آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن
اپریل 9, 2026
اللہ نور السماواتِ والارضِ مثل نورِہ کمِشکاةٍ فِیہا مِصباح المِصباح فیِ زجاجةٍ الزجاجة کانہا کوکب دریِ یوقد مِن شجرةٍ مبارکةٍ زیتونةٍ لا شرقِیةٍ ولا غربِیةٍ یکاد زیتہا یضِیء ولو لم تمسسہ نار نور علی نورٍ یہدِ ی اللہ لِنورِہ من یشآء ویضرِب اللہ الامثال لِلناسِ واللہ بِکلِ شی ئٍ علِیم
(سورة النور آیت:35)
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق جس میں چراغ ہو، چراغ شیشے کی قندیل میں ہو، قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے، اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے اگرچہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو، نور پہ نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کیلئے ہدادیت دے دیتا ہے اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو بہت جاننے والا ہے۔
اِنّا عرضنا الامانة علی السموتِ و الارض و الجِبالِ فابین ان یحمِلنہا و اشفقن مِنہا و حملہا الاِنسان-اِنہ کان ظلومًا جہولاً (سور الاحزاب آیت72)
بیشک ہم نے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پرامانت کوپیش کیا تو انہوں نے اسکے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس کو اٹھالیا بیشک بڑا ظالم (اندھیرنگری میں) بڑا جاہل(انتہائی درجے کی جہالت میں) تھا ۔
اس کوہ گرنی کے دامن جٹہ قلعہ علاقہ گومل ٹانک میں میری پیدائش ہوئی
اور پھر قرآن و سنت کی بھی پوری سمجھ بوجھ نہیں تھی
مگر دنیا میں خلافت قائم کرنے کا عزم کیا تو میں بڑا ظالم جاہل تھا۔
سید عتیق الرحمن گیلانی
ــــــــــ
اے سر زمین پاک!
ذرے تیرے ہیں آج ستاروں سے تابناک
روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک
تندی حاسداں پہ ہے غالب تیرا سواک
دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک
پاکستان کاپہلا قومی ترانہ… جگن ناتھ آزاد… عیسیٰ خیلوی
ــــــــــ
آرٹیفیشل انٹیلی جنس Ai سے آگے آئینہ قرآن
واِذ اخذ ربک مِن بنیِ ادم مِن ظہورِہِم ذرِیتہم واشہدہم علی انفسِہِم الست بِربِکم قالوا بلٰی شہِدنا ان تقولوا یوم القِیامةِ اِنا کنا عن ہذا غافِلِینOاو تقولوا اِنمآ اشرک ابآؤنا مِن قبل وکنا ذرِیةً مِن بعدِہِم افتہلِکنا بِما فعل المبطِلون (سورہ اعراف:172،173)
اور جب عہد لیاتیرے رب نے بنی آدم کی پشتوں ان کی اولادسے اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ ۔ کہا:ہاں، ہم گواہ ہیں، یہ نہ ہو کہ تم قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہ تھی یا کہو کہ ہمارے اجداد نے ہم سے پہلے شرک کیا اور ہم انکے بعد انکی اولاد تھے، کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا۔
ــــــــــ
یہی تھی زمین یہی تھا گویا آسمان
یہی تھا انسان یہی عتیق الرحمان
عہد الست یہی ملک کبیرپاکستان
لاالہ الا اللہ محمدرسولۖ آخر زمان
جٹہ قلعہ گومل دامن کوہ وزیرستان
احادیث صحیحہ ہیںسبھی تفسیر قرآن
ــــــــــ
عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:سمعت النبیۖ یقول:الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف وما تناکرمنھااختلف ( صحیح البخاری حدیث:3336 )
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی ۖ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ روحیں لشکروں کے لشکرکی شکل میں عالم ارواح میں ایک دوسرے سے اپنائیت رکھتی ہیں تو یہاں محبت کرتیں ہیں اور نفرت کرتی ہیں تو یہاں اختلاف کرتی ہیں۔
ــــــــــ
رسول اللہ ۖ اور صحابہ کرام کے ذریعے اسلام کی نشاة اول ہوچکی ۔ اب اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہے۔ عبداللہ بن مسعود ایک رات رسول اللہ ۖ کیساتھ گئے اور زمین کی ایک جگہ پر پہنچنے کے بعد زط یعنی جٹ قوم کی ارواح کو کچھ تہنیتی کلمات کہے تو وہ حاضر ہوگئے۔یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کے مرکز پاکستان کی ا قوام متحدہ ہے۔ سندھی ، بلوچ ،مہاجر، پنجابی، سرائیکی، پختون اور کشمیری مولانا سندھی کی تفسیر مقام محمود (پارہ عم )میں واضح کئے گئے ہیں۔
ــــــــــ
