پوسٹ تلاش کریں

امیر المؤمنین ملا محمد عمر کا خواب مولانا نورانی نے بتایا تھا

امیر المؤمنین ملا محمد عمر کا خواب مولانا نورانی نے بتایا تھا اخبار: نوشتہ دیوار

حضرت مولانا شاہ احمد نورانی نے جلسہ عام میں فرمایا: یوٹیوب کی کلپ :یہ قاتل ہے۔ ہم نے بڑے ادب سے ان سے کہا کہ آپ دیکھ لیں امریکہ بڑا ظالم ہے اس کے ظلم سے بچنے کیلئے کوئی تدبیر نکالئے۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ اُسامہ کو دے دو اور ٹھکانے بتاد و اور یہ کردو وہ کردو۔اور آپ کوئی تدبیر سوچیں انہو ںنے کہا کہ ہم تدبیر سوچتے تھے کہ کچھ نہ کچھ تو بیچ میں سے کوئی رستہ نکالیں ۔ لیکن امیر المؤمنین ملا عمر نے کہا کہ ہم سوچتے تھے کہ کوئی راستہ نکالیں جان بھی بچ جائے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔لیکن ہم نے رات کو خواب میں دیکھا کہ دروازے کھل گئے۔(نعرہ رسالت: یار رسول اللہ کی گونج) آسمان پر نور برس رہا ہے۔ رحمتوں کی گھٹا آرہی ہے اور سنہری جالیوں کے دروازے کھل گئے ہیں۔ دونوں جہانوں کے تاجدار سبز گنبد سے سنہری جالیوں سے گزرتے ہوئے تشریف لارہے ہیں۔ اور کہا خبردار صلیبی جنگ کا چیلج دے دیا گیا ہے۔ پیچھے نہیں ہٹنا۔ مقابلہ کرتے رہو اللہ کی مدد اور نصرت پر یقین رکھو۔ تم اگر ایمان کے ساتھ ایمان کی قوت سے لڑتے رہے تو اللہ رب العزت تمہاری مدد ضرور فرمائے گا۔ بدر کے مجاہدوں کی مدد فرشتے بھیج کر کی۔ بدر کے313مجاہدوں کو مکہ کے ایک ہزار ہندو بت پرستوں پر فتح ہوئی۔ کیسے فتح ہوئی؟۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے313مجاہد رسول اللہ ۖ سید المجاہدین امیر المجاہدین کی قیادت میں جب میدان بدر میں اترے اور کفر کے مقابلے پر ڈٹ گئے عزیمت کے ساتھ تو اللہ رب العزت کے فرشتے بھی قطار اندر قطار اترنے لگے اور اللہ کی نصرت اور مدد آگئی۔
ــــــــــ

پاکستان افغانستان میں جنگ نبیۖ کی زیارت اور تعبیر

نحمدہ ونصلی عل رسولہ الریم۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من رآنی فی المنام فقد رآنی ان الشیطان لا یتمثل فی صورتی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا بے شک اس نے مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا ہے۔ اور جتنے بھی انبیاء آئے، کسی کی صورت میں بھی شیطان نہیں آ سکتا ہے۔ مولانا محمد قاسم عثمانی حفظ اللہ نے ایک خواب دیکھا ہے، اس کے بارے میں یہ گروپوں میں چل رہا ہے کہ کوئی اس کی تعبیرکرے۔ مولانا محمد قاسم صاحب نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ۔

