سلیم صافی صاحب ! آپ نے سوالات کئے اور جوابات بھی مل گئے۔ ہر سوال کے 100 نمبر اور جواب کے بھی 80 سے اوپر رکھ لیں۔ لیکن جب آپ نے تعارف کرایا اور آخر میں تجزیہ کی دعوت دی تو پھر سب کو زیرو سے ضرب دینا ہوگا۔ اور نتیجہ زیرو نکلے گا۔ غامدی صاحب جس بے دھڑک انداز میں قرآن کی بنیاد پر احادیث صحیحہ کو رد کرتے ہیں تو ان کی مرضی ہے۔ معاشرے میں دو طبقات ہیں ایک اشرافیہ اور دوسرے غریب۔ علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں بھی اس کو پیش کیا تھا۔ غامدی صاحب کے سامنے پڑھا لکھا طبقہ ہے لیکن اس کے سامنے بھی اسلام کی تعبیر ایسی پیش کرتے ہیں کہ جیسے کوئی مزاحیہ کردار زید حامد کا ٹی وی پر خاتون کو درس دیتے ہوئے سامنے آتا تھا۔ ایک خود یہ ہوتا ہے اور دوسرا اس کا داماد حسن الیاس۔ لگ یہ رہا ہے کہ جیسے مذہب کے نام پر ایک نئے کاروبار کو دوام بخشا جارہا ہے۔ قرآن نے تمام آیات میں اس بات پر فوکس رکھا ہے کہ عورت کو طلاق کے حوالے سے تمام اذیتوں سے بچایا جائے۔ رجوع کی آیات بھی اسی بنیاد پر رکھی گئی ہیں۔
زمانہ جاہلیت میں اکٹھی تین طلاق پر حلالہ کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن قرآن نے اس کا حل نکالا ہے کہ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر اس کو لوٹانے کا زیادہ حق دار ہے۔
جس سے ایک دوسرا بنیادی معاملہ بھی حل ہوگیا کہ صلح کے بغیر شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے۔
تیسرا مسئلہ بھی حل ہوگیا ہے کہ میاں بیوی کے لیے کسی اور شخص کے پاس مسئلہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
پھر اگلی آیت میں مزید وضاحت ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد بھی معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے اور تیسری مرتبہ طلاق دی تو پھر اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دے دیا ہے کہ شوہر نے جو کچھ بھی دیا ہے واپس نہیں ہوسکتا لیکن ایک استثناء رکھا ہے کہ کوئی ایسی چیز ہو کہ رابطہ کرنے اور جنسی تعلق سے حدود توڑنے کا باعث بن جائے تو عورت کی طرف سے وہ فدا کرنے میں حرج نہیں۔ فدائی حملوں سے ہم تباہ ہوگئے مگر آیت سمجھ میں نہیں آئی۔ اب ذرا سوچیں کہ اللہ طلاق کے بعد عورت کو تحفظ دے رہا ہے اور غامدی خلع مراد لیکر عورت کا استحصال کررہا ہے۔ اس وضاحت کے ساتھ ایک اور مشکل ہوتی تھی کہ عورت کو پھر بھی اشرافیہ یا طاقتور اور غیرت مند لوگ اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اللہ نے یہ معاملہ بھی حل کردیا کہ اس طلاق کے بعد جس کی تمام صورتحال آیت 229 میں بیان ہوچکی ہے فرمایا کہ اگر پھر طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ اس آیت کا مقصد جاہلیت کے حلالہ کو زندہ کرنا نہیں تھا بلکہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جیسے سردار طلاق کے بعد عورت کو اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اس کا توڑ کیا گیا۔ اور پھر اگلی آیات 231 اور 232 میں رجوع کی باہمی رضا مندی سے نہ صرف اجازت دی بلکہ ایک روگ لگایا کہ عورت کو اذیت دینے کیلئے رجوع مت کرو اور یہ بھی واضح کیا کہ باہمی رضا مندی سے رجوع میں کوئی رکاوٹ مت ڈالو۔
غامدی صاحب نے اپنے غلط اجتہاد سے کیسے بیڑہ غرق کیا ہے۔ حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکٹھی تین طلاق پر فیصلہ نہیں کیا بلکہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسا کیس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رجوع کی اجازت نہیں دیتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اسی وجہ سے حرام کے لفظ پر رجوع کی اجازت نہیں دی تھی۔ لیکن غامدی صاحب کہتے ہیں کہ جیسے نماز کے مسائل ہیں کہ سجدہ سہو ہوگا یا نماز دوہرائی جائے گی اگر ایک آدمی کہتا ہے کہ تین پدو ایک کی نیت سے مارے تو کیا ایک پدو شمار ہوگا؟ بہت فضول قسم کے من گھڑت اجتہادات نکالے ہیں۔