پوسٹ تلاش کریں

شاگرد علی قاضی گورنر بصرہ ابوالاسود الدولی اُمت کا بہت بڑا محسن

شاگرد علی قاضی گورنر بصرہ ابوالاسود الدولی اُمت کا بہت بڑا محسن اخبار: نوشتہ دیوار

تبلیغی ڈانسر مہک ملک کا مولانا خرم کو پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر بہت فالورز ہیں تو ملنے کی خواہش ظاہر کی، ڈیرہ پر ملا تو مہک نے کہا کہ آپ ہوں توتبلیغ میں نکلتی ہوں ۔ مولانا نکلے تو پولیس وین کھڑی تھی ۔ ایک پولیس اہلکار مولانا کے محلے کا تھا۔ وہ دیکھ کر حیران ہوا کہ مسجد کا خطیب کہاں؟۔ پولیس نے کہا کہ اس شرط پر ہم جانے دیں گے کہ مہک ملک سے ہمیں بھی ملاؤ۔

نندور ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مولانا نے کہا کہ ” اگر عورت بچہ جن رہی ہو تو مواد نکلنے سے پہلے جتنا بچہ باہر نکلا ہو تو نماز پڑھنا فرض ہے”۔ ایک عورت نے کہا کہ ” تمہارے اندر مولی ڈالتی ہوں تو دیکھتی ہوں کیسے نماز پڑھتے ہو؟”۔

عربی گرائمر کے بانی خواجہ سرا تھے۔انگریزیG,I,Cکی مختلف آوازیں ہیں ۔ انگلش بغیر معانی ہوCatاورIceکا فرق کیاہے؟۔ انگریز کیلئے مشکل نہیں ۔ زبان سمجھے بغیر کیٹ (بلی) اور آئیس(برف) پر ثواب ملے تو تلفظ کا کیا ہوگا؟۔ مثلاًCکے اندر نقطہ تو کاف اور بغیر نقطہ سین پڑھا جائے۔GاورIپر نقاط مختلف آوازوں کی شناخت ہو۔ جن کو انگریزی نہیں آتی ہے تو حروف کی مختلف آوازوں کے قواعد لکھے ہوئے ہیں۔

جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پھیل گیا تو قرآن کو پڑھنا عجم کیلئے بڑا مسئلہ تھا۔ مثلاً حاجی کے لفظ کو ” حاحی” لکھتے تو بھی عربی ”حاجی ” پڑھتے مگر عجم ”خاخی، خاجی، جاحی اور حاخی پڑھتے۔ امام علی نے ابوالاسود الدولی کو عربی گرائمر کی تعلیم دی۔ اگر عربی پر اعراب و نقاط نہ ہوں تو عجم کیلئے ہی نہیں عرب کیلئے بھی مشکل ہوتی۔ خان عبدالغفار خان نے اپنی آپ بیتی میں لکھاہے کہ ” ہمیں علماء قاعدہ پڑھانے کے بجائے براہ راست قرآن پڑھاتے تھے۔موٹا ڈنڈا ہوتا تھا اور خوب مارتے تھے۔ جب میرا قرآن ختم ہوا تو والد نے بڑی دعوت رکھی تھی”۔

مفتی محمد امجد علی قادری ”تعارف امام ابوحنیفہ: بشارات و اقوال کی روشنی میں” لکھتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ کے مقام، شان، فضائل، مناقب پر مختلف احادیث رسول (ۖ) اور اقوال ائمہ کرام ، مفسرین ، محدثین ، اہل مذہب اور صوفیاء کرام نے بیان کئے ۔ دعائے مولائے کائنات شیرخدا رضی اللہ عنہ:

(1):اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت فرماتے ہیں کہ

حضرت ثابت بچپن میں حضرت علی المرضیٰ شیر خدا کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپنے ان کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے برکت کی دعا فرمائی ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا کی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرمالیا ہے اور (اس کا نتیجہ حضرت امام ابوحنیفہ ہیں)

(11):حضرت سخی سلطان با ھو ارشاد فرماتے ہیں :

