اللہ نے تدبیرکے اوپر پورا پورا زور اور پھر تقدیر کا زبردست معاملہ کہ رائٹر پہلے ہی سب کچھ لکھ چکا اسلئے اِترانے اور فخر کی اجازت بھی نہیںدی
جنوری 23, 2026
اللہ نے تدبیرکے اوپر پورا پورا زور اور پھر تقدیر کا زبردست معاملہ کہ رائٹر پہلے ہی سب کچھ لکھ چکا اسلئے اِترانے اور فخر کی اجازت بھی نہیںدی
ایمان و اسلام کی ضد کفرونفاق اور مصدق کی ضد مکذب ہے۔ویل للمکذبین جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے۔ کفر ونفاق سے زیادہ مکذب اور مصدق وصدیق کا مدمقابل۔
سورہ الحدید میں اسلام کی نشاة ثانیہ واضح ہے۔ الم یأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ ومانزل من الحق ولایکونوا کالذین اوتوا لکتاب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم و کثیر منھم فاسقون
”کیاایمان والوں کیلئے وقت نہیں پہنچا ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کیلئے خشیت اختیار کرلیں اور جو حق نازل ہوا ہے؟اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی اور پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر لوگ فاسق بن گئے”۔ (الحدید:16)
یہ آیت اسلام کی نشاة ثانیہ کی دعوت ہے جو جاوید غامدی کی فکرکو کالعدم کرتی ہے کہ مسلمان اپنا دور گزار چکے ہیں ۔ شیطان مذہب کو صرف دنیاوی مفادات کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
سورہ الحدید آیت17میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبر ہے:
اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینا لکم الایات لعکم تعقلون
”خوب جان لو! کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد ۔ ہم نے تمہیں کھول کھول کر آیات کو واضح کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ تم عقل سے کام لو”۔
یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیا ہی زبردست حوصلہ افزا خبر ہے۔
ان المصدقین والمصدقات واقرضوااللہ قرضًا حسنًا یضاعف لھم ولھم اجر کریمOوالذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولٰئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم لھم اجرھم و نروھم والذین کفروا و کذبوا باٰیاتنا اصحاب الجحیمO
” بیشک تصدیق کرنے والے مرد اور عورتیں اور اللہ کو اچھا قرضہ دینے والوں کیلئے دگنا کیا جائے گا اور ان کیلئے عزت والا بدلہ ہوگا اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں تو وہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اپنے رب کے ہاں،ان کیلئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں ہماری آیات کو تو وہ لوگ جحیم والے ہیں”۔ (الحدید18،19)
مذہبی طبقہ مکذب کو سمجھتا ہے لیکن مصدق کو نہیں اور جنت اور جحیم کا تعلق دنیا، عالم برزخ اور قیامت کے بعد سبھی سے ہے۔
جب حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑ دیا تو کفار نے کہا کہ قالوا ابنوا لہ بنیانًا فالقوہ فی الجحیم ” کہنے لگے کہ ایک جگہ بناؤ اس کیلئے اور جحیم میں ڈال دو”۔(الصافات97)
اعلموا انما الحیاة الدنیا لعب و لھو و زینة و تفاخر بینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد کمثل غیثٍ اعجب الکفار نباتہ ثم یھیج فتراہ مصفرًا ثم یکون خطامًا وفی الاٰخرة عذاب شدید و مغفرة من اللہ و رضوان وما الحیاة الدنیا الا متاع الغرورO
” جان لو!بیشک دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، تزئین اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر اور مال واولاد میں زیادتی ہے۔جیسے کہ بارش اچھی لگے کفار کو کھیتی کیلئے پھر (پانی نہ ملنے پر) سوکھ جائے تو اس کو پیلا دیکھے پھر وہ تنکے بن جائے۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی اور دنیا کی زندگی کیا ہے مگر دھوکہ دینے کا سامان ”۔ (الحدید:20)
