کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟
فروری 12, 2026
جاویداحمد یافثی قرآن کے نام پر امت مسلمہ میں ایک ناامیدی کی کیفیت پھیلا رہاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قیامت تک حکمران رہے گی ۔
ونبئھم عن ضیف ابراہیمOاذ دخلوا علیہ فقالواسلامًا قال انا منکم وجلونOقالوا لاتوجل نا نبشرک بغلامٍ علیمٍOقال ابشرتمونی علٰی ان مسنی الکبر فبم تبشرونOقالوا بشرناک بالحق فلا تکن من القانطینOقال و من یقنط من رحمة ربہ الاالضالونO
”اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔ جب اس پر داخل ہوئے تو کہاسلام کہا بیشک ہمیں تم سے ڈرلگا، کہاکہ ڈرو مت ہم آپ کو بڑے عالم لڑکے کی بشارت سنارہے ہیں۔کہا کیا بڑھاپے میں خوشخبری دیتے ہو تو کیسی خوشخبری ؟۔ کہا کہ ہم حق کیساتھ خوشخبری دیتے ہیں اللہ کی رحمت سے امید ختم کرنے والوں میں سے مت بنو۔ کہا کہ کون اللہ کی رحمت سے امید ختم کرتا ہے مگر گمراہ لوگ”۔ (سورہ الحجر51تا56)
اسحق واسماعیل، بنی اسرائیل ، خاتم الانبیائۖ تاقیامت آخری امیرامت محمداور عیسیٰ امید کو ختم کرنے والے گمراہ ہیں۔
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم…
”اور اللہ میںجد وجہد کا حق ادا کرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا،پہلے اور اس میں تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو، تونماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ اللہ کو مضبوط پکڑو، وہ تمہارا مولیٰ ہے ،اچھا مولیٰ اوراچھا مددگار”۔ (سورہ الحج آیت:78) غامدی آئینہ دیکھ لے قرآن کریم ایک آئینہ ہے جس میں ہردور کے اندر لوگ اپنا اپنا کردار، چہرہ اور ماضی حال مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ فرمایاکہ
قل انی علی بیننةٍ من ربی و کذبتم بہ، ما عندی ماتستعجلون بہ ان الحکم الا للہ، یقص الحق و ھو خیرالفاصلینOقل لو عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامر بینی و بینکم اللہ اعلم بالظالمینOو عندہ مفتاتیح الغیب، لا یعملھا الا ھو، ویعلم ما فی البر و البحر ، و ما تسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ، و لا حبةٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینٍO(سورہ الانعام)
”کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس نہیں جس کے جلدی کا تم مطالبہ کرتے ہو۔حکم نہیں ہے مگر اللہ کیلئے۔وہ حق کا قصہ بیان کرتا ہے اور بہترین فاصلہ قائم کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم جلدی مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں کوزیادہ جانتا ہے اور اسکے پاس غیب کی چابیاں ہیںجنہیں کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔اور وہ جانتا ہے جوخشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّہ نہیں گرتا ہے مگر وہ اس کو جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں ہے اور نہ کوئی تر اور خشک مگر کھلی کتاب میں”۔
پاکستان دنیا میں خشکی پر سمندر کے کنارے ایک خطہ زمین ہے جس میں قومی ترانہ بچے اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔
پاک سرزمین شاد وباد…کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالیشانارض پاکستان
مرکز یقین شاد و باد
پاک سرزمین کا نظام…قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت…پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستارہ وہلال…رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال… جان استقبال
سایۂ خدائے ذولجلال
کتاب کے آئینہ میں پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ ، قومی ترانہ اور جاوید غامدی کا نظریہ سمجھنے کیلئے سورہ ابراہیم سے آیات پیش کی تھیں۔غامدی مایوسی کیلئے جھوٹ نہ بکے۔ ابراہیم کا عالم بیٹا بارہ خلفاء قریش کا سلسلہ قیامت تک قرآن اور بخاری، مسلم ، ابوداؤد، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ نواب قطب الدین خان، پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے بھی واضح کئے ہیں۔
جاویداحمد غامدی کی خدمت میں چند گزارشات یہ ہیں:
تیرا حرم ہے کوفہ ماتم حسین کا بیعت یزید کرو
مروان کے بیٹوں سے اسلام کی مٹی پلید کرو
اقتدار کو قید کردیا قیامت تک بنویافث میں
بنوہاشم کی اہانت کرو بنوامیہ کی تمجید کرو
خدا کے نام پر خلق خدا کو تم پوجتے ہو
شرک و نفاق میں ڈالو دعویٰ توحید کرو
فقہ اسلاف کو پہناؤ ملمع سازی کے چغے
آیات ہوں قصہ پارینہ اعتزال کی تجدید کرو
کلام الٰہی کا ہر جملہ ہر سورہ انقلاب ہے
زندگی ضائع کردی تو کچھ تحقیق مزید کرو
گند کے ڈھیر کا ٹھیہ لگا دیا تو کون خریدے
کھل کر توبہ کرو باطل کو حق سے مستفید کرو
بڈھی بڈھیوں کیساتھ تسبیح کیلئے خانقاہ چشتیہ آؤ
پہلے تجدید ایماں پھر مطالعہ سورہ حدید کرو
شیطان کا گروندہ بن گیا تیرا دل و دماغ
اجتہاد تیرے بس کا نہیں مردان خدا کی تقلید کرو
نکل جاؤ اختراع کے دنگل کی الجھن سے
اک اہل ساتھی کو منصب پر رجل رشید کرو
