکن اور یہ حرم ہے۔ تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ چکا مگر اس کی حقیقی حکمرانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی، کیونکہ آنکھوں کے سامنے بچھڑا اور بت نمایاں ہو چکے ہیں۔ وہ ایسی قوم سے خوف زدہ ہیں جن کی ساری کوشش یہی رہتی ہے کہ وہ اس چیز کو حاصل کریں جو موسیٰ نے حاصل کی، حالانکہ وہ جانتے نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ ظاہری مشاہدہ ہر حال میں حرام ہے، جب بھی بصیرت کی آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تو اس کی اصل عدم ہوتی ہے۔
ان اشعار کو سننے کے بعد اے اللہ کیلئے بھائیو!آج ہم ان کی تشریح شروع کریں۔
شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں:
یہ خلیفہ، یہ سردار، یہ علم۔ اس خلیفہ سے مراد اللہ کا خلیفہ امام مہدی ہے۔ یہ سردار اور علم اس کی علامت ہے کہ یہ خلیفہ وہ ہستی ہو گا جو اس زمین پر سردار ہو گا، جب اللہ تعالی اسے اس زمین کی بادشاہی عطا فرمائیں گے، پس وہ علم اور علامت ہو گا، یعنی اس کی سرداری واضح نشانی ہو گی جو پوری زمین میں انسانوں اور جنوں کے درمیان پہچانی جائے گی، وہ سب پر خلیفہ اور بادشاہ ہو گا۔
پھر فرمایا:
یہ مقام، یہ رکن اور یہ حرم۔ اس مقام سے مراد وہ مقامِ فردانیت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندے مہدی کو عطا فرمایا ۔ جسکے ذریعے اسے اپنا خلیفہ بنایااور پوری زمین کا سردار، حاکم اور بادشاہ مقرر کیا۔ یہ رکن اور یہ حرم، یعنی یہ مقام اللہ تعالی کا وہ رکن ہے جس کی طرف مومن اور اللہ کے نیک بندے پناہ لیتے ہیں، پس وہ اللہ کی حفاظت، اس کی پناہ اور اس کی رحمت میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہ حرم وہ ہے جو مومنوں ، اللہ کے نیک بندوں کو گناہوں، معصیتوں، نفس کی خواہشات اور شیطان کے اعمال اور قدموں سے محفوظ رکھتا ہے۔
پھر شیخ ابن عربی کہتا ہے:
تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ چکا مگر اس کی حکمرانی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہاں شیخ اس زمانے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جب امام مہدی کا ظہور قریب ہو گا۔ اس دور میں امام مہدی کا ذکر اور ان پر گفتگو تمام انسانوں میں کثرت سے ہو گی، پوری زمین کی قومیں اور تمام دنیا کے لوگ اس خلیفہ اور اس نجات دہندہ پر بات کریں گے جو زمین پر عدل و انصاف کیساتھ حکومت کرے گا، فساد، ظلم، جبر، طغیان اور خونریزی کے خلاف جنگ کرے گا، لوگوں کو شراور شریروں سے نجات دے گا۔ یہ دور امام مہدی کے ظہور کی براہِ راست نشانی ہو گا،آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ نشانی حقیقت بن چکی ہے، کیونکہ ہم دیکھتے، سنتے اور مشاہدہ کرتے ہیں کہ امام مہدی کا ذکر اور ان پر گفتگو سوشل میڈیا پر غیر معمولی طور پر پھیل چکی ہے، بے شمار چینلز اور صفحات کے ذریعے جو انکے قریب ظہور اور خروج پر بات کر رہے ہیں، اور یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی کثرت سے چینلز اور صفحات ایک ہی وقت میں دنیا بھر میں امام مہدی کا ذکر کریں اور انکے ظہور کی بشارت دیں،
کیونکہ اس وقت انٹرنیٹ موجود نہیں تھا۔ پس جب ابن عربی کہتے ہیں کہ
تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ گیا مگر اس کی حکمرانی ظاہر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مہدی اس دور میں، یعنی انٹرنیٹ کے زمانے میں ، واقعی تمام انسانوں میں معروف ہو چکے ہیں، حالانکہ ان کی عملی حکمرانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ وہی حقیقت ہے جو ہم آج اپنے زمانے میں دیکھ رہے ہیں۔
پھر ابن عربی نے فرمایا:
جب آنکھوں کے سامنے بچھڑا اور بت ظاہر ہو گئے۔ اس شعر میں بھی وہ ہمارے اسی زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس بچھڑے سے مراد دجال کے فتنہ کی علامت ہے، یعنی امام مہدی کے ظہور سے پہلے دجال کا فتنہ ظاہر ہو جائے گا، جو سورج کی طرح واضح ہو گااور ہر صاحبِ بصیرت اسے حقیقت کیساتھ پہچان لے گا اور اس کی خباثت کو محسوس کرے گا۔ یہ وہی فتنہ ہے جس میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں، جو انسانوں میں سرایت کر چکا اور آزمائش میں ڈال رہا ہے۔ یہ بات اس شعر سے ثابت ہے کہ ابن عربی ہمارے ہی زمانے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی نظموں میں یہ بیان کیا کہ امام مہدی کے ظہور کا راز بچھڑے کے ظہور سے جڑا ہوا ہے اور بچھڑا دجال کی عبادت کی علامت ہے، جیسا کہ موسی علیہ السلام کی قوم نے سامری کے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔
ابن عربی نے ایک اور قصیدے میں فرمایا کہ
اللہ کیلئے ایسے لوگ ہیں جنکے دل جنت الفردوس میں بسنے سے مطمئن ہیں، وہ فضا اور آسمان میں سکون اختیار نہیں کرتے، کیونکہ بچھڑے میں وہ راز ہے جسکے سبب نچلے درجے میں آگ کے گرجنے والے بادل پھٹ پڑے، اور اسکے اطراف میں چمکنے والی بجلی ظاہر ہوئی جو انسان کے باطن میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں وہ امام مہدی اور انکے انصار مومنین کی بات کرتے ہیں، جنکے دل جنت الفردوس میں بستے ہیں اور وہ دجال کے فتنہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ پھر وہ اس عظیم فتنے کا ذکر کرتے ہیں جو زمین اور آسمان کو بھر دے گا، اور آخر میں امام مہدی کو اس چمکدار بجلی سے تشبیہ دیتے ہیں جو امید کی روشنی بن کر آئے گی اور اللہ کے نور سے اس عظیم فتنے کو ختم کرے گی، حالانکہ وہ خود بھی لوگوں کے درمیان اسی فتنے کی آگ میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔
پھر شیخ نے ایک اور عبارت میں فرمایا کہ اس کا زمانہ نوری ہے
اور اس کا وقت مرئی ہے، جس سے وہ ہمارے اس دور کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو روشنی اور دیکھنے کا زمانہ ہے، جہاں ہر جگہ روشنی اور ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے۔
آخر میں نہایت اہم بات کرتے ہیں کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے کی بیشتر نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اور جو باقی رہ گئی ہیں وہ نہایت کم ہیں
اور یہ آنے والا وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو گا، کیونکہ فتنوں کی کثرت ہو گی، دجال کا فتنہ عروج پر ہو گا اور یہ ہر انسان کے ایمان کا حقیقی امتحان ہو گا۔
جو سچے دل سے اللہ کا ولی ہو گا وہ نجات پائے گا، اور جو شیطان اور دجال کا پیروکار ہو گا وہ ہلاکت میں پڑ جائے گا، اور یہی بدترین انجام ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