تبصرہ
مفتی ندیم درویش صاحب! آپ نے مولانا انور شاہ کشمیری کا ذکر کیا۔ انہوں نے زندگی کے آخر میں فرمایا کہ میں نے قرآن و حدیث کی خدمت نہیں کی ساری زندگی فقہ میں ضائع کردی۔ قرآن کی جو تعریف اصول فقہ میں پڑھائی جاتی ہے اگر سکول اور کالجوں میں میں یہ پڑھائی جائے تو شاید درس نظامی والوں کی آنکھیں کھل جائیں اور اپنی تعلیم درست کرلیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فتاوی قاضی خان اور فتاوی شامی میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا ہے۔ اگر آپ ایک دفعہ عوام کو سمجھا دیں کہ قرآن کی تعریف کیا ہے۔ مولانا عطاء الرحمان، مولانا محمد خان شیرانی اور قاری عثمان کو تو یہ کفر لگا تھا اور مفتی نعیم جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی نے بھی کفر قرار دیا تھا۔ آپ تھوڑا غور کرکے بتائیں شاید لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں۔