آیات بینات کو تم نے قدغن آلود کیا
خدا کیلئے نہیں تو اپنے لئے حق کی تمہید کرو
گدھے کے گوشت کا مسلماں روسٹ کھاتا نہیں
یہ سواری ذبح مت کرو خود ساختہ شہید کرو
خدا نے کہہ دیا یہ ہے زینت کی چیز بھی
اپنے سامنے باندھ کر خود کو خود سے سعید کرو
آفاقی کلام کو بند کیا خود ساختہ ابواب میں
گمراہی تلف کردو درست ترجمہ قرآن مجید کرو
طلوع اسلام: علامہ اقبال
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی
والفجرO…واللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم لذی حجرO
”فجر(طلوع انقلاب )کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے (کوئی نوید یا وعید) کچھ ہے”۔ (سورة الفجر)
عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
ولقدکذب اصحاب الحجر المرسلینOواٰتیناھم آیاتنا فکانوا عنھا معروضینO
”اور تحقیق کہ عقل والوں نے رسولوں کا جھٹلایا۔اور ہم نے ان کو آیات دیں تو وہ ان سے روگردانی کرتے تھے”۔ (الحجر:80،81)
مسلمان کو مسلمان کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
سرشک چشم مسلم میں نیستاں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترک شیرازی دل تبریز کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے نظر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
تیرے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلمان سے حدیث سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہے
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پرواز شاہینِ قہستانی
گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کرسکتا تھا اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط ایک ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہیںتصویریں
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیںفطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال وپر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے
ہوئے مدفونِ دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
غبارِ راہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلے
ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے
حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہوجا
غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہوجا
گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے
پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہے
بیا پیدا خریدا راست جان نا توانے را
پس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
بیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد
کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمد
سرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
کنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد
بہ مشتاقان حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہائے پہنا نش بچشمم آشکار آمد
دگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گردد
ببازار محبت نقد ما کامل عیار آمد
سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمد
بیا تا گل بفیشانیم و مے ور ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
جاوید احمد غامدی اورمفتی تقی عثمانی مغرب کی سرمایہ داری کا دین بیچ رہے ہیں۔علماء و مشائخ کو چاہیے تھا کہ روحانی علاج کا پنڈال لگانے کے بجائے قرآن کی عام فہم آیات کو عوام کے سامنے لاتے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن اور علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری عمر میں توبہ کرکے اچھا کیا ۔قاری مفتاح اللہ صاحب نے تین باتوں پر زور دیا۔ ہزار کتابیںاور ہزار ورق کو جلادو اور خود کو اللہ والے کے قدموں میں روند ڈالو۔ انکے شاگردوں میں مرشد حاجی محمد عثمان کیلئے قربانی دینے والا بندہ ناچیز تھا۔ انہوں نے درمیانہ زمانہ کے مہدی کا حوالہ دیا جو ہماری تحریک کی تائید ہے اور انہوں نے فرمایا کہ عجم لوگوں کے ہاتھوں علم دوبارہ زندہ ہوگا چاہے ثریا پر پہنچ جائے۔ کوئی اس سے امام ابوحنیفہ اور کوئی امام بخاری مراد لیتا ہے لیکن جو بھی عجم لوگ ثریا سے علم کی واپسی کا ذریعہ بن جائیں وہ سب لوگ مراد ہیں۔
مجھے ڈاکٹر احمد جمال نے شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان کے سلام کو پہنچایا اور پھر میں نے ان کی زندگی کی آخری بیماری میں حاضری دی اور اپنا تعارف نہیں کرایا لیکن انہوں نے پہنچان لیا تھااور اپنے خاص شاگرد سے میری تعریف کی تھی۔ مجھے گمان تھا کہ قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کی وجہ سے مفتی صاحب کی رائے میرے بارے میں مثبت بنی تھی۔قرآن کی تعلیمات بہت سادہ اور آسان ہیں ۔ہزار کتاب ، اوراق جلانے اور اللہ والے کے قدموں میں روندنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور قرآن کی سادہ تعلیمات سمجھ میں آجائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