پوسٹ تلاش کریں

بلوچستان میں شادی کے بعد دلہن پہلی رات کو ظالم سردار کے حوالے کی جاتی ۔مولانا منظور مینگل

بلوچستان میں شادی کے بعد دلہن پہلی رات کو ظالم سردار کے حوالے کی جاتی ۔مولانا منظور مینگل اخبار: نوشتہ دیوار

مولانا منظور مینگل نے اپنی تقریر میں کہا کہ پچھلے سال میں خیبر پختونخواہ دیر کے علاقہ میںگیا تو مجھے وہ عالم بھی ملا ۔ اس نے کہا کہ اس خان کو کہا تھا کہ تم حرام خور ہو، تم زناکار بدکار ہو! تو خان نے کہا کہ اس مولوی کو پکڑ کر لاؤ۔ ظالم پکڑ کر لائے اور اس کی زبان چھری سے کاٹ دی۔ وہ مولوی مجھے خود ملے، میں لوگوں سے سنتا تھا لیکن پروگرام میں گیا تو وہ مولوی خود مل گیا۔

ہمارے بلوچستان خضدار کا ایک سردار تھا، اس کا قانون تھا کہ لوگ نکاح کریں گے تو پہلی رات دلہن سردار کے حوالے کریں گے۔ ایک دن اس کی اپنی بہن کا نکاح تھا۔ سردار نے کہا کہ میں بہن کو نہیں جانتا ، عزت کو لوٹوں گا۔ بلوچ تو اس طرح کرے گا۔یہ سردار، چوہدری ، خوانین اور یہ بے دین ان کا حال یہی ہے۔ سردار کی بہن نے کچھ لوگوں سے کہا کہ میری عزت بچاؤ،سردار کے گن مین تھے رسائی مشکل تھے لیکن کچھ اللہ کے بندوں نے ہمت کرکے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔

ظالم لوگ بیوہ سے نکاح کرتے ہیں جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو اس کی پہلی شوہر کی بیٹی سے نکاح کرلیتے ہیں۔قرآن میں واضح ہے کہ اگر اس عورت سے ہمبستری نہیں کی ہے تو پھر نکاح کرسکتے ہیں لیکن ہمبستری کی ہے تو حرام ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے ایسے شخص سے کہا کہ تجھ پرلعنت ہو۔

مولانا مینگل کی خبر تہلکہ خیزہے کہ قوم سردار کے آگے لیٹی ہوئی تھی مگر بہن کا مسئلہ آیا توغیرت آئی؟۔ چلو کسی بہانے اچھا کام کیا۔مولانا مذہبی معاملات کو ٹھیک کرنے کی طرف آجائیں ورنہ کل اس کی اولادوں کی اولاد کہے گی کہ عتیق گیلانی نے بڑا کمال کیا ورنہ ہمارے بے غیرت مدارس میںیہ پڑھایا جاتا تھا وہ اپنی صلاحیت کو درست استعما ل کرے تو بلوچستان کے مظالم کا راستہ قرآن وسنت کی درست تعلیمات سے رک جائے گا۔

بخاری کا عنوان ہے کہ ابوسفیان کی بیٹی ام المؤمنین ام حبیبہ نے رسول اللہۖ کو اپنی سوتیلی بیٹیوں کی پیشکش کی تو آپۖ نے اپنے اوپر حرام قرار دیا۔ یہ سراسر جھوٹ تو نہیں ؟ اسلئے کہ بخاری کے استاذ الاستاذ مصنف عبدالرزاق کی روایت مولانا منظور مینگل کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے نقل کی ہے کہ حضرت علی نے ایک شخص سے کہا ،جس کی بیوی فوت ہوگئی تھی کہ اپنی بیوی کی اس بیٹی سے شادی کرو جو تمہارے حجرے میں نہیں پلی ہے۔ کہیں شافعی حنفی مسالک کیلئے روایات گھڑنے کا معاملہ تو نہیں تھااور یہ بھی لکھا ہے کہ ” لڑکے سے جنسی عمل کیا ہو تو اس کی ماں بالاجماع جائز ہے”۔(کشف الباری)

مولانا منظور مینگل بیوہ ماں کا بیٹا اور مولانا سلیم اللہ خان کا خاص الخاص شاگرد تھا۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کا صابر شاہ کیساتھ سکینڈل بھی آگیاتو پروپیگنڈہ کون روک سکتا ہے؟۔

دیر اور خضدار کی نسل کو مشکوک کردیا لیکن مسلکی غلاظتوں کو کیاصابر شاہ شیخ الحدیث بن کر ٹھیک کرے گا؟۔ اسی موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بات کہاں ہے؟۔ مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری شرح بخاری پر کیوں نہیں بولتے؟۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا بہت ہی بے غیرت طبقہ ہے جو مدارس کے نام پر حرام کی روٹی کھاتاہے۔

یزید ثانی بن عبدالملک کے دور میں بچیوں سے نکاح کو جائز کیا پھر بنوعباس دور میں حضرت عائشہ کا6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی کا جھوٹ گھڑا۔علماء حق، ریاست پاکستان، عوام اور صحافی یرغمال اسلام کو علماء سوء سے بازیاب کریں۔

وزیرستان و خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں کوئی خان ، نواب اور سردار ایسا تھا اور نہ ہی لوگ بے غیرت تھے اسلئے ان سے بہت بڑے معاشرتی اور عالمی انقلاب کی بڑی توقع ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا
قرآن اورخلق خداکی تبدیلی
قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