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ میری چاہت ہے کہ اپنے بھائیوں سے ملاقات کروں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا نہیں ! آپ میرے بھائی نہیں ہو بلکہ میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں۔ جب وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے تو مجھے ان سے مل کر انتہائی خوشی اور مسرت ہوگی۔ (صحیح مسلم وغیرہ)
ــــــــــ
مآ اصاب مِن مصِیبةٍ فِی الارضِ ولا فِی انفسِم اِلا فِی کِتاب مِن قبلِ ان نبراہا اِن ذٰ لکِ علی اللہِ یسِیرOلِکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بِمآ اتاکم واللہ لا یحِب کل مختالٍ فخورٍO(الحدید آیت22،23)
نہیں پہنچتی ہے کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے (عالم ارواح میں یہ فلم پہلے چلا دی جسے آجAiکی وجہ سے سمجھنا بہت آسان ہے) دنیا میں معاملات رونما کرنے سے پہلے ۔بیشک یہ اللہ کیلئے آسان ہے۔ تاکہ تم افسوس نہ کرو جو تم سے فوت ہوجائے اور جو اللہ نے دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں۔بیشک اللہ شیخی بگھارنے والے بد دماغ فخر کرنے والے کو پسند نہیںکرتا۔
ــــــــــ
ان آیات کی تفسیر و احادیث کی تشریح
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہ کا مطلب سبھی کرشمے اسی سے ہیں ۔ یہ حدیث قدسی زبان زد عام ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک ”اگر آپ نہ ہوتے تو آسمانوں کو بھی میں پیدا نہ کرتا”۔ محدثین کے ہاں الفاظ نہیں ملا علی قاری نے مفہوم کے اعتبار سے درست قرار دیا ۔ اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا۔ابلیس لعین اور حضرت آدم سے نبی رحمت خاتم الانبیاء ۖ تک ایک آئینہ ہے۔
مولانا تھانوی نے ”نشر الطیب فی ذکر حبیب ۖ” میں پہلا باب نبی ۖ کے نورپر لکھا کہ سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کے نور کو اپنے نور سے پیدا کیااور حدیث ہے کہ ”میں اس وقت نبی تھا جب آدم مٹی میں تھے”۔ نبیۖ کو اللہ نے رحمت للعالمین قرار دیا ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اللہ کے دونوں صفات میں رحمت ہے اور قرآن میں نبی ۖ کو مؤمنوں پر الرؤف الرحیم بھی قرار دیا ۔ قرآن مشرقی نہ مغربی ہے، لعان کی آیات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ناجائز حلالہ کی لعنت مدارس میں جاری ہو اور لعان کی آیت منبر ومحراب سے عوام کے سامنے نہیں آتی ہے تو یہ زیتون کے تیل سے چراغ جلانا تو دور کی بات ہے مٹی کے تیل سے بھی نہیں بلکہ نور نہیں مذہبی طبقہ ظلمت پھیلا رہاہے اور سود کو اسلام کے نام پر اضافہ کیساتھ جائز قرار دیا تو نور نہیں بڑا اندھیرا پھیل رہاہے۔ معاشی، معاشرتی ، روحانی اور سیاسی نظام سے قرآن کو بے دخل کردیا تو اللہ کا نور دنیا میں کیسے پھیلے گا؟۔
یہ نورتیلی جلائے بغیر بھڑکنے کی صلاحیت رکھتاہے ۔ البتہ سورہ احزاب میں واضح ہے کہ ایک ظالم جاہل انسان پوری دنیا میں یہ نور کو پھیلانے کی ذمہ داری اٹھا لے گا تو اللہ رحم کرکے دنیا بھر میں عدل کا نظام قائم کرے گا تویہ اس کا ذاتی کمال نہ ہوگا ۔ معصوم انبیاء علیہم السلام کیلئے قرآن یہ سخت گستاخانہ الفاظ کیوں کرتا؟۔ نبیۖ نے محنت و مشقت کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپۖ کی وجہ سے دنیانے نظام عدل ،آزادی اور انسانیت کو سمجھ لیاہے۔
انبیاء کرام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ طرف سے ان کا چناؤ ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس قرآن اور اس کو ماننے والوں کی دنیا میں ایک بڑی تعداد ہے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن ہزاروی نے عالم ارواح میں اپنا موجودہ کردار خود چنا ہے ۔ ایک دن میں حلالہ کی لعنت کے خلاف قرآن ، حدیث اور فقہ حنفی کی درست تعلیم پیش کرکے ایک انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن ان دلوں اور دلالوں نے قرآن وحدیث کا نور نہیں سود کو جواز فراہم کرنے کا کردار عالم ارواح میں چن لیا تھا اور اس پر عمل کررہے ہیں۔ میں نے الحمد للہ کہ یہی کردار چن لیا تھا جس پر میں بھی خوش ہوں اور یہ بھی خوش ہیں۔ کل حزب بما لدیھم فرحون ”ہر گروہ اس پر خوش ہے جو عقیدہ ،ماحول اور فرقہ اس نے اپنا رکھا ہے”۔ یہ انتخاب اس کی مرضی کا ہے۔
