جس آیت کی آپ نے تلاوت فرمائی اس کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اکابرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت عمر جذباتی ہوگئے اور آپ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے حضرت ابوبکر صدیق نے اسی آیت سے استدلال فرمایا اور پھر خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جن لوگوں نے اسلام چھوڑ دیا یا زکوۃ دینے سے انکار کردیا تو ان کے خلاف قتال کیا۔ حضرت عمر نے شروع میں بھی اس جبر کی مخالفت کی اور پھر آخر میں یہ بھی فرمایا کہ کاش ہم نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھ لیتے۔ حضرت عثمان کے آخری دور میں پھر خلیفہ کو مسند پر شہید کیا گیا کیا۔ یہ وہی لوگ تو نہیں تھے جن کو زکوۃ دینے یا ارتداد سے واپس آنے پر مجبور کیا گیا تھا؟۔
سوال یہ ہے کہ اگر اس وقت لوگ الٹے پاؤں پھر کر واپس نہیں آتے تو قرآن ان کو زبردستی مجبور کرتا؟۔ قرآن سے تو یہ نہیں لگتا ہے اور حدیث کا حضرت عمر نے منع کیا تھا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ جب معاملہ صرف قرآن تک ہی محدود تھا اور اس کو سمجھنے میں حضرت عمر نے مغالطہ کھایا اور حضرت ابوبکر نے سمجھادیا تو اس میں شک نہیں کہ دونوں میں آفتاب اور مہتاب کی نسبت تھی لیکن اس وقت مدارس اور یونیورسٹیوں کے درجات نہیں تھے۔ البتہ ان کے طرز عمل سے خلوص ثابت ہوتا ہے اور پہلوں پر اور خاص کر صحابہ کرام اور خلفاء راشدین پر بدگمانی بالکل بھی جائز نہیں ہے۔ اگر انصار اور مہاجرین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر اختلاف ہوا تھا تو اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نامزد کردیتے تو شاید آج یہ بحث نہیں ہوتی۔
بابا جی! آپ کے پیر قبر میں ہیں کوئی دین کی خدمت کیجئے۔ اگر یزید کے دور میں حسین اور عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن ابی بکر جیسے لوگوں نے یزید سے اختلاف کیا ہے تو اس پر بھی آج لوگ کہتے ہیں کہ یزید افضل سمجھدار اور اہل تھا۔ بنی امیہ والے فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے لیکن خلافت پر موروثی قبضہ کرلیا، اس کا دفاع کیجئے تاکہ بادشاہت اور مذہبی موروثیت کو جواز مل سکے زیادہ پرانی باتیں مت چھیڑئیے۔