پوسٹ تلاش کریں

میں13برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بی بی سی نیوز اردو 13 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئیں تو ان کی والدہ نے ان پر خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں بچیوں کی شادی صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتی ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔15جنوری2026

میں13برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بی بی سی نیوز اردو  13 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئیں تو ان کی والدہ نے ان پر خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں بچیوں کی شادی صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتی ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔15جنوری2026 اخبار: نوشتہ دیوار

ایلن اولیوا…عہدہ بی بی سی منڈو…14سالہ پیٹریشیا لین سے27سالہ ٹموتھی کی شادی کی تقریب صرف چار منٹ تک جاری رہی۔پیٹریشیا نے سفید لباس پہنا نہ اپنے بالوں کو پھولوں سے سجایا۔ تقریب امریکی ریاست الاباما میں ایک جج کے دفتر میں ہوئی، جس کی واحد گواہ پیٹریشیا کی والدہ تھیں۔ریاست مینیسوٹا کے شہر سینٹ پال سے بی بی سی منڈو سے بات چیت میں58سالہ لین نے کہا: یہ سب بہت جلدی میں ہوا۔ مجھے وہ آدمی پسند نہ تھا، ماں غصے میں تھی یہ خوفناک تھا،شادی سرٹیفیکیٹ ملنے کے بعد عدالت کے سامنے پارک کے جھولے پر بیٹھ گئی۔ یہ بچوں والی ایسی حرکت تھی، جس نے ماں اور شوہر کو غصہ دلایا۔ کچھ بھی ایسا نہ تھا جیسا اپنی شادی کا سوچا تھا۔یہ حمل کے ابتدائی ہفتے تھے،21مئی1980کو ریاست الاباما کے قوانین میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ آج14سال کے بچے کی شادی نہیں ہو سکتی لیکن16سال کے نوجوان کی اپنے والدین میں سے کسی ایک کی رضامندی سے شادی ہو سکتی ہے۔

ایکوالٹی ناؤ( Equality Now) تنظیم شمالی امریکہ کی سربراہ اینستیسیا لا کہتی ہیں کہ اب بھی اضافی تحفظات نہیں۔ ریاست کو نابالغ کی آزادانہ رضامندی کی ضرورت نہیں ، نہ عدالتی اجازت کی۔الاباما34ریاستوں میں ہے جہاں18سال سے کم عمر قانونی استثنی کے ذریعے شادی کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کم عمری میں شادی کی تعریف رسمی اور غیر رسمی یونین کے طور پر کی جاتی ہے جس میں18سال سے کم عمر شامل ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی تسلیم کیا جاتا ہے۔
جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم (Unchained at Last) کے مطابق سنہ2000اور2021کے درمیان امریکہ میں کم از کم314,000نابالغوں کی قانونی طور پر شادی کی گئی۔

ان میں کچھ لڑکیوں کی شادی صرف10سال کی عمر میں ہوئی ۔زیادہ تر کی16یا17سال ، زیادہ تر لڑکیوں نے بالغ مردوں سے شادی کی کیونکہ امریکہ میں وفاقی سطح پر شادی کی کم از کم عمر مقرر نہیں، اسلئے ہر ریاست کم از کم عمر مقرر کرتی ہے۔ اینستیسیا لا نے کہا:وفاقی قانون نہ ہونے کا کم عمری کی شادیوں پر نمایاں اثر ہے۔ بچوں کے حقوق کی وکالت کیلئے ہر ریاست کے مختلف قوانین پر چلنا پڑتا ہے۔ کم عمری میں شادیوں کو ختم کرنے کیلئے وفاقی سطح پر کم از کم عمر کا نفاذ پہلا اقدام ہے تاہم امریکہ میں کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کیلئے جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔بغیر کسی استثنیٰ کے کم از کم18سال عمر مقرر کئے بغیر بچوں کا تحفظ ممکن نہیں۔ قانونی طور پر کم عمری میں شادی کی اجازت دینا اس عمل کی سماجی منظوری کے برابر ہے۔