پہلے رائٹر ایک کہانی لکھتا ہے پھر فلم اور ڈرامہ بنانے والے اداکار اس میں اپنے لئے ایک معاوضہ کے تحت اداکاری کا عہد سائن کرتے ہیں کہ اس نے یہ کردار ادا کرنا ہے۔ عہدالست کی قرآنی آیت کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہم نے اس شکل، گروہ اور نسل ونسب کے اندر اللہ کی ربوبیت کو ماننے کا اقرار کیا تھا اور اپنی اپنی جانوں کو گواہ بھی بنایا تھا۔ اللہ نے سورہ اعراف میں یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ ”ایسا نہیں ہو کہ قیامت کے دن تم کہو کہ ہمیں عہدالست یاد نہیں۔ یا یہ کہو کہ ہمارے پہلے والے اجداد نے جو ہمارے لئے ماحول بنایا تھا تو کیا ان کی وجہ سے تم ہمیں ہلاک کروگے جو باطل لوگوں نے ہمارے لئے بنایا؟”۔
قرآن میں اہل کتاب کو عہدالست کی دعوت ہے۔
قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئًا و لایتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون(ال عمران:64)
” کہہ دو کہ اے اہل کتاب آجاؤ اس بات کی طرف جو ہم اور تم میں برابر ہے کہ ہم عبادت نہیں کریںگے مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور ہم اپنے میں سے بعض کو بعض اللہ کے علاوہ رب نہیں بنائیںگے۔اگر پھر گئے تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں”۔
عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی تو آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بناتے تھے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تمہارے علماء ومشائخ اپنی طرف سے حرام وحلال کے فیصلے کرتے تھے تواس کو آپ نہیں مانتے تھے؟۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہم کرتے تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”یہی تو رب بنانا ہے”۔ سارے دیوبندی مدارس نے مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سودی نظام کو حلال قرار دینے کی مخالفت کی لیکن پھر اس کو وفاق المدارس کا صدر بنایا۔ کیا یہ رب بنانا نہیں ہے؟۔ یہ شرک نہیں ہے؟۔
قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غیب السماوات والارض ابصر بہ و اسمع مالھم من دونہ من ولیٍ ولایشرک فی حکمہ احدًا(سورہ کہف:26)
” کہہ دو کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے۔اس کیلئے آسمانوں اور زمین کا غیب ہے ۔اسکے ذریعہ دیکھ اور سن اور ان کیلئے اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا”۔
اللہ نے قرآن میں واضح کیا کہ ”یہود پر ہم نے کسی چیز کو بھی حرام نہیں کیامگر خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کیا” مثلا ہفتہ کے دن مچھلیوں کاشکار تھا لیکن پھر نافرمانی کی توعذاب میں پڑگئے اور چھٹی کے دن مچھلی کے شکار کیلئے حیلہ زیادہ برا ہے یا سودی نظام کو اسلامی قرار دینا؟۔ یہود سے بڑھ کر تو مفتی اعظم لوگوں کا کردار ہے لیکن انہوں عالم ارواح میں اپنے لئے یہ کردار خود چنا ہے اور ان کے ماننے والے مذہبی اور دنیاوی طبقہ نے بھی۔
سورہ الحدید کی آیت میں ہے کہ زمین میں کوئی مصیبت آتی ہے یا تمہاری جانوں میں تو یہ پہلے سے لکھی جاچکی ۔تاکہ اس پر افسوس نہیں ہو ۔لیکن دنیا کا ایک دستور ہے۔ واقعہ ہوتا ہے تو اسکے شرعی، قانونی، روایتی اور اخلاقی تقاضے ہوتے ہیں۔
عبیدہ بن جراح نے پوچھا یا رسول اللہ ۖ ! ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ہم نے اسلام قبول کیا، آپ کیساتھ جہاد کیا؟۔ فرمایا ہاں ۔ ایک قوم ہے جو تمہارے بعد آئے گی وہ مجھ پر ایمان لائیں گے اور انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔ شیخ البانی نے کہا کہ دارمی ، احمد، حاکم وغیرہ نے نقل کیا اور صحیح قرار دیا ۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: کن لوگوں کا ایمان عجیب ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: انبیاء ،فرمایا: ان کا کیوں؟ ان پر وحی نازل ہوتی ہے،عرض: فرشتوں کا!۔ فرمایا: وہ تو سب کچھ دیکھتے ہیں۔ عرض : پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ فرمایا : میں تمہارے اندر موجود ہوں اور وحی تمہارے سامنے آتی ہے۔ عرض : ہمیں نہیں معلوم۔ رسول اللہۖ نے فرمایا: عجیب ایمان ان لوگ کا ہے جنکے پاس قرآن کے سوا کچھ نہیں اور تمہاری طرح ایمان ہوگا۔ ایک کو50افراد کی طرح ثواب ملے گا۔ عرض ہوا۔ ہم سے50یا ان میں سے؟۔ فرمایا: تم میں سے50کے برابر۔
من احیاھا فکانما احیا الناس جمیعًا۔
ایک کا بدلہ تمام انسانوں کے برابر تو ایک کی عزت حلالہ سے بچانے پر؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