تبصرہ عتیق گیلانی
———
وڑائچ صاحب !!
آپ کا ولاگ اچھا لگتا ھے ، کیونکہ اس میں خلوص نظر آتا ھے ۔
آپ ایک صحافی ھیں اور صحافت مذھبی تجارت کی طرح نہیں ھے ۔
ایک کتاب رؤف کلاسرا صاحب نے لکھی ۔ ۔
"وہ ایک قتل جو نہیں ھوسکا”
مارکیٹ سے خرید لیں اور پڑھ لیں۔
سلمان تاثیر اور آصف علی زرداری پر ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا جس میں چیف جسٹس لاھور ھائیکورٹ خواجہ شریف کے قتل کی منصوبہ بندی سلمان تاثیر گورنر پنجاب اور زرداری پر ڈالنے کا معاملہ تھا ، جو ایک کانسٹیبل کی وجہ سے ناکام ھوا تھا ۔
نذیر ناجی نے انصار عباسی کو جیونیوز پر کتے کا بچہ قرار دیا تھا ۔ ۔ ۔ اگر اس سازش کے محرکات کو پکڑا جاتا تو ۔ ۔
پھر سلمان تاثیر کے قتل تک بات نہیں پہنچتی ۔
سلمان تاثیر کے قاتل کو 500 وکیلوں نے ھار پہنائے تھے !
جن میں ایک بھی مولوی نہیں تھا۔
جماعت اسلامی اور مولانا سمیع الحق نے بھی عوامی جذبات سے فائدہ اٹھانے کیلئے منصوبہ بنایا تھا ۔ ۔ ۔ مگر
مولانا سمیع الحق کو مار دیا گیا !
اور ۔ ۔ ۔
جماعت اسلامی پتلی گلی سے نکل گئی ۔
جب مشال خان کو یونیورسٹی میں بہت ھی بے دردی سے شہید کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ اور
جماعت اسلامی نے قاتلوں کے حق میں پشاور کے اندر جلسہ کیا تھا !
میں مذھبی جماعتوں کی حمایت نہیں کرتا ھوں ۔ ۔ ۔
لیکن ۔ ۔
عوام الناس کے حالات بھی درست نہیں ھیں ۔
پشاور میں ہندو اور سکھوں کا شمشان گھاٹ کا مطالبہ حکومت نے پورا نہیں کیا لیکن مولانا فضل غفور نے بونیر میں سکھوں کیلئے شمشان گھاٹ بنادیا ھے ۔ ۔ ۔ اگر مذھب کی طرف اچھے لوگ آجائیں گے تو عوام میں بھی اچھے جذبات پیدا ھوں گے۔
قرآن میں اللہ تعالٰی نے عورت کو کھلی فحاشی پر قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ھے ۔
سورہ نور پڑھ لیں اور ۔ ۔ ۔ سوچیں کہ 14 سو سال پہلے قرآن نے عدم تشدد کا جو درس دیا تو ترقی یافتہ دنیا نے آج قبول کیا ھے ۔
اگر مسلمان اس سے محروم ھیں تو اس میں ان کا اپنا قصور ھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان سے بڑی جرات نہیں ھو سکتی ھے ۔ ۔ لیکن قرآن نے وھی سزا دی ھے جو عام عورت پر بہتان لگانے کی ھے ۔
ھمارے یہاں جس نے جتنی کرپشن کی ھو تو اس حساب سے اس کی ھتک عزت کا دعوٰی بھی بڑا ہوتا ھے ۔
شہریار وڑائچ کے کمنٹس
————–
شکریہ !
آپ ھمیشہ بہت ساری معلومات شیئر کرتے ھیں اور میرے علم میں اضافہ کرتے ھیں ۔ ۔ ۔