پیٹریشیا بتاتی ہیں کہ میں اور میرا بھائی ثقافتی طور پر بہت اکیلے تھے۔ اگرچہ ہم بڑے امریکی شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتے تھے لیکن زندگی بہت سخت تھی۔بہت چھوٹی عمر سے جنسی استحصال کا شکار پیٹریشیا شدید ڈپریشن میں چلی گئیں۔ گھر سے مدد نہ ملنے پر مجبور ہو گئیں کہ مدد کیلئے بنائی گئی ہاٹ لائن پر رابطہ کریں۔ اس طرح25سالہ ٹموتھی گرنی سے ملی۔ وہ مشنری بننے کیلئے چھوٹی سی تنظیم میں انٹرن شپ کر تاتھا ۔ مشکلات کے شکار افراد کیلئے بنائی گئی ہاٹ لائن پر کالز کا جواب دیتاتھا۔13سال کی عمر میں حاملہ ہو گئی مگر اس کیساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ والدین کو بتایا تو والدہ نے خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیاکہ خاندان کی تمام شرمندگی کی ذمہ دار اور واحد حل یہ کہ شادی کر لوں۔ بچے کیلئے شادی کرنا پڑی۔ والد نے رضامندی کے فارم پر دستخط کیے اور اگلے دن عدالت کی تلاش میں جنوب کا سفر کیا جہاں شادی ہو کیونکہ یہ مینیسوٹا میں ممنوع تھا۔

پیٹریشیا، ان کی ماں اور ٹم پہلے کینٹکی پہنچے، جو مینیسوٹا کے قریب ریاست ہے لیکن حکام نے درخواست مسترد کر دی۔ انھوں نے کہا بالکل نہیں، یہ بہت چھوٹی ہیں اور وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، بالکل ٹھیک کیونکہ واقعی بہت چھوٹی تھی۔پھر الاباما گئے، جہاں شادی کر سکتی تھی بشرطیکہ انھیں والدین کی اجازت حاصل ہو ۔ جنوبی لاڈرڈیل کانٹی پہنچنے پر پیٹریشیا اور ٹم کی شادی چند منٹ میں ہو گئی۔ شادی کے سرٹیفیکیٹ پر دستخط نہیں کیے مگر نام ہے ۔ دستخط کرنے کی پابند نہیں تھی۔ ماں نے میرے لیے دستخط کیے تھے۔ انھوں نے میری زندگی ایک آدمی کو دے دی۔ اس طرح یہ شادیاں کام کرتی ہیں۔ لوگ آپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس شادی سے نہیں نکل سکتے جب تک آپ18سال کے نہ ہو جائیں۔حال میں قوانین تبدیل ہوئے ہیں تاہم سنہ2025میں بھی واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ صرف16امریکی ریاستوں میں بغیر کسی استثناء کے شادی کی عمر18سال ہے۔

شادی کے بعد پیٹریشیا کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا جیسے کہ اپنی بیٹی کو گود دینا اور شوہر سے طلاق لینا لیکن بعد میں دوبارہ شادی کر لی لیکن اس بار مرضی سے۔اینستیسیا لا نے کہا اس وقت سب سے زیادہ اجازت دینے والی ریاستیں، جہاں والدین یا عدالتی رضامندی سے شادی کی کوئی کم از کم عمر نہیں، میں کیلیفورنیا، مسیسیپی، نیو میکسیکو اور اوکلاہوما ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمر کا نابالغ کسی بھی عمر کے شخص سے شادی کر سکتا ہے۔وفاقی سطح پر قانون ان خامیوں کو ختم کر سکتا ہے جو فی الحال شادی کی آڑ میں جبری شادیوں اور بچوں کی سمگلنگ کی اجازت دیتے ہیںاور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