نمبر1:نبی پاکۖ کواور دائیں طرف میں کھڑا ہوں اور بائیں طرف نبی پاک ۖ کھڑے ہیں۔ اور ہم دونوں خاموش ہیں۔ افغانستان کی طرف سے ایک فوج اڑتا ہوا آ رہا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اڑنے والا فوج کا مثال مجاہدین کی ہے۔ یہ مجاہدین جو آج کل ایک دوسرے کو مار رہے ہیں اور یہ جو کشیدگی پاکستان اور افغانستان کے مابین چل رہی ہے۔ پاکستان والے خود کو طاقتور اور افغانستان والے خود کو طاقتور سمجھتے ہیں۔ اشارہ دونوں کی طرف ہے۔ یعنی ہر ایک پرواز میں ہے۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا ”میں اس چیز کا اجازت ان دونوں کو نہیں دیتا ہوں کہ اس طرح کرے”۔ یعنی ایک دوسرے کو مارنے کی۔پہلا تو یہ ہے کہ مجاہدین کا اڑتے ہوئے آنا اور اس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔

نمبر2:نبی پاک ۖکے پاس جب یہ مجاہدین پہنچے اور نبی پاک ۖکے اردگرد گھومنے لگے۔ تو اس سے مراد کا جواب یہ ہے کہ اردگرد گھومنے سے مراد دونوں جماعت مسلمان ہیں۔ پاکستان والے بھی مسلمان ہیں اور افغانستان والے اور دونوں حق پر ہے۔ اور ہر جماعت والے کہتے ہیں کہ میں مارا جاؤں گا تو شہید کہلاؤں گااور دونوں کا دین” دین اسلام” ہے۔

نمبر3:مولانا صاحب آپ نے کہا اس لشکر کا جو طالب علم امیر تھا اسکے ہاتھ میں عصا یالکڑ تھا۔ تو میں نے وہ عصا یعنی لکڑ لے کر کہ نبی پاکۖ کو پیش کیا۔ تو نبی پاک ۖنے مجھے فرمایا کہ آپ ان کو منع کر دو اور روک دو۔ یعنی اس جنگ سے ان کو روک دو۔ تو اس کا جواب ہے کہ جنگ سے روک دو۔ یعنی جس کو روکنے کی طاقت ہے یعنی روک سکتا ہے اس میں علما کرام ہیں، خواہ حکمران ہے یا پاکستان کے وزیراعظم ہے، صدر ہے یا فوج ہے جو بھی روک سکتا ہے وہ روکے اور اپنا کوشش کرے اور اس طرح نبی پاک ۖ نے امت کیلئے ایک پیغام بھیجا ہے۔ یہ پیغام افغانستان اور پاکستان کیلئے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کی جانیں مفت میں جا رہی ہیں۔ دونوں طرف سے ہم لوگوں کے مجاہدین شہید ہو رہے ہیں۔ تو ہم لوگوں کا حق اور ہم لوگوں کا کردار یہ ہے کہ نبی پاکۖ کی بات پر توجہ دیں اور اس بات کے اوپر عمل کرے تاکہ ہم لوگ راہ راست پر چل سکے۔

نمبر4:مولوی صاحب آپ نے جو نبی پاک ۖ سے فرمایا کہ آپ ان کو روک دو۔ آپ ان کو منع کر دو۔ یعنی اسے غیب سے منع کر دو۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا میرا ٹوپی نہیں ہے۔ میرا ٹوپی نہیں ہے۔ مولانا صاحب اس ٹوپی سے مراد وہ مجاہد ابھی تک نہیں آئے ۔ یعنی وہ مجاہد سے مراد امیر ہند ہے۔

نمبر5:پھر مولوی صاحب آپ نے نبی پاک ۖ سے فرمایا کہ آپ اپنا ٹوپی لے آؤ۔ جواب: نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ میرا ساتھ ایک یا دو آدمی آ جاؤ۔ یعنی ایک یا دو سے مراد اس امیر کیلئے ایک یا دو لشکر کی ضرورت ہے۔

