اگر معصوم عن الخطاء سے ختم نبوت کا انکار ثابت ہوتا ہے تو پھر اکابرین کی فہرست صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہی شروع ہوتی ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ تک کسی بھی صحابی کو معصوم سمجھنا انکار ختم نبوت ہے۔ جس کی وجہ سے شیعہ پر کفر کے فتوے لگاتے ہو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں معصومیت کا عقیدہ رکھنے سے شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں اگر شیعہ علی کی معصومیت پر ختم نبوت کے منکر ہیں تو امیرمعاویہ پر اجتہادی خطاء سے انکار کی وجہ سے تم ختم نبوت کے منکر نہیں ہو؟۔ تو یہ بتائیں کہ کونسا گدھا تمہاری ماں پر چڑھ گیا ہے کہ تم اپنے لئے استثناء سمجھتے ہو کہ یہ ختم نبوت کا انکار تمہارے لئے نہیں ہے؟ ضرور جواب دو تاکہ لوگوں کو مطمئن کرسکو۔
محمد اعظم۔۔۔۔۔ @MuhammadAzam-e5c9f
امیر معاویہ رضی اللہ تعالی کے بارے ایک خاص موقعہ پر اجتہادی خطا کی بات ہے اور شیعہ ہر ہر قول وفعل میں اپنے اماموں کو معصوم عن الخطا مانتے لہٰذا بات سمجھ نہ آئے تو بیہودگی کی ضرورت نہیں۔
تبصرہ عتیق گیلانی:
اکابر پرستوں سے کون مراد ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے کی گردنیں اڑائی ہیں اور یہ معصومیت کی نفی ہے مومنین ایک دوسرے کے خلاف میدان میں قتال کریں گے تو یہ اجتہادی خطأ کا لفظ بہت ہلکا ہے البتہ قرآن نے صحابہ کرام کی تعریف میں کہا ہے کہ وہ آپس میں رحيم ہیں تو اس قتال پر بھی حسن ظن ایمان کا حصہ ہے۔ فتح مکہ سے پہلے اور فتح مکہ کے بعد والوں کے درجات میں بھی قرآن نے فرق واضح کیا ہے۔ حضرت علی آور امیرمعاویہ کے درجات میں قران نے فرق رکھا ہے۔ خلافت راشدہ کی باتیں کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ شیعہ اور رافضی کو جواب دینے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ حضرت حسن و حسین کی حمایت سے امیرمعاویہ نے 20 سال حکومت کی ہے۔ باقی فضولیات بکنے کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ کافر کافر شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر ہے لیکن یہ نعرہ صرف مولانا فضل الرحمان کے خلاف استعمال ہوا تھا اور سعودی عرب کی حکومت جن شیعہ کو مسلمان کی حیثیت سے حرمین میں جانے دینے تھے تو اس پر اپنی دم پچھواڑے میں ڈال دیتے تھے۔ صرف مولانا حق نواز جھنگوی شہید کا قائد مولانا فضل الرحمن کیوں نشانہ بنتا تھا؟ حالانکہ مولانا حق نواز جھنگوی نے جس عابدہ حسین سے شکست کھائی تھی اسی کے ساتھ اتحاد سے مولانا ایثار الحق جھنگ کی سیٹ جیت گیا تھا۔ تمہارا دماغ اس وقت درست ہوگا کہ جب سخت بات سننے کی سکت رکھو۔ مدارس نے شیعہ کو کافر قرار دیا اور اب وہ اتحاد تنظیمات المدارس کا حصّہ ہیں۔ مذہب کی غلط شکلیں پیش کرکے مکر جانا ہے تو پیش مت کرو۔
جواب الجواب کیوں مٹادیا، ؟ جب تمہارا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اجتہادی خطا نہیں ہوسکتی ہے تو شیعہ اور تم میں کیا فرق ہے؟
محمد اعظم۔۔۔۔۔ @MuhammadAzam-e5c9f
محترم اہل سنت کا یہ عقیدہ کہ صحابہ سے خطائے اجتہادی نہیں ہو سکتی ہم نے نہ پڑھا یا سنا۔ بات یہاں خاص موقع کی خطا کی ہو رہی ہے نہ مجموعی طور پر عقیدہ ہے۔ معاملہ مشاجرا ت کا جس میں دونوں طرف مجتہد صحابہ ہیں۔ یہاں علماء کی مختلف آراء ہیں کہ کون خطا پر ہے۔
تبصرہ عتیق گیلانی:
دیکھو اجتہادی خطا کا آپ شاید مطلب بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ جب غزوہ بدر میں مشاورت سے فدیہ لیکر معاف کرنے کی رائے اکثریت کی تھی اور حضرت عمرفاروق اور حضرت سعد بن معاذ کی رائے قتل کرنے کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اکثریت کی رائے پر دیا لیکن اللہ نے وحی نازل کی کہ
ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض ۔۔۔۔۔ نبی کےلئے مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ آپ خوب خون بہائیں تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اگر اللہ پہلے سے لکھ نہیں چکا ہوتا تو سخت ترین سزا دیتا۔
قرآن کی یہ آیات جب نازل ہوئیں تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے وہ عذاب دکھایا اور فرمایا کہ اگر یہ عذاب نازل ہوتا تو عمر اور سعد کے علاوہ کوئی بھی نہیں بچتا۔ پہلے اس بات کی وضاحت کردوں کہ اجتہادی خطاء پر صواب ملتا ہے عذاب نہیں۔ اور یہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سوائے عمر وسعد کے عذاب کی خبر قرآن اور حدیث میں دی جارہی ہے تو یہ اجتہادی خطاء نہیں ہے۔ پھر یہ کیا ہے؟
چونکہ صحابہ کرام اپنی جانوں اور عزیزوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے تو آپ کی وجہ سے آپ کے چچا عباس اور داماد کو قتل نہیں کیا اور مشورہ بھی اسلئے دیا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقارب کو قتل کرنے پر آپ کو تکلیف نہیں ہو۔ لیکن اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا لیکن معاف کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے بیٹے نے کہا کہ ایک دفعہ میرے نشانہ پر آئے لیکن میں نے قتل نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ اگر آپ میرے نشانہ پر آتے تو میں نہیں چھوڑتا۔ یہی وہ تزکیہ تھا جس کیلئے صحابہ کرام کی تربيت میں اللہ اور اس کے رسول نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
یہاں پر نبی صلی لله علیہ وسلم نے اجتہاد فرمایا تھا کہ ایک طبقے کا مشورہ حضرت ابراہیم علیہ السلام والا ہے اور دوسرے کا حضرت نوح علیہ السلام والا۔ لیکن میں ابراہیم والا پسند کرتا ہوں۔ اللہ نے کافروں کے خلاف نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی لیکن ابراہیم علیہ السلام کی رحم کی دعا قبول نہیں۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کیلئے اپیل کی تو اللہ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا جس پر حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے معافی مانگی۔ اب ذرا سوچئے کہ حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہا کہ اپنے ہاتھ سے قتل کرتا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آپ کا کیا مقام ہوگا؟۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ محمد رسول اللہ کے ساتھیوں کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی میں نے کیا ہے۔ میرے بڑے بیٹے کا نام میں نے ابوبکر دوسرے کا عمر رکھا ہے۔ صحابہ کرام کی عظمت کو روافض کچھ نہیں کرسکتے۔ لیکن جیسے دو ہاتھ سے تالی بجتی ہے اس طرح ان کے مقابلے بازی میں اہل سنت کے لوگوں کو طبلہ نہیں بجانا چاہیے۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید اور سپاہ صحابہ کے کارکنوں نے مشکل وقت میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہم ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن اب دلائل اور سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ پوری دنیا سے بھونک رہے ہیں اب ہمارے لئے چھوڑ دیں۔ انشاء اللہ جلد شیعہ پوری دنیا میں صحابہ کرام کی گستاخی تو دور کی بات ہے ہماری طرح دل وجان سے احترام کریں گے۔ میں نے شیعہ سنی کی مناظرانہ کتابیں پڑھی ہیں۔ معروف شخصیات مولانا نورالحسن شاہ بخاری کو سنا اور پڑھا ہے۔ مولانا عبدالستار تونسوی کے کپڑے دھوئے ٹانگیں دبائی ہیں۔ مناظرہ پڑھا ہے۔ بنوری ٹاؤن کراچی میں سارے چھٹیوں میں پڑھانے آتے تھے لیکن مناظرانہ دلائل کو اس وقت بھی بے کار پاتا تھا۔ اخلاقی اقدار زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔
دیکھو! آپ نے مجھے گالی سے نہیں اخلاق سے شکست دے دی۔اور جس طرح آپ کا مجھ سے اختلاف کے باوجود اچھا رویہ ہے تو میں مخالفین کو ان کے ماحول کی وجہ سے زیادہ مستحق سمجھتا ہوں اور آپ کو اپنا سمجھ کر ڈانٹ دیا۔