پیٹریشیا پر14سال کی عمر میں شادی مسلط کر دی گئی، جس سے تعلیم، سماجی روابط جیسے زندگی کے کئی پہلو متاثر ہوئے۔ امریکہ میں جبری اور کم عمری کی شادیوں کیخلاف کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق متاثرہ لڑکیاں اکثر الگ تھلگ ہو جاتی ہیں اور سکول چھوڑنے کا زیادہ امکان ہوتاہے ۔ وہ شوہروں پر اور بھی زیادہ انحصار کرتی ہیں۔میرے شوہر مجھے دوست رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ،میں مکمل طور پر اکیلی تھی۔ میں آج بھی جدوجہد کر رہی ہوں۔ میں تنہا محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے اب بھی لوگوں پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔

آخر کار میں ان انتہائی منفی خیالات سے چھٹکارا پانے میں کامیاب تو ہو گئی لیکن آج بھی تقریبا60سال کی عمر میں، مجھے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔سنہ2018سے16امریکی ریاستوں نے بچوں کی شادی پر پابندی کیلئے قوانین میں ترمیم کی لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔پیٹریشیا نے کہا کہ بہت لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا اب بھی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتا ہے ۔ یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے ان مردوں، یا یوں کہیے کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کیلئے شادی الزامات سے بچنے کا یہ طریقہ ہے۔ قانون بنانے والے اجازت نہ دیں جو16یا17سال کی عمر میں یہ بحث کرتے ہیں کہ یہ سچا پیار ہے تو بہت اچھا! اگر ایسا ہے تو یہ تب بھی سچا پیار ہو گا جب وہ18سال کے ہوں گے۔

BBCپرتبصرہ نوشتہ ٔ دیوار
برطانیہ کے دو بھائیوں کا ان کی سگی ماں کی طرف سے بچپن میں جنسی استحصال جب واقف کاروں سے بچپن میں اذیتناک تشدد سے گزارا گیا۔BBCنے حال میں رپورٹ کیا۔

1:امریکہ میں کیا محرکات ہیں کہ بچپن کا نکاح والدین کی اجازت سے مشروط ہے۔
2:یہ کہ18سال سے پہلے طلاق لینے کی اجازت کیوں نہیں؟۔یہ دونوں چیز یں سمجھنے کی ہیں۔
مغرب کا قانون ہے کہ طلاق کے بعد جائیداد بٹتی ہے اور بچوں کی جائیداد مسئلہ ہے اسلئے والد ین کی اجازت ضروری ہے۔ پھر طلاق پر آدھی جائیداد براہ راست اسکے نام ہوگی۔

جبکہ احادیث میں ولی کی اجازت کے بغیر عورت کانکاح باطل اور فقہ میںبچے کی طلاق معتبر نہیں۔ ان دونوں چیزوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو مسائل کاحل بن سکتے ہیں۔ ولی کی اجازت والی صحیح احادیث کو مسترد کرنے، بالغ لڑکی کے نکاح کو کفو کی اجازت سے مشروط کرنے اور نابالغ بچی کو نکاح پر مجبور کرنے کے متضاد مسائل کو قرآن وسنت پر پیش کرنا چاہیے۔

عیسائی اسلام سے پہلے سپر طاقت تھے مگر طلاق کی اجازت نہ تھی۔ تین سوسال قبل اجتہاد سے طلاق کو جواز بخشا۔ سپر طاقت بن گئے۔ طلاق میں عیسائیوں نے ہمارا اسلامی کلچر قبول کیا اور حلالہ کی لعنت میں ہم نے یہودی مذہب کو قبول کیا ہوا ہے۔

قرآن کے آئینہ میں نبی ۖ کی سنت کے مطابق آج حق مہر کا تعین ہوسکتا ہے۔ ایک عورت نے نبی ۖ سے کہا کہ میں خود کو ہبہ کرتی ہوں۔ ایک صحابی نے کہا کہ یارسول اللہ! آپ کو ضرورت نہیں تو مجھے ہبہ فرمائیں۔ نبیۖ نے پوچھا کہ اس کو دینے کیلئے تمہارے پاس کیا ہے؟۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں ہے لیکن نبیۖ نے فرمایا کہ گھر میں ڈھونڈو بھلے ایک لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ تلاش کرکے آیا مگر کچھ نہیں ملا۔ جس پر نبیۖ نے قرآنی سورتوں کی تعلیم دینے کا حکم فرمایا تھا۔