نمبر6:ہم لوگ ابھی ادھر کھڑے تھے۔ تو نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ موسی کلیم اللہ کہاں ہے؟ موسی کلیم اللہ تو پیغمبر ہے اور اللہ کا نبی ہے۔ تو میں نے کہا کہ وہ موسی کلیم اللہ ہے اور موسی کلیم اللہ آ رہا تھا جب میں نے کہا کہ موسی کلیم اللہ وہ ہے تو موسی کلیم اللہ وہاں رک گئے اور موسی کلیم اللہ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر آ رہا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنے والا جو امیر مجاہد ہے وہ بہت سخت مزاج ہوگا۔ اور اس کے الفاظ بھی بہت سخت اور خود مزاج میں بھی بہت سخت ہوگا۔ وہ امیر ہند۔

نمبر7:وہ لشکرجو موسی علیہ السلام کے پیچھے تھا وہاں رک گیا تو جواب یہ ہے کہ امیر مجاہد کے پیچھے بڑا لشکر ہوگا مددگاروں کا۔

نمبر8:نبی پاک ۖ روانہ ہوئے تو میں بھی پیچھے روانہ ہوا اور نبی پاک ۖ اونچی جگہ پر چڑھ گئے، میں نے دل میں سوچا کہ ہموار زمین سے جاؤں مگر زیب نہیں دیتا کہ نبی پاکۖ اوپر زمین سے چلے گئے اور میں نیچے کی زمین سے چلا جاؤں۔ اور محبوب خدا سخت زمین سے گئے ۔ میں ہموار زمین پر چلوں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ علماء کے دلوں میں خوف ہے مسلمان ظالموں اور کافروں سے۔ اگر ہم لوگ سچائی کو بیان کریں اور حق کی بات کریں تو یہ ظالم اور کافر ہمیں نقصان پہنچائے گا۔ اس دور میں دین پر چلنا بہت مشکل ہے، ہم لوگ آسان راستہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن جو نبی پاک ۖ کے نقش قدم پر چلتا ہے تو اس کیلئے بہت آسان ہے اور وہی کامیابی پر ہے۔ مولوی صاحب آپ صاحب فضیلت ہو۔ آپ نے حضرت محمدۖ کے نقش قدم پر چلنے کو اختیار کیا۔ آپ کا پہلے سے مرتبہ بڑھا ہے، آپ عالم ہو۔ اس خواب کے بعد آپ کا مرتبہ اور بھی بلند ہوگا۔ آپ دین اسلام پر ثابت قدم ہو اور ثابت قدم رہو گے۔

نمبر9:مولوی صاحب آپ نے فرمایا کہ جس کھڈو ک یا کمرے میں نبی پاک ۖ گئے، وہ پھر نظر نہیں آئے۔ پھرمیں گیا اس چھوٹے سے کمرے میں اور دیکھا اس میں ایک کتا مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف ایک بلی ہے۔ یہ دونوں مد مقابل تھے۔ کتا بلی پر حملہ کرتا ہے تو بلی کے چہرے پر جتنے بال ہیں وہ سارے زمین پر گرتے ہیں لیکن بلی زخمی نہیں ہوتی ہے۔ مولانا صاحب جواب یہ ہے کہ کتا سے مراد کافر اور بلی سے مراد مسلمان ہیں ۔ کافر مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے۔ مسلمانوں کو شہید کرتا ہے اور دین اسلام پر حملہ کرتا ہے، عارضی دین اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے اور بلی کے بال گرتے ہیں زخمی نہیں ہوتی اور ان کا مثال اسی طرح ہے کہ کتا حملہ کرتا ہے مسلمانوں پر، ان کو شہید کرتا ہے لیکن مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہے، وہ اپنے دین پر ثابت قدم ہیں اور دین اسلام کو جو نقصان پہنچانے کا جتنا بھی کوشش کرتا ہے، عارضی دین اسلام کو تھوڑا نقصان پہنچتا ہے لیکن اسلام کو ختم نہیں کر سکتا ۔ جتنا کوشش کرے اس کی مثال بلی کے بال گرنے کی طرح ہے، ظاہری تھوڑا نقصان ہوتا ہے لیکن اندرونی کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اور مسلمان مضبوط ہے اپنے دین کے اوپر، نہ دین کو کچھ نقصان ہوتا ہے نہ مسلمانوں کو۔