دنیا کی زندگی عالم برزح کے سامنے ایسی ہے جیسے ماں کی پیٹ سے دنیا میں بچہ نکلتا ہے لیکن اس میں شعور نہیں ہوتا۔ایک فارسی کاقول ہے کہ جب تم دنیا میں آئے تو تم رورہے تھے اور لوگ ہنس رہے تھے جب تم دنیا سے جاؤ تو ایسا کردار ادا کرو کہ لوگ رو رہے ہوں اور تم ہنس رہے ہو۔
سابقوا الی مغفرةٍ من ربکم و جنةٍ عرضھا کعرض السماء ولارض اعدت للذین اٰمنوا باللہ و رسولہ ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم
”دوڑو! اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض جتنا ہے جو تیار کی گئی ہے ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے ”۔(سورہ الحدید:21)
نیک روحین اعلیٰ علیین اور بدکی اسفل السافیل میں ۔سورہ النباء میں یوم فصل انقلاب کا میقات ہے۔پھر عالم برزخ کا بھی واضح ذکر ہے جہاں ایک طبقہ احقاب ( حقب80سال) پیپ اور گرم اسفل رزق پائیں گے اور نیک لوگوں کو آسمانوں کی بلندیوں میں اچھی عزت والی روزی ملے گی۔
کھربوں کہکشاں کو ماننے والے سے کہا جائے کہAIسے ماضی ،حال اور مستقبل فلما دیاہے تو مان جاتا ہے لیکن قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ہے؟۔اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رائیٹر کی طرح کتاب میں سب کچھ لکھ دیا ہے اور دنیا میں جس قالب کی نمائندگی ہے یہ کردار ہم نے عالم ارواح میں اپنے لئے خود ہی چن لئے ہیں۔ جاوید غامدی نے اپنا کردار خود چن لیا اور میں نے بھی خود چن لیا اور ہر بندے نے خود چنا ہے۔
واذ اخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالو ا بلی شھدنا ان تقولوا یوم القیامة انا کنا عن ھذا غافلین
” اور جب تیرے رب نے عہد لیا پیچھے سے جوانکی اولادیں ہیںانکی اپنی ذاتوں سے کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں۔ اسلئے کہ تم قیامت کو یہ نہیں کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے ”(سورہ اعراف:172)
ایک چھوٹی قیامت تو یہاں بھی برپا ہونی ہے۔ ابوجہل ، ابولہب اور ابوبکر وعلیاور ان کی اولادیں مجبور محض نہیں تھیں ۔ جو کردار اپنے لئے منتخب کیا تھا اس میں وہ اپنی مرضی سے اپنا کردار ادا کررہے تھے۔
مااصاب من مصیبة فی الارض و لافی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذٰلک علی اللہ یسیرO
” کوئی مصیبت زمین میں نہیںپہنچتی ہے یا نہ تمہاری جانوںکو مگر لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو نمودار کریں بیشک یہ اللہ پر آسان ہے”۔ (سورہ الحدید:22)
تلک الایام ندوالھا بین الناس
” یہ دن ہم لوگوں میں بدلتے ہیں” سے حضرت نوح کے تین بیٹے مراد لینا غامدی کی ہفوات ہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ فتح مکہ اور کربلا اس کے مصداق تھے۔ اب عالم اسلام اور امریکہ ویورپ کا منظر ہے۔
لکیلا تأسوا علی مافاتکم ولاتفرحوا بما اٰتاکم واللہ لا یحب کل مختالٍ فخورٍO
” تاکہ جو چیز تم کھو دو،اس پر افسوس نہ کرواور جو تمہیں ملے اس پر اتراؤ نہیں۔ اللہ پسند نہیں کرتا ہرشیخی خوراترانے والے کو۔ (سورة الحدید:23)
قرآن مصیبت اور نعمت کی تقدیر سے نفسیاتی امراض دور کرتا ہے کہ نہ واویلا مچاؤ اور نہ اتراؤ۔بس قربانیاں دیتے جاؤ۔
الذین یبخلون و یأمرون الناس بالبخل و من یتول فان اللہ ھو الغنی الحمیدO
”جو بخل کرتے ہیں اور بخل کی تلقین کرتے ہیںاور جو منہ موڑے تو اللہ بے پروا تعریف کے لائق ہے”۔ (سورہ الحدید:24) بخل صرف مال کا نہیںہوتا ہے بلکہ حق بات کی تائید نہ کرنا بھی بخل ہی ہے۔
لقد ارسلنا رسلنا بالبینات وانزلنا معھم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیزO
” تحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا دلائل کیساتھ ااور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں میں انصاف کیساتھ کھڑے ہوں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت حرج ہے اور لوگوں کیلئے منافع تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی مدد کرتا ہے اور رسولوں کی غیب کے باوجود بھی۔ بیشک اللہ زورآور غالب ہے”۔ (الحدید25)
غیب پر ایمان کا امتحان ہے۔ افغانستان ،عراق،یوکرین، غزہ اور دنیا کو تباہ کردیاگیا ۔ہم لوہے کو نفع بخش بنائیں گے۔
یا ایھاالذین اٰمنوا اتقواللہ و اٰمنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورًا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور رحیمOلئلا یعلم اھل الکتاب الا یقدرون علی شی ئٍ من فضل اللہ و ان الفضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیمO
”اے ایمان والے لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرواور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ،تمہیں دی ہیں اپنی رحمت سے دو حصے۔ اور تمہارے لئے نور بنایا ہے جس کے ذریعے تم چلتے ہواور تمہاری مغفرت کرتا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ تاکہ اہل کتاب یہ نہیں سمجھ بیٹھیں کہ مسلمان اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہیں۔بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔ (الحدید:28،29)
اسلام کی نشاة اول میں ایمان کا نور تھا اور نشاة ثانیہ میں بھی نور ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: اتقوا فراسة المؤمن انہ ینظر بنوراللہ ”مؤمن کی فراست سے ڈرو، بیشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے”۔ بخاری ، مسلم وغیرہ سورہ جمعہ میں واٰخرین منھم لما یلحقوبھم ” اور ان سے آخرین جو پہلے سے مل جائینگے ” کی تشریح حدیث میں ہے کہ ”اگر دین، ایمان اور علم ثریا پربھی ہوں تو یہ لوگ وہاں سے لائینگے”۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ نے نبیۖ کو تنبیہ کردی کہ ”اگر اللہ چاہے تو پھرنازل وحی کو اٹھالے اور پھر تم اللہ کے سوا کسی کو مدد گار نہ پاؤ مگر اس کی رحمت ہے ”۔ موجودہ دور میں جاوید غامد ی اور مفتی تقی عثمانی اور امت مسلمہ کے دوسرے ہم جیسے لوگ اس قابل تھے کہ قرآن کو اٹھالیا جاتا مگر اللہ نے رسول خاتم الانبیائۖ کی برکت سے یہ محفوظ رکھا ہے۔ دین، علم اور ایمان کی پھر ترویج ہورہی ہے۔
جس طرح آج یہودی دیوار گریہ پر روتے ہیں۔ شیعہ بھی امام مہدی غائب کیلئے فریاد کرتے ہیں۔ علماء ومشائخ بہت ہی خلوص کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہیںلیکن قرآن اور انقلاب کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ یہی حالت جب راہبوں کی تھی تو پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ سے کیا زبردست فرمایا تھا کہ
ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغداة والعشی یریدون وجھہ ماعلیک من حسابھم من شی ئٍ وما من حسابک علیھم من شیئٍ فطردھم فتکون من الظالمینOو کذٰلک فتنا بعضھم ببعضٍ لیقولوا اھٰولآء من اللہ علیھم من بیننا الیس اللہ باعلم بالشاکرینOواذا جاء ک الذین یؤمنون باٰیاتنا فقل سلام علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمة انہ من عمل منکم سوئً بجھالة ٍ ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیمOوکذلک نفصل الایات و نستبین سبیل المجرمینOقل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھواء کم قد ضللت اذًا وما انا من المھتدینOقل انی علی بینةٍ من ربی وکذبتم بہ ان الحکم الا للہ یقص الحق وھو خیر الفاصلینOقل لو ان عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامربینی و بینکم واللہ اعلم بالظالمینOوعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھاالا ھو و یعلم مالبروالبحروماتسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ولا حبةٍ فی الظلمات الارض و لا رطبٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینO
” اور جو لوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں ان کو مسترد مت کروجو اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ تمہارے ذمہ انکے حساب میں سے کچھ نہیں اورانکے ذمہ تمہارے حساب میں کچھ نہیں۔پس اگر تم نے ان کو مسترد کیا توظالموں سے ہوجاؤگے۔ اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایاتاکہ یہ لوگ کہیں کہ کیا یہ لوگ ہیں ہمارے درمیان جن پر اللہ نے فضل کیا۔کیا اللہ شکر گزاروں کو جانتا نہیں ہے؟۔اور جب ہماری آیات پر ایمان لانے والے آپ کے پاس آجائیں تو کہو کہ تم پر سلام ہو۔تمہارارب خود پر رحمت کو لکھ چکا ۔بیشک جو تم میں سے نادانی سے برا کرے پھر توبہ کرے اور اصلاح کرے تو بیشک وہ غفور رحیم ہے اور اسی طرح ہم آیات کو جدا جدا کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔کہہ دو کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ بندگی کروں جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ۔ کہہ دو میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا پھر تو تحقیق کہ میں گمراہ ہوجاؤں گا اور میں ہدایت پانے والوں میں نہیں رہوں گا۔ کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم نے اس کو جھٹلایا اور جس کی تمہیں جلدی ہے میرے پاس نہیں۔حکم صرف اللہ کا چلتا ہے۔وہ حق بیان کرتا ہے اور وہ بہترین امتیاز پیدا کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے بس میں ہوتا جس کی تمہیں جلدی ہے تو معاملہ انجام کو پہنچ چکا ہوتامیرے اور تمہارے درمیان۔اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔ اور اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیںکوئی نہیں جانتا مگر وہ۔جانتا ہے جو بھی خشکی اور سمندر میں ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ جانتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کی اندھیر نگریوں میں نہیں اور نہ تری اور خشک میں مگر وہ کھلی ہوئی کتاب میں ہے”۔(الانعام:52تا59)
اللہ کو مخلوق سے بہت محبت ہے۔ مذہبی طبقہ جوش و جذبات میں جہالت سے غلط اقدام بھی اٹھائے تو دروازہ بند نہیں کرتا۔ حاجی عثمان کی خانقاہ میں صبح وشام لوگ ذکر واذکار میںہونگے اور بڑی سکرین کو تعلیمی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا تو دنیا بھر سے علماء کرام اور عوام قرآن کو سمجھنے آئیں گے۔ انشاء اللہ
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
فیض احمد فیض نے قرآن و حدیث کی یہ ترجمانی کی ہے:
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم وستم کے کوہِ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حرم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی حاضر بھی جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
زمین دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی سورہ الفجر کی آیت اذا کت الارض دکا دکا کی ترجمانی ہے۔
جب دروازے پر دستک دی جائے تویہی دک دک مراد ہے جب دل کانپ جاتا ہے۔ سورہ فجر میں ماضی و مستقل کا انقلاب ہے اور حجر سے مراد عقل ہے جبکہ ابن حجر عسقلانی اور ابن حجرمکی عقل کے لحاظ سے تھے اور ہم نے پتھر بنادئیے ۔ حق بھی یہی تھا اسلئے کہ دونوں انتہائی کم عقل تھے۔ عسقلانی نے شافعی مسلک کی بنیاد پر قرآن وسنت سے انحراف کیا جبکہ مکی نے شیعہ کے خلاف کتاب لکھ کر مزید بھی سخت کردیا۔حق سامنے آیا تو باطل نہیں ٹھہر سکتا،یہ طے ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