حدیث سے پتہ لگا کہ نکاح کا تعلق باہمی رضا اور حق مہر کا مرد کی مالی صلاحیت سے ہے۔ حضرت عمر نے کم حق مہر کا فیصلہ کیا تو عورت نے مسترد کیا کہ تم کون ہو جب اللہ نے ہمارے لئے فیصلہ نہیں کیا ہے جس پر حضرت عمر نے فیصلہ واپس لیا۔

قرآن کے حکم کا بہت بڑ اکمال ہے جس کی وضاحت زمانہ کرتا ہے اور اس کی سمجھ اور عمل سے دنیا میں انقلاب آئے گا۔

قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم و ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج ” تحقیق ہم جانتے ہیں جو ہم ان کی ازواج اور ایگریمنٹ والیوں کے بارے میں فرض کیا تاکہ آپ کیلئے مشکل نہ ہو”۔(الاحزاب)

یہ عجب العجائب ہے کہ حق مہر کا تعین نہیں کرنا نبیۖ کے مشکل کو ختم کرنا کیسے تھا؟۔کچھ اموال پر زکوٰة ہے کچھ پر نہیں۔ عورت شوہر کے مال میں شریک ہوتی ہے۔ رسول اللہۖ کے دور میں ایسا نظام نہیں تھا کہ غریب یا مالدار کا پر فیکٹ معلوم ہو۔ بیوہ و طلاق شدہ کا بھی حق ہے۔ شوہر زندہ ہوتو بیوی گھر کی ملکہ یا مالکہ ہوتی ہے۔ حق مہر کا تعین نہ ہو تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق و متعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المتقین ”اوران کو خرچہ دو مالدار پر اپنی وسعت کا وزن ، غریب پر اپنی وسعت کا وزن، یہ حق ہے نیکوکاروں پر”۔ جو سچے اچھے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا نے عورت کیساتھ بہت بڑی زیادتی کردی ہے برابری کی بنیاد پر حق مہر کا جس میں عورت کے مال میں بھی شوہر شریک ہوتا ہے۔ آج تک انسانی حقوق کی تنظیموں کیساتھ مغرب کا جمہوری معاشرہ بچیوںکو جنسی استحصال سے بچانے کی پاداشت میںنسل در نسل سزا ئیں کھانے میں مگن ،مگر فقہاء نے بھی عورت کے کم ازکم حق مہر میں اتنا مال فرض قرار دیا جتنے میں ایک چور کا ہاتھ کٹتا ہے اور علت میں یہ عزت افزائی فرمائی کہ جتنے مال میں چور ایک عضو ہاتھ سے محروم ہوتا ہے اتنے میں وہ اپنی بیوی کے ایک عضو شرمگاہ کا مالک بن جاتا ہے۔ لخ لعنت

یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ مرد کی دیت100اونٹ اور عورت کی50اونٹ ہے۔تو اصل حق مہر50اونٹ کا ہے لیکن عورت جتنی رعایت پر راضی ہوجائے؟۔ یہودی علماء نے عورت کی تذلیل کی تو کمثل الحمار یحمل اسفارًا قرار دیاگیا۔ انکی مثال گدھوں کی طرح ہے جنہوں نے کتابیں لادی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدیع السماوات والارض واذا قضی امرًا فانما یقول لہ کن فیکونO”آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جب کوئی چیز کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے”۔ (البقرہ117)

اللہ نے کائنات کو چھ دن اور زمین کو دو دن میں بنایا۔ آیت سے تدریجی عمل کی نفی مراد نہیں جیسا کہ سمجھاگیا۔ ا نقلاب بھی تدریجی عمل ہی کے ذریعے سے آتا ہے۔ چنانچہ پھر فرمایا کہ

وقال الذین لایعلمون لولا یکلمنا اللہ او تأتینا اٰیة کذٰلک قال الذین من قبلھم مثل قولھم تشابہت قلوبھم قد بیناالاٰیات لقوم یوقنونO”اور بے علم لوگ کہتے ہیں کہ اگراللہ ہم سے بات کرتایا کوئی نشانی ہم تک آتی ۔ اسی طرح سے ان سے پہلے لوگ ان کے جیسی بات کرتے تھے ،ان کے دل ایک جیسے ہیں۔ ہم نے آیات کو اس قوم کیلئے واضح کیا ہے جو یقین کرتے ہیں” ۔(البقرہ:118)