نمبر10:مولانا صاحب آپ نے کہا کہ بلی آئی میرے پیچھے کی طرف سے مجھ پر حملہ کیا۔ میں نے اپنا دایاں ہاتھ پہلے اس کی طرف پھینکا اور پھر بائیں طرف سے آیا توبائیں طرف سے اس پر ہاتھ ایسا پھینکا۔ مولانا صاحب جواب ہے کہ بلی کی مثال مسلمان بھائی کی ہے کہ علماء پر پیچھے سے وار کرتا ہے اور پیچھے سے حملہ کرتا ہے۔ مولانا صاحب خوش نصیب خوش قسمت ہے وہ آنکھ ہوتی ہے جو نبی پاک ۖ کی زیارت کرتی ہے۔ اور نبی پاک ۖ کے نقش قدم پر چلتی ہے اور نبی پاک ۖ نے فرمایا کہ مولانا آپ ان کو روک دو۔ یہ کتنا بڑی بات کتنی بڑی فضیلت ہے اور آپ کیلئے بہت بڑا فخر کا مقام ہے مولانا صاحب۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے آپ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے مراتب کو بلند اور مقام کو بلند فرمائے۔ مولانا صاحب اللہ تبارک و تعالی آپ کی زندگی میں برکت فرمائے۔ ہمیشہ مولانا صاحب آپ حق بیان کرتے ہو اور اسی حق پر ہمیشہ اللہ تبارک و تعالی آپ کی زبان کو توفیق دے کہ لوگوں کو ہدایت کیلئے بیان کرتے رہو۔ مولانا صاحب ہمیںبہت بڑا خوشی ہوئی کہ ہمارا ایک عالم جب پاکستان و افغانستان میں اتنی بڑی کشیدگی ہے جس کیلئے نبی پاک ۖ نے اپنا زیارت کروا کے ایک پیغام امت محمدی کیلئے بھیج دیا، اگر کسی کے اندر حق ہے تو اس خواب سے عبرت حاصل کرے اور جو شر پسند عناصر اس میں شر پسندی پھیلا رہے ہے تاکہ وہ اس سے توبہ کرے اور اللہ کے حضور میں معافی مانگے اور قیامت کے دن نبی پاک ۖ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ وما علینا الا البلاغ۔

تعبیر خواب از نوشتہ دیوار

اس خواب کی اصل تو معلوم نہیں لیکن تعبیر سے پتہ چلا ہے کہ جس نے خواب دیکھا وہ ایک عالم دین ہے اور اس نے جو کچھ بھی دیکھا ہے تو تعبیر کیلئے علماء سے درخواست کردی ہے۔

ہمیں جو تعبیر سمجھ میں آئی ہے تو اس میں رسول اللہۖ نے پہلے ایک کردار ادا کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جنگ نہیں ہو۔ ایک طرف اڑتے ہوئے لشکر کی بات ہے۔ پھر اس کے ساتھ ٹوپی نہ ہونے کی بات ہے۔ افغانستان پگڑی والا ہے اور پاکستان فوجی ٹوپی والا۔ سنت کا منبع دونوں کے پاس نہیں۔ رسول اللہۖان کو منع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر وہ منع نہیں ہوتے۔اور نبیۖ دین حق کیلئے بلندترین راستہ اپنانے کی رہنمائی فرماتے ہیں اور بعض علماء نہ چاہتے ہوئے بھی اس راہ کو اپنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پھر وقت کے فرعونوں کیلئے وقت کے موسیٰ امیر الہندسے جس کو تعبیر کیا ہے مگریہ امام مہدی کے کردار کی طرف اشارہ ہے جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ جیسا وہ بنی اسرائیل کا ایک شخص ہے۔ یہ ایک بہت بڑے انقلاب کی طرف اشارہ ہے۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ قرآن کی درست تفسیر کرنے سے قاصر ہیں تو خواب کی درست تعبیر کریں؟۔