یادرہے کہ اصحاب کرام ۖ کے بعد فقر کی دولت دو حضرات نے پائی۔ ایک غوث صمدانی شاہ محی الدین عبدالقادر (قدس سرہ) اور دوسرے امام ابوحنیفہ کوفی جو ایک تارک دنیا صوفی تھے ۔ آپ نے ستر برس تک کوئی نماز قضا کی نہ روزہ۔ کیونکہ ان اعمال کی قضا بندے کو اہل دنیا کا ہم نشین بناتی ہے۔

(12):آپ مشکل سے مشکل مسئلے کو اتنی آسانی سے حل فرماتے کہ بڑے علماء حیران ہوجاتے،

کس قدر عقلمند تھے ؟ اس کا اندازہ امام شافعی کے اس فرمان سے لگا لیجئے کہ” عورتوں نے امام اعظم ابوحنیفہ سے زیادہ عقلمند شخص پیدا نہیں کیا”۔

اورنگزیب عالمگیر مغل بادشاہ کے دور میں ملاجیون نے یہ لکھا کہ ” امام ابوحنیفہ کے نزدیک عربی میںنماز پڑھنے پر قادر ہونے کے باوجود بھی فارسی میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے اور اس کی علماء نے ایک وجہ یہ لکھی ہے کہ امام ابوحنیفہ ایک بہت ہی بڑے اللہ والے تھے اور عربی کی خوبصورت قرآت سجاوت اور الفاظ کی بناؤٹ کو بندے اور اللہ کے درمیان مخل سمجھتے تھے جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ رسول اللہۖ نے فارسی پر تلفظ فرمایا ہے”۔

جب تک کوئی امام ابوحنیفہ کے مذہب کی بہتر تاول پیش نہیں کرتا تو مدارس کے نصاب تعلیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

میرے بہت معتمد ساتھی منیر احمد عباسی نے خواب دیکھا:

”میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہوں اور بہت بڑا میدانی علاقہ ہے ،اس جگہ پرگھوڑوں پرلوگ جمع ہورہے ہیں جنگی سامان کیساتھ، پھر اچانک ایک شخص گھوڑے پر سوار پہنچتا ہے ،انکے بال لمبے تھے اور غالباً سفید رنگ کا عمامہ سر پرتھا ، ہاتھ میں تلوار تھی تو دوران میں نظر ایک اونچی دیوار پر پڑتی ہے اور میرے ذہن میں القا ہوتا ہے کہ یہ شخص حضرت علی ہیں ،یہ تقریبا14سو سال سے حالت جنگ میں ہیںاور وہ (حضرت علی) اور ان کا لشکر اس دیوار کے پاس آکر رک جاتا ہے۔ پھر جب میری آنکھ کھلی تو فجر کی آذان ہورہی تھی۔ منیراحمد عباسی کورنگی کراچی

جنگ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علی کے ساتھی ابوالاسودبعثت نبوی سے16سال پہلے پیدا ہوئے۔ بصرہ کے قاضی رہے اورپھر گورنر بنے۔ قرآن پر اعرب لگادئیے تو بغیر سمجھے قرآن پڑھنا آگیا ۔ امام ابوحنیفہ نے نماز بغیر سمجھے پڑھنے سے فارسی میں سمجھ کر پڑھنا بہتر قرار دیا۔ جس میں صراط الذی انعمتَ علیھم (تو نے انعام کیا)اور انعمتُ (میں نے انعام کیا) کا پتہ نہیں چلتا ۔جاہل یہ کفر بکتا تھا۔چوہدری افضل حق نے لکھا: ہماری مذہبی زبان عربی، سرکاری انگریزی ، قومی اردو، مادری اپنی اسلئے پسماندہ ہیں۔ اللہ نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر قوم کی زبان سے۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے لکھا کہ ” قرآن میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانا منع ہے یہاں تک کہ سمجھ میں آئے کہ کیا کہہ رہاہے لیکن جب معنی نہیں آتا ہو تو پھر عربی میں پڑھنے کے باوجود سمجھ نہیں آتا”۔

اورنگزیب بادشاہ کے دور میں ملاجیون نے ”نورالانوار” میں امام ا بوحنیفہ کے مسلک کا لکھا کہ عربی سے فارسی میں نماز پڑھنا بہتراورنگزیب کا پوتا محمد شاہ رنگیلا بالاخانے پر ننگی لڑکیوں کے سینے پکڑپکڑ کر سیڑھیاں چڑھتا۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا تو علماء نے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور خوف سے کئی سال روپوش رہنا پڑا۔