قالت یا رب لیتنی مت قبل ھٰذا کنت نسیًا منسیًا” مریم نے کہاکاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور بھولی بسری ہوتی”۔ (سورہ مریم:23)اگر قرآن و سنت سے قوانین اخذ ہوں تو مغرب ومشرق کی انسانیت قبول کرلے۔

اناارسلناک بالحق بشیرًا ونذیرًا ولا تسال عن اصحاب الجحیمO” بیشک ہم نے تجھے حق کیساتھ بھیج دیا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے جحیم والوں کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی”۔ (البقرہ:119)

یہود ونصاریٰ باطل مذہبی مسائل طلاق و حلالہ کی غلطیوں پر اصرار کررہے تھے تو یہ لوگ جانیں اور ان کا کام جانے۔

ولن ترضٰی عنک الیہود و لاالنصارٰی حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ھو الھدٰی و لئن اتبعت اھواھم بعد الذی جاء ک من العلم مالک من ولیٍ و لانصیرٍO” اور آپ سے یہود ونصاری راضی نہیں ہوںگے یہاں تک کہ ان کی ملت کے تابع بن جاؤ۔ کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہے اصل ہدایت۔ اور اگر آپ نے ان کی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد جب آپکے پاس علم آیا تو تمہارے لئے کوئی دوست و مدد گا ر نہیں ہوگا”۔البقرہ:120

یہ آیت صرف رسول اللہ ۖ کی ذات تک محدود تھی اسلئے کہ یہود ونصاریٰ کے مفاد پرست مذہبی طبقات نے عوام کو اپنا اسیر بناکر رکھا تھا اور مذہب فروش طبقات سے بدلنے کی امید نہیں ہوسکتی تھی مگر رسول اللہۖ نے ایک خلافت کا ذکر واضح فرمایا تھا کہ جس سے زمین وآسمان والے خوش ہوں گے۔

الذین اٰتیناھم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یؤمنون بہ ومن یکفر بہ فاولٰئک ھم الخاسرونO”وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے تو وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیںاور جو اس کا انکارکرتے ہیں تو وہی لوگ خود خسارہ پانے والے ہیں”۔(البقرہ:121 ) آج بھی جنہوں نے مذہب کو تجارتی اور سیاسی مفادات کے تابع بنادیا ہے تو ان کا رویہ علماء حق سے بالکل مختلف ہے مگر آخر خسارہ پائیں گے۔

اسلام کے نزول سے پہلے یہود اور نصاریٰ بنی اسرائیل کو اللہ نے جہاں والوں پر فضیلت بخشی تھی لیکن پھر مسلمانوں کے اچھے دن آگئے اور اب پھر یہودونصاریٰ نے اپنی باری میں بڑا ظلم کیا ہے اور اللہ چاہے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

مسلمانوں کو قرآن کی تلاوت اور سمجھنے کا حق ادا کرنا پڑے گا اور اسلام کے فطری دین کو پیش کیا گیا تو بچے ،بچیوں اور عورتوں کے علاوہ تمام مظلوم اور کمزور طبقات کو تحفظ ملے گا اور طاقتوراپنا ظالمانہ نظام طاقت کے بل بوتے پر مسلط نہیں کرسکیںگے ۔ اور دورہوسکتا ہے کہ اللہ نے تقدیر میں بہت ہی قریب کردیا ہو۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

عرب کو جاہلیت سے نکال کر قرآن نے سپر طاقت بنادیا۔عالمی سکینڈل ایپسٹین فائلزکے تناظر میںاب پاکستان کا نظام درست کرنا پڑے گا
کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟
میں13برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بی بی سی نیوز اردو 13 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئیں تو ان کی والدہ نے ان پر خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں بچیوں کی شادی صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتی ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔15جنوری2026