والفجرOولیالٍ عشرٍOوالشفع والوترO و اللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم الذی حجرٍOالم تر کیف فعل ربک بعادOارم ذات العمادO……فصب علیھم سوط عذابOان ربک لبالمرصادO(سورہ الفجرآیات1سے14)

ہم رمضان کے آخری عشرے کے دس دن جفت وطاق کے چکر میں پڑتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ فجر سے کیا مراد ہے؟ اور رات جب آسان ہو سے کیا مراد ہے؟۔ جسکے بعد ان قوموں کا فرعون اور فسادیوں تک ذکر ہے۔ جس پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برس گیا اور یہ اللہ گھات لگائے ہوئے ہے؟۔

یہ فتح مکہ کے انقلاب کی خبر تھی اور آئندہ کے انقلاب عظیم کی بھی خبر ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا کہ ”مہدی کی اصلاح کی رات بہت طویل عرصہ پر مشتمل ہوگی”۔

سورہ اللیل واللیل اذایغشی والنہار اذا تجلٰی میں13سالہ مکی اور فتح مکہ سے پہلے8سالہ دور اور یہی واللیل اذا یسر ہے۔

جب رسول اللہۖ کا خواب میں ایک جگہ غائب ہونے کا ذکرہے اور پھر مغرب کی جانب کتے اور مشرق کی جانب بلی کا مقابلہ ہے تو یہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہے جس میں ایران کی قیادت اڑادی گئی لیکن اسٹرکچر محفوظ رہا۔ پھر بلی نے کراچی اور گلگت میں پاکستان پر حملہ کیا لیکن نقصان نہیں پہنچا سکی۔ البتہ دین حق کیلئے عزیمت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ایک عربی چینل پر یہ خواب دو سال پہلے آیا تھا کہ رسول اللہۖ امام مہدی کے گھر جاتے ہیں اور اس پر غصہ ہوتے ہیں۔ وہ اٹھنے کے قابل نہیں ہوتا ہے پھر نبیۖ سہارا دیکر اٹھاتے ہیں۔ مکہ حضرت خدیجہ الکبریٰ کی قبر کے پاس لے جاتے ہیں۔ جبکہ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان نے اپنی تفسیر بلغة الحیران میں اپنے مرشداستاذ مولانا حسین علی کے بارے میں لکھا کہ ” رسول اللہ ۖ گرتے ہیں اور وہ تھام لیتے ہیں”۔ خواب کی تعبیر میں رسول اللہۖ کا بیمار دیکھنا اور گرنا دراصل دیکھنے والے شخص کے دین میں عیب ہے۔ مولانا حسین علی دین سے گرتے ہوئے بچ گئے لیکن ان کے بہت ساروں کی توحید وڑ گئی ہے۔ جن کو سیدھی راہ پر آنا ہے اور یہ خواب کی تعبیر ہم نے جو سمجھی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

سورہ الزمر میں دنیا کی چھوٹی قیامت کا ذکر ہے۔ مؤمنوں کو زمین کی وراثت ملے گی۔ بجلی کے جھٹکے سے آسمان و زمین کا ہرباشندہ ہل جائے گا مگر جس کو اللہ چاہے گا ۔ہابیل کے قتل اور صحابہ کی لڑائی سے ابھی تک فرشتوں کا سوال درست تھالیکن یہ انقلاب اصل جواب ہوگا جس سے فساد و خونریزی رکے گی۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا
ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی
یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں
بلبل چمنستانی شہباز بیابانی!
اے شیخ بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ مارچ2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

سورہ بقرہ کی آیت228میں بڑی بڑی وضاحتیں
متضاد افکار … سمجھ اپنی اپنی
الفاظ واختیار میں عورت کا تحفظ ہے قرآن میں عہد الست کانمونہ