منیراحمد عباسی کے خواب کی تعبیر پاکستان ہے۔

ایرانی امام علی کے نام لیوا مگر پیروکار نہیں۔ افغان طالبان امام ابوحنیفہ کے دعوایدار مگر پیروکار نہیں۔ :

الذین یجتنبون کبائر الاثم و الفواحش الا اللم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذ انشأکم من الارض و اذ انتم اجنة فی بطون امھاتکم فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰیO

”وہ جو بڑے گناہوں اور فحاشی سے بچتے ہیںمگر …بیشک تیرا رب بہت ہی وسیع بخشش والا ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے جب تمہیں زمین سے نشوونما دی اور جب تم ماؤںکے پیٹ میں جنین تھے۔ پس تم اپنے آپ کو پاک مت سمجھو ، وہ تقویٰ کو زیادہ جانتا ہے”۔ (سورہ النجم آیت:32)

پشتو میں ”خو” استثناء کیلئے اور بے عیب کیلئے اور عربی میں ”الا”استثناء کیلئے ۔عربی لغت میں اللمم نہیں ۔ یہ لِمَ لِمَ لگتا ہے ۔ خواجہ سرا کو بچے چھیڑتے ہیں۔گھراور باہر عزت نہیں ۔ سرغنہ بدمعاش پناہ دینے کے عوض بدکاری کرواتا ہے، جنسی خواہش نہیںمگر جبری زیادتی۔ پولیس تشدد کرتی ہے۔ عورت مارچ میں ایک خواجہ سرا نے ”میرا جسم میری مرضی”کا پلے کارڈ اٹھایا تو مذاق بنایا ۔ گناہ صغیرہ کی تفسیرکی واسع المغفرةکا لفظ نفی کرتا ہے۔
سورہ فرقان میں شرک، قتل اور زنا کو سخت جرم قرار دیا لیکن توبہ اور اصلاح کے بعد گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی بشارت ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم خصی نہ ہوجائیں؟ مگر نبیۖ نے منع کیاپھر ایک کپڑے پر عورت سے نکاح کی رخصت دی اور یہ آیت تلاوت فرمائی ” اے ایمان والو! حرام نہ کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اور حد سے تجاوز نہ کرو بیشک اللہ حدسے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” ۔المائدہ87صحیح بخاری کی اگلی روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”جو تمہارے ساتھ پیش آنے والا ہے اس پر قلم خشک ہوا ہے۔ ابن عباس نے کہا کہ سعادتمندوں کا مقدر لکھا جاچکا ہے”۔

مناظرہ ہواتوملحد نے خدا کو مانااور عالم ملحد بن گیا۔ مولانا احمد رضا خان نے بچپن میں خواتین سے پردہ کیلئے قمیص سے منہ چھپایا ۔شلوار نہ تھی اوزار دِکھ گئے۔سعودی عرب نے وہابی اسلام نافذ کیا اور ایران نے شیعہ۔ ایران نے متعہ جاری رکھا ، عورتوں کو پردہ کروایا۔سعودیہ نے شیعہ کی پیروی میں مسیار بلکہ شاہ ایران کی یاد تازہ کردی۔ ہمارے افغانی بھائی پھنس گئے۔

دین میں جبر،رسولوں کی تفریق نہیں ۔ علماء کو رب بنانا منع مگر سودی نظام کو اسلامی قرار دیاتو کیا باقی ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا: اگر جریج راہب سمجھدارعالم ہوتا توجانتا کہ ماں کی آواز کا جواب دینا اپنے رب کی عبادت سے بہترہے۔ (بخاری) علماء نے اس سے یہ مولی والا فقیہ مراد لیا ہے مگر سمجھدار مراد ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

– المھدی موجود علی الانترنت
قرآن کی روشنی میں شیخ ابن عربی کی فکرکا تجزیہ
قرآن عدل وتوازن سے وہ انقلاب پیدا کرتاہے کہ زمین میں انصاف ، برزخ اور آخرت کی بشارت ہو۔